ڈھاکا: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران ایک اہم پیشکش کرتے ہوئے بنگلہ دیشی امپائرز کو پاکستان میں تربیت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے مشیر برائے امور نوجوانان اور کھیل آصف محمود سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس ملاقات میں ویمن کرکٹ، نوجوانوں کی ترقی، اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے جدید سیکیورٹی نظام سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بنگلہ دیشی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ نادرا کے نظام کا جائزہ لے اور کرکٹ کے مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کی جائے۔
ڈھاکا میں اہم ملاقات
محسن نقوی نے ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے مشیر برائے امور نوجوانان اور کھیل آصف محمود سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں اور نوجوانوں کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ملاقات میں پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈز کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے پر اتفاق کیا گیا، جو کرکٹ کے فروغ، تربیتی پروگرامز، اور دوطرفہ سیریز کے انعقاد کو ممکن بنائے گا۔
محسن نقوی نے بنگلہ دیشی امپائرز کے لیے پاکستان میں تربیت کی پیشکش کی، جس کا مقصد بنگلہ دیش کی کرکٹ میں امپائرنگ کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کے پاس جدید تربیتی سہولیات اور تجربہ کار امپائرز موجود ہیں، جو بنگلہ دیشی امپائرز کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کر سکتے ہیں۔ اس پیشکش کو بنگلہ دیشی حکام نے سراہا اور اسے دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
ویمن کرکٹ اور نوجوانوں کی ترقی پر توجہ
ملاقات کے دوران ویمن کرکٹ کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ محسن نقوی نے بنگلہ دیشی وفد کو بتایا کہ پی سی بی نے حالیہ برسوں میں ویمن کرکٹ کو ترقی دینے کے لیے متعدد پروگرامز شروع کیے ہیں، جن میں ویمن کرکٹرز کے لیے تربیتی کیمپس، ڈومیسٹک ٹورنامنٹس، اور بین الاقوامی سیریز شامل ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک ویمن کرکٹ ٹیموں کے درمیان دوطرفہ سیریز اور تربیتی پروگرامز کے ذریعے تعاون بڑھائیں۔
اس کے علاوہ، نوجوانوں کی اسکلز ڈیولپمنٹ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ترقی پذیر ممالک ہیں، اور ان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے تعلیمی، تکنیکی، اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے تجربات کے تبادلے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
نادرا کے جدید نظام میں بنگلہ دیش کی دلچسپی
محسن نقوی، جو وفاقی وزیر داخلہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں، نے بنگلہ دیشی وفد کو نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے جدید سیکیورٹی نظام سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا کا نظام شناختی دستاویزات کو فول پروف بنانے اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں عالمی معیار کے مطابق ہے۔ بنگلہ دیش کے مشیر آصف محمود نے نادرا کے نظام میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور اسے اپنے ملک کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیا۔
محسن نقوی نے بنگلہ دیشی وفد کو نادرا کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کی دعوت دی، جسے وفد نے قبول کر لیا۔ ذرائع کے مطابق، بنگلہ دیشی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ نادرا کے آپریشنل ڈھانچے کا جائزہ لے اور اس کے تجربات سے استفادہ کرے۔ اس دورے کے دوران کرکٹ کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔
ملاقات میں شریک اہم شخصیات
اس اہم ملاقات میں بنگلہ دیش کے امور نوجوانان اور کھیلوں کے سیکریٹری محمد محبوب العالم، لوکل گورنمنٹ ڈویژن کے سیکریٹری محمد رضا المقصود جہدی، پاکستان ایمبیسی ڈھاکا کے ناظم الامور محمد واسع، قونصلر کامران ڈھانگل، اور دیگر سینئر حکام شریک تھے۔ ملاقات میں شمسی توانائی کے شعبے میں جدت اور تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو دونوں ممالک کے لیے ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے اہم ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر صارفین نے محسن نقوی کی اس پیشکش کی تعریف کی اور اسے پاک-بنگلہ دیش تعلقات کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "پی سی بی کا بنگلہ دیشی امپائرز کو تربیت دینے کا فیصلہ کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک عظیم اقدام ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "محسن نقوی نے نادرا اور کرکٹ دونوں شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ یہ تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔” کئی صارفین نے ویمن کرکٹ کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں خواتین کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
محسن نقوی کی بنگلہ دیشی امپائرز کے لیے تربیت کی پیشکش اور دوطرفہ کرکٹ تعاون کا معاہدہ پاک-بنگلہ دیش تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ کرکٹ دونوں ممالک کے لیے ایک مشترکہ جذبہ ہے، اور اس شعبے میں تعاون نہ صرف کھیل کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی رابطوں کو بھی مضبوط کرے گا۔ بنگلہ دیشی امپائرز کے لیے تربیت کی پیشکش ایک اسٹریٹجک اقدام ہے، جو پاکستان کی کرکٹ انفراسٹرکچر کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے اور خطے میں اسے ایک لیڈر کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ویمن کرکٹ کے فروغ کے لیے مشترکہ پروگرامز پر اتفاق ایک قابل تحسین قدم ہے، کیونکہ دونوں ممالک میں خواتین کھلاڑیوں کو ابھی تک وہ مواقع نہیں ملے جو مرد کھلاڑیوں کو حاصل ہیں۔ یہ تعاون نہ صرف ویمن کرکٹ کے لیے نئے دروازے کھولے گا بلکہ خطے میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں بھی مدد دے گا۔
نادرا کے نظام میں بنگلہ دیش کی دلچسپی اور وفد کے مجوزہ دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی تکنیکی صلاحیتیں عالمی سطح پر تسلیم کی جا رہی ہیں۔ نادرا کا ڈیجیٹل سیکیورٹی ماڈل، جو شناختی دستاویزات کو محفوظ بنانے میں ایک عالمی معیار ہے، بنگلہ دیش جیسے ممالک کے لیے ایک رول ماڈل بن سکتا ہے۔ یہ تعاون نہ صرف تکنیکی بلکہ سفارتی سطح پر بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرے گا۔
تاہم، اس تعاون کو کامیاب بنانے کے لیے عملی اقدامات اور ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ پی سی بی کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیشی امپائرز کے لیے ایک جامع تربیتی پروگرام تیار کرے، جس میں بین الاقوامی امپائرز کی خدمات بھی شامل ہوں۔ اسی طرح، ویمن کرکٹ کے لیے مشترکہ ٹورنامنٹس اور تربیتی کیمپس کا انعقاد دونوں ممالک کی خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ ملاقات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے پاک-بنگلہ دیش تعلقات کے لیے ایک سنہری موقع ہیں۔ اگر ان اقدامات پر پوری لگن سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف کرکٹ بلکہ تعلیم، ٹیکنالوجی، اور شمسی توانائی جیسے شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون کا ایک نیا باب رقم کر سکتے ہیں۔ محسن نقوی کی یہ پیشکش پاکستان کی کرکٹ ڈپلومیسی کی ایک شاندار مثال ہے، جو خطے میں امن، ترقی، اور تعاون کے لیے ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔





















