ٹیکنالوجی نے انسان سے اُس کی صحت چھین لی

پہلے لوگ دکانیں، بازار، یا رشتہ داروں کے گھر جانے کے لیے پیدل چلتے تھے یا سائیکل استعمال کرتے تھے۔ آج ہم چند کلک سے گھر بیٹھے کھانا، کپڑے، یا دیگر اشیا منگوا سکتے ہیں

غلام مرتضیٰ

آج کا انسان ٹیکنالوجی کے جال میں اس قدر پھنس چکا ہے کہ وہ اپنی صحت کو بھولتا جا رہا ہے۔ موٹرسائیکلیں، کاریں، ایپ پر مبنی ٹیکسی سروسز، اور گھر بیٹھے ہر چیز کی ڈیلیوری نے ہماری زندگی کو آسان تو بنایا ہے، لیکن اس نے ہم سے چہل قدمی اور جسمانی سرگرمی کا لطف چھین لیا ہے۔ نتیجتاً، ہم موٹاپے، ذیابیطس، دل کے امراض، اور دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، روزانہ صرف 30 منٹ کی معتدل ورزش، جیسے کہ تیز چہل قدمی، دل کی بیماریوں کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کر سکتی ہے اور ذیابیطس کے امکانات کو بھی کافی حد تک گھٹاتی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس بات پر تفصیل سے بات کریں گے کہ ٹیکنالوجی نے ہماری صحت کو کیسے متاثر کیا اور ہم اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو بہت سہولتیں دی ہیں۔ پہلے لوگ دکانیں، بازار، یا رشتہ داروں کے گھر جانے کے لیے پیدل چلتے تھے یا سائیکل استعمال کرتے تھے۔ آج ہم چند کلک سے گھر بیٹھے کھانا، کپڑے، یا دیگر اشیا منگوا سکتے ہیں۔ ایپ پر مبنی ٹیکسی سروسز نے سفر کو آسان بنا دیا ہے۔ لیکن اس سہولت کی قیمت ہم اپنی صحت کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ لوگ اب پیدل چلنے یا سائیکل چلانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں زیادہ تیز اور آرام دہ ہیں۔
اس کے علاوہ، سمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، اور ٹی وی نے بھی ہمارا زیادہ تر وقت چھین لیا ہے۔ لوگ گھنٹوں سکرین کے سامنے بیٹھ کر کام کرتے ہیں، سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، یا فلمیں دیکھتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہماری جسمانی سرگرمی کم ہوئی ہے بلکہ ہماری آنکھوں، دماغ، اور نیند پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہماری جسمانی سرگرمی کم ہونے کے کئی نقصانات ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 3.2 ملین اموات کی وجہ جسمانی سرگرمی کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ، درج ذیل مسائل ہماری زندگی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔کم چلنے پھرنے اور غیر صحت مند خوراک کی وجہ سے وزن بڑھنا ایک عام مسئلہ بن گیا ہے۔ موٹاپا نہ صرف ظاہری شکل کو متاثر کرتا ہے بلکہ دل کی بیماریوں، جوڑوں کے درد، اور ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔WHO کے مطابق، روزانہ کی ورزش ذیابیطس کے خطرے کو 25 سے 30 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ لیکن سست طرز زندگی کی وجہ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔کم جسمانی سرگرمی کی وجہ سے خون کی شریانیں بند ہو سکتی ہیں، جو دل کے دورے کا باعث بنتی ہیں۔ ورزش دل کو مضبوط بناتی ہے اور خون کے بہاؤ کو بہتر کرتی ہے۔زیادہ دیر تک سکرین کے سامنے بیٹھنے سے ذہنی تناؤ، اضطراب، اور ڈپریشن کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ورزش دماغ کو پرسکون رکھتی ہے اور خوشی کے ہارمونز پیدا کرتی ہے۔رات گئے تک فون یا لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے نیند کا نظام خراب ہوتا ہے، جو مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ورزش نہ صرف جسم کو فٹ رکھتی ہے بلکہ دماغ اور روح کو بھی تروتازہ کرتی ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق، روزانہ 30 منٹ کی معتدل ورزش، جیسے کہ تیز چہل قدمی، جاگنگ، یا سائیکلنگ، صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔ اس کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں۔ورزش سے خون کی گردش بہتر ہوتی ہے، کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ورزش کیلوریز جلاتی ہے، جس سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے اور موٹاپا کم ہوتا ہے۔ورزش کے دوران دماغ میں اینڈورفنز نامی ہارمونز نکلتے ہیں، جو ذہنی تناؤ کم کرتے ہیں اور موڈ بہتر بناتے ہیں۔ورزش سے ہڈیاں اور پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، جو بڑھتی عمر میں جوڑوں کے درد اور کمزوری کو روکتی ہے۔ورزش کرنے والے لوگوں کو رات کو گہری اور بہتر نیند آتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی صحت کو بہتر بنانا مشکل نہیں ہے۔ چند آسان اقدامات سے ہم اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں:اگر آپ کے پاس جم جانے کا وقت نہیں ہے تو روزانہ 30 منٹ تیز چہل قدمی کریں۔ یہ آپ کے گھر کے قریب پارک میں یا گلیوں میں ہو سکتی ہے۔قریبی دکانوں یا بازار جانے کے لیے گاڑی کی بجائے سائیکل استعمال کریں۔ یہ نہ صرف صحت کے لیے اچھا ہے بلکہ ماحول کو بھی فائدہ دیتا ہے۔فون یا لیپ ٹاپ پر غیر ضروری وقت گزارنے کی بجائے کچھ وقت ورزش یا گھر کے کاموں کے لیے نکالیں۔اگر باہر جانا ممکن نہ ہو تو یوٹیوب پر موجود ورزش کی ویڈیوز کی مدد سے گھر پر یوگا، زومبا، یا ہلکی پھلکی ورزش کریں۔ورزش کے ساتھ ساتھ تازہ پھل، سبزیاں، اور متوازن خوراک کھائیں۔ فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات سے پرہیز کریں۔رات کو 7 سے 8 گھنٹے کی نیند لازمی لیں اور سونے سے پہلے فون کا استعمال کم کریں۔

ٹیکنالوجی صرف ہماری صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، بلکہ اسے صحیح طریقے سے استعمال کرکے ہم اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ کئی ایپس، جیسے کہ فٹنس ٹریکرز اور ورزش کی ایپس، آپ کے روزانہ کے قدم، کیلوریز، اور ورزش کے وقت کو ٹریک کر سکتی ہیں۔ سمارٹ واچز دل کی دھڑکن اور نیند کے معیار کو مانیٹر کرتی ہیں، جو آپ کو اپنی صحت پر نظر رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ، آن لائن یوگا کلاسز اور ورزش کے پروگرامز بھی گھر بیٹھے فٹ رہنے میں مدد دیتے ہیں۔
ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے، لیکن اس نے ہم سے جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرز زندگی کا تحفہ چھین لیا ہے۔ موٹاپا، ذیابیطس، اور دل کے امراض جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ان سے بچنا ناممکن نہیں ہے۔ روزانہ 30 منٹ کی ورزش، صحت مند خوراک، اور سکرین ٹائم کو کم کرکے ہم اپنی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو اپنا دشمن بنانے کی بجائے اسے اپنی صحت کے لیے استعمال کریں۔ آئیے، آج سے ہی اپنی صحت کو ترجیح دیں اور ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کی طرف قدم بڑھائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین