لندن: پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی چھٹیوں کے دوران بھی اپنی فٹنس اور مہارت کو عروج پر رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انگلینڈ میں موجود شاہین نے ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز میں شریک پاکستان چیمپیئنز کے ساتھ بھرپور تربیتی سیشنز کا آغاز کر دیا ہے، جہاں ان کی جارحانہ بولنگ نے نہ صرف ساتھی کھلاڑیوں بلکہ شائقین کو بھی گراؤنڈ کی طرف کھینچ لیا۔ ان کی تیز رفتار یارکرز اور سوئنگ بولنگ دیکھنے کے لیے مداحوں کی بڑی تعداد میدان میں موجود تھی، جو ان کے ایکشن کی جھلکیاں دیکھ کر جوش و خروش سے سرشار ہو گئی۔
انگلینڈ میں شاہین کی پریکٹس
شاہین شاہ آفریدی، جو اپنی تیز رفتار بولنگ اور میچ جیتانے کی صلاحیت کی بدولت عالمی شہرت رکھتے ہیں، ان دنوں انگلینڈ میں ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ سابق اور موجودہ کرکٹرز کے مابین ایک پریسٹیج ایونٹ ہے، جس میں پاکستان چیمپیئنز ٹیم کی نمائندگی کر رہی ہے۔ شاہین نے انگلینڈ کے مقامی گراؤنڈز میں اپنے تربیتی سیشنز کے دوران اپنی فٹنس، بولنگ ایکشن، اور نئی تکنیکس پر کام کیا۔ ان کے پریکٹس سیشنز میں تیز یارکرز، ان سوئنگ، اور آؤٹ سوئنگ گیندوں کی مشق شامل تھی، جنہوں نے دیکھنے والوں کو متاثر کیا۔
شائقین، جن میں پاکستانی تارکین وطن اور مقامی کرکٹ شوقین شامل تھے، شاہین کی بولنگ دیکھنے کے لیے گراؤنڈ کے اطراف جمع ہو گئے۔ ایک شائق نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، "شاہین کی بولنگ ہر بار جادو جگاتی ہے۔ ان کی یارکرز اور رفتار کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ کسی بھی بیٹسمین کو پریشان کر سکتے ہیں۔” مقامی میڈیا نے بھی شاہین کی پریکٹس سیشنز کی کوریج کی اور ان کی پروفیشنلزم کی تعریف کی۔
بنگلہ دیش سیریز سے غیر حاضری
واضح رہے کہ شاہین شاہ آفریدی کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے خلاف شیڈول ٹی 20 سیریز کے لیے منتخب نہیں کیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ ان کی حالیہ فارم اور ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے انہیں آرام دینے کی حکمت عملی بتائی گئی۔ تاہم، شاہین نے اس موقع کو اپنی فٹنس اور بولنگ کی تیاری کے لیے استعمال کیا ہے۔ انگلینڈ میں ان کی محنت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے لیے بھی تیار ہیں۔
ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز میں شاہین کی شرکت سے پاکستانی مداحوں میں ایک نیا جوش پیدا ہوا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ان کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں اور اپنی حالیہ تنقید کا جواب عملی کارکردگی سے دیں۔ شاہین نے ماضی میں ایسی کئی مواقع پر شاندار کم بیک کیا ہے، جیسے کہ 2022 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ان کی تباہ کن بولنگ۔
شاہین آفریدی: پاکستان کا فخر
شاہین شاہ آفریدی، جو صرف 25 سال کی عمر میں عالمی کرکٹ کے بہترین فاسٹ بولرز میں شامل ہیں، اپنی جارحانہ بولنگ اور میچ کے حالات کو بدل دینے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے 2021 اور 2022 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں اپنی شاندار کارکردگی سے پاکستان کو اہم فتوحات دلائیں۔ تاہم، گزشتہ کچھ ماہ سے ان کی فارم پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کے بعد۔ پی سی بی کی جانب سے انہیں بنگلہ دیش سیریز سے آرام دینے کا فیصلہ انہیں اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ نکھارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انگلینڈ میں شاہین کی پریکٹس سیشنز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی تنقید کو مثبت توانائی میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کے تربیتی سیشنز میں نہ صرف بولنگ بلکہ فزیکل فٹنس اور ذہنی مضبوطی پر بھی توجہ دی گئی۔ پاکستان چیمپیئنز کے کپتان یونس خان نے شاہین کی محنت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیم کے لیے ایک اثاثہ ہیں اور ان کی موجودگی ٹورنامنٹ میں نمایاں فرق ڈالے گی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر شائقین نے شاہین کی پریکٹس سیشنز کی ویڈیوز اور تصاویر پر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "شاہین آفریدی واپس اپنی پرانی فارم میں آ رہے ہیں۔ یہ یارکرز کسی بھی بیٹسمین کے لیے ڈراؤنا خواب ہیں۔” ایک اور صارف نے کہا، "بنگلہ دیش سیریز سے باہر ہونے کے باوجود شاہین کی محنت قابل تحسین ہے۔ وہ جلد کم بیک کریں گے۔” کچھ صارفین نے پی سی بی سے مطالبہ کیا کہ شاہین کو مستقبل کی سیریز میں کلیدی کردار دیا جائے۔
شاہین شاہ آفریدی کی انگلینڈ میں بھرپور پریکٹس اور ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز میں شرکت ان کے پروفیشنلزم اور عزم کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ٹی 20 سیریز سے غیر حاضری اگرچہ شائقین کے لیے مایوس کن تھی، لیکن شاہین کا یہ فیصلہ کہ وہ چھٹیوں کے دوران بھی اپنی فٹنس اور بولنگ پر کام کریں، ان کی کرکٹ کے تئیں لگن کو ظاہر کرتا ہے۔ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز ان کے لیے ایک مثالی پلیٹ فارم ہے، جہاں وہ اپنی فارم بحال کر سکتے ہیں اور عالمی شائقین کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
شاہین کی بولنگ دیکھنے کے لیے شائقین کا گراؤنڈ میں جمع ہونا ان کی مقبولیت کی گواہی دیتا ہے۔ پاکستانی کرکٹ شائقین، خاص طور پر تارکین وطن، شاہین کو نہ صرف ایک کھلاڑی بلکہ قومی فخر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی حالیہ تنقید، خاص طور پر 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد، ان کے لیے ایک چیلنج ہے، لیکن ان کا انگلینڈ میں تربیتی سیشنز اس بات کا اشارہ ہیں کہ وہ تنقید کو مثبت طور پر لے رہے ہیں۔
تاہم، پی سی بی کو چاہیے کہ وہ شاہین جیسے اہم کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور فٹنس کا خیال رکھے۔ بنگلہ دیش سیریز سے آرام دینے کا فیصلہ درست تھا، لیکن مستقبل میں انہیں ایسی سیریز میں شامل کیا جائے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں۔ شاہین کی موجودہ پریکٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی فارم بحال کرنے کے لیے تیار ہیں، اور ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز ان کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ ناقدین کو خاموش کریں۔
پاکستان کرکٹ کے لیے شاہین آفریدی ایک اثاثہ ہیں، اور ان کی محنت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جلد ہی اپنی پرانی تباہ کن فارم میں واپس آئیں گے۔ شائقین کو امید ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھائیں گے اور پاکستان کا نام ایک بار پھر روشن کریں گے۔ شاہین کی یہ محنت نہ صرف ان کی اپنی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پاکستانی کرکٹ کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے





















