ہمارے بغیر عالمی معیشت کا پہیہ رک جائے گا،ٹرمپ

سخت گیر ٹیرف پالیسیوں نے دیگر ممالک کو اپنے تجارتی رویوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی معیشت میں امریکہ کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ نہ ہو تو عالمی معیشت مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ فیڈرل ریزرو بینک کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کو سراہا، خاص طور پر جاپان کے ساتھ حالیہ ٹیرف معاہدے کو امریکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یورپی یونین کے دفاعی بجٹ میں اضافے کو اپنی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا اور معروف ریسلر ہلک ہوگن کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جنہیں انہوں نے اپنا قریبی دوست قرار دیا۔

عالمی معیشت میں امریکہ کا کردار

صدر ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو بینک کے دورے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ عالمی معیشت کا محور ہے اور اس کی مضبوطی کے بغیر دنیا کی معاشی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معیشت کی بدولت عالمی منڈیوں کو استحکام ملتا ہے، اور ان کی انتظامیہ کی پالیسیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ امریکہ اپنی معاشی برتری کو برقرار رکھے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی سخت گیر ٹیرف پالیسیوں نے دیگر ممالک کو اپنے تجارتی رویوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا ہے، جس سے امریکی کاروبار اور کارکنوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر جاپان کے ساتھ حالیہ تجارت معاہدے کا حوالہ دیا، جسے انہوں نے "تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ” قرار دیا۔ اس معاہدے کے تحت جاپان نے امریکہ میں 550 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اور امریکی مصنوعات، جیسے کہ گاڑیاں، چاول، اور زرعی اشیا کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ جاپانی اشیا پر 15 فیصد ٹیرف کی شرح طے کی گئی ہے، جو کہ پہلے تجویز کردہ 25 فیصد سے کم ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکی معیشت کو تقویت دے گا اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرے گا۔

یورپی یونین کا دفاعی بجٹ اور امریکی دباؤ

صدر ٹرمپ نے یورپی یونین (ای یو) کے دفاعی بجٹ میں اضافے کو بھی اپنی پالیسیوں کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کے دباؤ اور سخت گیر رویے کی وجہ سے یورپی ممالک اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے برسوں تک اپنے اتحادیوں کی مفت میں حفاظت کی، لیکن اب وہ چاہتے ہیں کہ یورپی ممالک اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری لیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پالیسیوں نے یورپی یونین کو اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے پر آمادہ کیا، جو کہ نہ صرف یورپ کی سلامتی کے لیے بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔

تاہم، یورپی یونین نے ٹرمپ کی طرف سے 30 فیصد ٹیرف کے خطرے کے جواب میں مذاکرات کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اب تک کوئی جامع معاہدہ طے نہیں ہوا۔ یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیرف عالمی سپلائی چینز کو متاثر کر سکتے ہیں اور دونوں فریقین کے کاروباروں اور صارفین کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

ہلک ہوگن کی وفات پر افسوس

اپنی گفتگو کے دوران، صدر ٹرمپ نے معروف پیشہ ور ریسلر ہلک ہوگن کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلک ہوگن، جن کا اصلی نام ٹیری جین بولیا تھا، نہ صرف ایک عظیم کھلاڑی تھے بلکہ ان کے قریبی دوست بھی تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہوگن کی توانائی، جذبہ، اور شائقین کے ساتھ ان کا ربط انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہلک ہوگن امریکی ثقافت کا ایک اہم حصہ تھے اور ان کی کمی کو کبھی پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی ہوگن کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں ایک "عظیم امریکی ہیرو” قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

صدر ٹرمپ کے اس بیان کہ "ہمارے بغیر عالمی معیشت بیٹھ جائے گی” نے سوشل میڈیا پر زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایکس پر کچھ صارفین نے ان کے دعوے کی حمایت کی اور کہا کہ امریکہ واقعی عالمی معیشت کا انجن ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "ٹرمپ درست کہہ رہے ہیں، امریکی معیشت کے بغیر دنیا کی معیشت مفلوج ہو جائے گی۔ ان کی پالیسیاں امریکی کارکنوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔”

تاہم، دیگر صارفین نے اس دعوے پر تنقید کی اور کہا کہ ٹرمپ کا نقطہ نظر یک طرفہ ہے اور عالمی معیشت میں دیگر ممالک کے کردار کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ دعویٰ کہ عالمی معیشت صرف امریکہ پر منحصر ہے، حقیقت سے دور ہے۔ چین، یورپ، اور دیگر معیشتیں بھی اہم ہیں۔” ہلک ہوگن کی وفات پر بھی سوشل میڈیا پر خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جہاں شائقین ان کی کامیابیوں اور امریکی تفریحی صنعت میں ان کے کردار کو یاد کر رہے ہیں۔

پس منظر

صدر ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران انہوں نے ٹیرف پالیسیوں کو اپنی معاشی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ اپریل 2025 میں، انہوں نے متعدد ممالک پر "ریسیپروکل ٹیرف” عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد امریکی تجارت کے خسارے کو کم کرنا اور امریکی صنعتوں کو تحفظ دینا تھا۔ جاپان کے ساتھ حالیہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے تحت جاپان نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کے دفاع میں کہا کہ دیگر ممالک نے برسوں سے امریکی معیشت کا استحصال کیا ہے، اور ان کی ٹیرف پالیسیاں امریکی کارکنوں اور کاروباروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم، ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ ان ٹیرفس سے امریکی صارفین کو 2025 میں اوسطاً 1,300 ڈالر کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ "امریکہ کے بغیر عالمی معیشت بیٹھ جائے گی” ان کے معاشی قوم پرستی کے فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، اور اس کا عالمی تجارت، مالیاتی نظام، اور تکنیکی ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ تاہم، یہ دعویٰ کچھ حد تک مبالغہ آمیز ہے، کیونکہ عالمی معیشت ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے جس میں چین، یورپی یونین، اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں جیسے کہ بھارت اور برازیل بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

جاپان کے ساتھ معاہدہ ایک اہم کامیابی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف امریکی معیشت کو سرمایہ کاری کے ذریعے تقویت ملے گی بلکہ یہ جاپانی آٹو سیکٹر پر کم ٹیرف کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم بھی کرے گا۔ تاہم، اس معاہدے کے اثرات کو سمجھنے کے لیے اس کی تفصیلات واضح ہونے کا انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ کچھ ماہرین نے اسے جاپان کے لیے "مجبوری” کا معاہدہ قرار دیا ہے، کیونکہ وہ 25 فیصد ٹیرف سے بچنا چاہتے تھے۔

یورپی یونین کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا دعویٰ بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کی جزوی کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن یہ اضافہ زیادہ تر نیٹو کے دباؤ اور روس-یوکرین تنازعے جیسے جغرافیائی سیاسی عوامل کی وجہ سے ہوا ہے۔ ٹرمپ کا اسے اپنی کامیابی قرار دینا ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

ہلک ہوگن کی وفات پر ٹرمپ کا جذباتی بیان ان کی عوامی شخصیت کے ایک نرم پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ ہوگن امریکی ثقافت کا ایک اہم حصہ تھے، اور ان کی موت نہ صرف ریسلنگ کے شائقین بلکہ ٹرمپ جیسے افراد کے لیے بھی ایک ذاتی نقصان ہے، جو ان سے ذاتی تعلق رکھتے تھے۔

ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں اور معاشی دعوؤں کے اثرات عالمی معیشت پر گہرے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ پالیسیاں امریکی صنعتوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ہیں، لیکن ان سے عالمی سپلائی چینز متاثر ہو سکتی ہیں، اور صارفین کو قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جاپان اور دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اپنی "امریکہ سب سے پہلے” پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں، لیکن اس کے طویل مدتی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دیگر ممالک ان ٹیرفس کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ اگر یورپی یونین اور دیگر اتحادی ممالک جوابی ٹیرف عائد کرتے ہیں، تو یہ ایک مکمل تجارتی جنگ کا باعث بن سکتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

ٹرمپ کا یہ بیان کہ عالمی معیشت امریکہ پر منحصر ہے، ان کے ووٹروں کے لیے ایک مقبول نعرہ ہو سکتا ہے، لیکن عالمی معیشت کی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسے ایک مبالغہ آمیز دعویٰ سمجھا جا سکتا ہے۔ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون اور متوازن تجارت کی ضرورت ہے، اور ٹرمپ کی یک طرفہ پالیسیاں اس تعاون کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین