لاہور: پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ پنجاب طویل عرصے سے صاف پانی کی کمی کے چیلنج سے دوچار رہا ہے۔ دیہی اور شہری علاقوں میں پانی کے معیار اور دستیابی کے مسائل نے نہ صرف صحت عامہ پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں بلکہ معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، پنجاب حکومت نے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور بڑے پیمانے پر منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں 963 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب، پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں سے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا آغاز، اور دو سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر شامل ہے۔ اس اہم اقدام کی تفصیلات پر غور کرنے کے لیے صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صاف پانی اتھارٹی کے سی ای او نوید احمد نے جاری اور نئے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔
پس منظر اور اہمیت
پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، پاکستان کی تقریباً 44 فیصد آبادی کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے، جس کے نتیجے میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے کہ ہیپاٹائٹس، ڈائریا، اور ٹائیفائیڈ عام ہیں۔ پنجاب، جو کہ پاکستان کی زرعی و صنعتی ترقی کا مرکز ہے، اس مسئلے سے شدید متاثر ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں زیر زمین پانی کی آلودگی، صنعتی فضلے، اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شہری علاقوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب اور پرانے انفراسٹرکچر نے بھی مسائل کو جنم دیا ہے۔
اس تناظر میں، پنجاب حکومت کا یہ نیا اقدام نہ صرف بروقت ہے بلکہ صوبے کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ صاف پانی کی فراہمی نہ صرف صحت عامہ کو بہتر بنائے گی بلکہ زراعت، صنعت، اور روزمرہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی مثبت اثرات مرتب کرے گی۔
منصوبے کی تفصیلات
صاف پانی اتھارٹی کے سی ای او نوید احمد نے اجلاس میں بتایا کہ اس پروگرام کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں 963 نئے واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جائیں گے۔ یہ پلانٹس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے جو پانی سے نجاست، بیکٹیریا، اور دیگر مضر صحت مادوں کو ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان پلانٹس کا انتخاب اضلاع کی ضرورت، آبادی، اور پانی کی آلودگی کی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے اضلاع جیسے کہ بہاولپور اور رحیم یار خان میں، جہاں پانی کی کمی اور آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے، ان منصوبوں پر فوری عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں سے پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔ پوٹھوہار ریجن، جو کہ راولپنڈی، جہلم، چکوال، اور اٹک جیسے اضلاع پر مشتمل ہے، اپنی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے چھوٹے ڈیموں کے لیے موزوں ہے۔ یہ ڈیم نہ صرف پانی کے ذخائر کو بڑھائیں گے بلکہ بارش کے پانی کو جمع کرنے اور زیر زمین پانی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیں گے۔ ان منصوبوں سے دیہی علاقوں میں پانی کی دستیابی میں اضافہ ہوگا، جو زراعت اور مقامی آبادی کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوگا۔
مزید برآں، دو سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔ یہ پلانٹس دریاؤں اور نہروں سے پانی حاصل کرکے اسے صاف کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں زیر زمین پانی کی سطح کم ہوچکی ہے یا آلودگی کی وجہ سے ناقابل استعمال ہوگئی ہے۔
شفافیت اور پائیداری
صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے زور دیا کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں، صاف پانی اتھارٹی نے ایک جامع نگرانی کا نظام وضع کیا ہے جو منصوبوں کی پیشرفت اور مالی معاملات کی شفافیت کو یقینی بنائے گا۔ سی ای او نوید احمد نے بتایا کہ منصوبوں کے آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کے لیے تمام فلٹریشن پلانٹس کو بتدریج شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ طویل مدتی معاشی فوائد بھی فراہم کرے گا۔ شمسی توانائی کے استعمال سے بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جس سے منصوبوں کی پائیداری میں اضافہ ہوگا۔
تاریخی سیاق و سباق
پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ ماضی میں، واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (WASA) اور دیگر اداروں نے پانی کی فراہمی کے لیے مختلف پروگرام شروع کیے، لیکن ناقص منصوبہ بندی، وسائل کی کمی، اور بدعنوانی کے الزامات نے ان کی کامیابی کو محدود کیا۔ 2015 میں شروع کیا گیا "پنجاب صاف پانی پروگرام” ایک اہم سنگ میل تھا، جس کے تحت صوبے بھر میں متعدد فلٹریشن پلانٹس نصب کیے گئے۔ تاہم، دیکھ بھال کے فقدان اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے کئی پلانٹس غیر فعال ہوگئے۔ موجودہ منصوبہ ان سابقہ کوششوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک زیادہ منظم اور پائیدار نقطہ نظر اپناتا ہے۔
مستقبل کے امکانات
صوبائی وزیر ہاؤسنگ کے مطابق، یہ منصوبہ ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ہر سال نئے منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ صوبے کے انفراسٹرکچر کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوئے تو پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں صحت عامہ کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ مزید برآں، زرعی پیداوار میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جو صوبے کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
چیلنجز اور حل
اس طرح کے بڑے پیمانے پر منصوبوں کے نفاذ میں کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، فنڈز کی کمی، تکنیکی مسائل، اور مقامی آبادی کی طرف سے ممکنہ مزاحمت۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، حکومت نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس میں نجی شعبے کی شراکت، بین الاقوامی امداد، اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت شامل ہے۔ مزید برآں، منصوبوں کی تکمیل کے بعد ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کیا جائے گا تاکہ ماضی کے تجربات کی تکرار نہ ہو۔
پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے شروع کیا گیا یہ نیا پروگرام ایک امید افزا اقدام ہے جو صوبے کے عوام کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔ شفافیت، پائیداری، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ، یہ منصوبہ نہ صرف موجودہ مسائل کو حل کرے گا بلکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ اگر یہ منصوبہ اپنے اہداف حاصل کر لیتا ہے تو یہ پنجاب کے لیے ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا، جہاں صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہوگا۔





















