پاکستان کا سب سے بڑا اور گنجان آباد صوبہ پنجاب ایک بار پھر مون سون بارشوں کے نئے اسپیل کی زد میں آنے والا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ 28 جولائی سے 31 جولائی 2025 تک صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے، جبکہ مری اور گلیات جیسے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اس نئے موسماتی اسپیل سے نہ صرف شہری اور دیہی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور نقصانات کا خدشہ ہے بلکہ کچے مکانات اور کمزور ڈھانچوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ تحریر اس نئے مون سون اسپیل کی تفصیلات، متاثرہ اضلاع، مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات، اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتی ہے، جبکہ تاریخی سیاق و سباق اور حفاظتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
مون سون بارشوں کی پیشگوئی
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) اور پی ڈی ایم اے کے مطابق، 28 جولائی سے شروع ہونے والا مون سون کا یہ نیا اسپیل پنجاب کے بیشتر اضلاع کو متاثر کرے گا۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 31 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے، جس کے دوران مختلف اضلاع میں ہلکی سے شدید بارشوں کی توقع ہے۔ متاثرہ اضلاع کو دو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے:
شمالی اور وسطی پنجاب: مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالا، حافظ آباد، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اور اوکاڑہ میں 28 سے 31 جولائی کے دوران بارشوں کا امکان ہے۔ ان علاقوں میں، خاص طور پر لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالا، اور فیصل آباد جیسے شہری مراکز میں، شدید بارشوں سے اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
جنوبی پنجاب: 29 سے 31 جولائی کے دوران ڈیرہ غازی خان، بھکر، بہاولپور، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ، اور راجن پور میں بارشوں کی توقع ہے۔ یہ علاقے پہلے ہی رواں سال کے مون سون سیزن میں شدید بارشوں اور فلڈنگ سے متاثر ہوچکے ہیں، جس سے ان کی صورتحال مزید نازک ہو سکتی ہے۔
پی ایم ڈی کے مطابق، یہ بارشیں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والے مضبوط مون سون ہواؤں اور مغربی ہواؤں کے امتزاج کا نتیجہ ہیں، جو پنجاب کے بالائی اور وسطی حصوں کو متاثر کریں گی۔
مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ
مری اور گلیات، جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور سیاحتی مقامات کے لیے مشہور ہیں، شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے دوچار ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ان پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارشوں سے مٹی کے تودے گرنے اور سڑکوں کے بند ہونے کا امکان ہے، جو نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ماضی میں، جیسا کہ جولائی 2025 کے اوائل میں، مری اور گلیات سمیت گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد حادثات رونما ہوئے، جن میں سیاحوں کی اموات بھی شامل تھیں۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مری اور گلیات کے سفر کے دوران موسم کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ، کمزور ڈھانچوں جیسے کہ کچے مکانات اور مخدوش عمارتوں کو شدید بارشوں سے نقصان کا خطرہ ہے، جو خاص طور پر دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
مون سون 2025 کا تاریخی سیاق
پنجاب میں رواں سال کا مون سون سیزن غیر معمولی طور پر شدید رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، 2025 میں مون سون بارشوں کی مقدار گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے، جس سے صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ 25 جون سے اب تک، پنجاب میں مون سون سے متعلقہ حادثات میں 252 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے اور متعدد گھروں، سڑکوں، اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ ان اموات کی بڑی وجوہات میں مکانات کی چھتیں گرنا، بجلی کے جھٹکے، اور فلڈنگ شامل ہیں، جن میں بچوں کی شرح اموات خاص طور پر زیادہ ہے کیونکہ وہ تعطیلات کے دوران پانی میں کھیلتے ہوئے حادثات کا شکار ہوئے۔
جولائی 2025 کے اوائل میں، چکوال جیسے اضلاع میں 400 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جسے پی ایم ڈی نے "کلاؤڈ برسٹ” قرار دیا۔ اس سے نہ صرف رہائشی علاقوں میں سیلاب آیا بلکہ تاریخی مقامات جیسے کہ کٹاس راج مندر کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی طرح، راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا، جہاں سڑکیں بند ہوئیں اور ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہوئی۔
2022 کے تباہ کن سیلاب، جنہوں نے پاکستان کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا اور 1,700 سے زائد اموات کا باعث بنا، نے مون سون سے نمٹنے کے لیے بہتر تیاری کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا۔ موجودہ سیزن کے نقصانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے پاکستان کو مون سون کے اثرات کے لیے مزید کمزور کر دیا ہے۔
ممکنہ اثرات اور چیلنجز
اس نئے مون سون اسپیل سے پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں میں متعدد چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں:
اربن فلڈنگ: لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالا، اور فیصل آباد جیسے شہروں میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے روزمرہ زندگی، ٹریفک، اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ: مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکوں کے بند ہونے اور سیاحوں کے پھنس جانے کا خطرہ ہے، جو امدادی کارروائیوں کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
کمزور ڈھانچوں کو نقصان: کچے مکانات اور مخدوش عمارتوں کے گرنے سے جانی نقصان کا خدشہ ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں تعمیراتی معیار کمزور ہے۔
صحت کے خطرات: پانی جمع ہونے سے ڈینگی، ملیریا، اور دیگر واٹر بورن بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جیسا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد دیکھا گیا۔
حفاظتی اقدامات اور حکومتی ردعمل
پی ڈی ایم اے اور صوبائی حکومت نے اس نئے مون سون اسپیل سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے احکامات پر تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہائی الرٹ رہنے اور فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واسا، ریسکیو 1122، اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی کی نکاسی کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ پانی نکالنے کی مشینری اور بیک اپ جنریٹرز کو چوکس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، جیسے کہ ندی نالوں اور سیلابی علاقوں سے دور رہنا، کمزور ڈھانچوں میں قیام سے گریز کرنا، اور موسم کی تازہ معلومات کے لیے ریڈیو، ٹی وی، یا سوشل میڈیا کا استعمال کرنا۔ ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور تجاویز
یہ مون سون اسپیل پنجاب کے واٹر مینجمنٹ سسٹم کی کمزوریوں کو ایک بار پھر عیاں کرتا ہے۔ لاہور میں راوی کی آلودگی کو روکنے کے لیے شروع کیے گئے سمارٹ واٹر مینجمنٹ پلانٹس جیسے منصوبوں کے ساتھ ساتھ، صوبے کو طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شہری منصوبہ بندی کو بہتر بنانا، نکاسی آب کے نظام کو مضبوط کرنا، اور عوام میں شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔
مزید برآں، مری اور گلیات جیسے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے جیو ٹیکنیکل اقدامات، جیسے کہ دیواروں کی تعمیر اور جنگلات کی بحالی، پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت کو غیر ملکی ڈونر ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ایسی پائیدار پالیسیاں بنانی چاہئیں جو مستقبل میں مون سون کے نقصانات کو کم کر سکیں۔
28 سے 31 جولائی 2025 تک پنجاب میں مون سون بارشوں کا نیا اسپیل نہ صرف موسم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ صوبے کے انفراسٹرکچر اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی تیاریوں کا امتحان بھی لے گا۔ مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے امکانات حکومتی اداروں اور عوام کے لیے یکساں چیلنج ہیں۔ اگرچہ پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں نے پیشگی تیاریاں شروع کر دی ہیں، لیکن عوام کی تعاون اور احتیاط ہی اس مشکل وقت میں نقصانات کو کم کر سکتی ہے۔ پنجاب کے لیے یہ وقت نہ صرف فوری اقدامات کا تقاضا کرتا ہے بلکہ طویل مدتی پائیدار حل کی طرف پیش قدمی کا بھی متقاضی ہے، تاکہ مستقبل میں مون سون سیزن کے چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔





















