ایشیا کپ 2025 کے حوالے سے بڑی خبر سامنے آئی ہے کہ روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔ دونوں ٹیمیں 14 ستمبر کو ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، اور اگر دونوں ٹیمیں سپر 4 اور فائنل کے لیے کوالیفائی کرتی ہیں تو یہ مقابلہ تین بار تک ممکن ہے۔ یہ اعلان ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے حالیہ اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے ابتدائی ہچکچاہٹ کے باوجود ایونٹ میں شرکت اور پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے کی تصدیق کی۔ اس فیصلے کی حمایت بھارت کے سابق کپتان سارو گنگولی نے بھی کی، جنہوں نے کھیلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو برقرار رکھنے کی وکالت کی۔
پس منظر اور تاریخی سیاق و سباق
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز ہمیشہ سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ کے باعث کرکٹ کے مقابلوں کو اکثر غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہتا ہے۔ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ کرکٹ سیریز معطل ہیں، اور ان کا ٹاکرا صرف بین الاقوامی ٹورنامنٹس جیسے کہ ایشیا کپ، ورلڈ کپ، یا چیمپئنز ٹرافی میں ہی ہوتا ہے۔ یہ میچز نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ شائقین کے جذبات کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایشیا کپ، جو ایشین کرکٹ کونسل کے زیر اہتمام ہر دو سال بعد منعقد ہوتا ہے، خطے کی ٹیموں کے لیے ایک اہم ٹورنامنٹ ہے۔ اس ٹورنامنٹ کی تاریخ 1984 سے شروع ہوتی ہے، اور پاکستان اور بھارت دونوں نے اسے کئی بار جیتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بھارت کی جانب سے پاکستان میں کھیلنے یا پاکستان کے ساتھ میچز کھیلنے پر اعتراضات اٹھتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2023 کے ایشیا کپ میں بھارت نے پاکستان میں میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا، جس کے نتیجے میں ہائبرڈ ماڈل اپنایا گیا، اور بھارت کے میچز سری لنکا میں کھیلے گئے۔
ایشیا کپ 2025 کے حوالے سے تازہ پیشرفت
رواں سال ڈھاکا میں منعقد ہونے والے ایشین کرکٹ کونسل کے سالانہ اجلاس میں ایشیا کپ 2025 کے شیڈول کو حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس سے قبل بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش میں میٹنگ کے انعقاد پر اعتراض کیا اور آن لائن شرکت سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، بی سی سی آئی نے ایشیا کپ کے بائیکاٹ کا عندیہ بھی دیا تھا، جو کہ شائقین کے لیے تشویش کا باعث بن گیا تھا۔ تاہم، آخری لمحات میں بھارتی حکام نے نہ صرف آن لائن اجلاس میں شرکت کی بلکہ اپنی حکومت سے مشاورت کے بعد ٹورنامنٹ میں شرکت کی منظوری دے دی۔
اے سی سی کے صدر محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستان اور بھارت 14 ستمبر کو گروپ اسٹیج میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔ دونوں ٹیمیں گروپ اے میں ہیں، جس میں عمان اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ گروپ بی میں سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں ہیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 9 ستمبر سے ہوگا، جبکہ فائنل 28 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔
بھارت کی جانب سے بائیکاٹ کی افواہوں کا خاتمہ
بھارت میں کچھ حلقوں کی جانب سے ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ میچ کے بائیکاٹ کی باتیں زور پکڑ رہی تھیں۔ حال ہی میں ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں بھارت چیمپئنز ٹیم نے سوشل میڈیا پر دباؤ کے باعث پاکستان چیمپئنز کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں کہ بھارتی قومی ٹیم بھی ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ میچ سے دستبردار ہو سکتی ہے۔ تاہم، بی سی سی آئی نے واضح کر دیا کہ وہ نہ تو ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں۔
بی سی سی آئی کے قریبی ذرائع کے مطابق، ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ بھارت ایشیا کپ کی میزبانی کرے گا، اور اس مرحلے پر کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ میچ شیڈول کے مطابق ہی کھیلا جائے گا۔ یہ فیصلہ نہ صرف شائقین کے لیے خوشخبری ہے بلکہ کرکٹ کی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے ذریعے رابطوں کے لیے بھی اہم ہے۔
سارو گنگولی کا موقف
بھارت کے سابق کپتان اور بی سی سی آئی کے سابق صدر سارو گنگولی نے بھی پاکستان کے ساتھ میچ کی حمایت کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنانا ضروری ہے، لیکن کھیلوں کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ میچ پر کوئی اعتراض نہیں۔ گنگولی کا یہ بیان اس وقت اہمیت رکھتا ہے جب بھارت میں کچھ حلقوں کی جانب سے میچ کے بائیکاٹ کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ان کے موقف سے شائقین میں ایک مثبت پیغام گیا ہے کہ کرکٹ کو سیاسی تناؤ سے الگ رکھنا چاہیے۔
ایشیا کپ 2025 کا شیڈول اور اہمیت
ایشیا کپ 2025 کا شیڈول اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ ٹورنامنٹ کرکٹ شائقین کے لیے ایک سنسنی خیز تجربہ ہوگا۔ گروپ اسٹیج کے بعد سپر 4 مرحلہ ہوگا، جہاں پاکستان اور بھارت ایک بار پھر آمنے سامنے ہو سکتے ہیں۔ اگر دونوں ٹیمیں فائنل تک پہنچتی ہیں تو شائقین کو تیسری بار پاک-بھارت ٹاکرے کا مزہ لینے کو ملے گا۔ یہ میچز نہ صرف کھیل کے لحاظ سے اہم ہیں بلکہ ایشیا کپ کی عالمی سطح پر مقبولیت کو بھی بڑھائیں گے۔
ٹورنامنٹ میں دیگر ٹیموں کی موجودگی، جیسے کہ سری لنکا، بنگلہ دیش، اور افغانستان، اسے مزید دلچسپ بناتی ہے۔ عمان اور متحدہ عرب امارات جیسے ابھرتے ہوئے کرکٹ ممالک بھی اس ایونٹ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ہانگ کانگ کی شمولیت سے ایشیا کپ کی تنوع میں اضافہ ہوگا، جو خطے میں کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام ہے۔
ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کی تصدیق شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ بی سی سی آئی کے فیصلے اور سارو گنگولی کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کرکٹ کو سیاسی تناؤ سے الگ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹورنامنٹ نہ صرف کھیل کے میدان میں مقابلوں کا موقع فراہم کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے شائقین کے درمیان جذباتی رابطوں کو بھی مضبوط کرے گا۔ 14 ستمبر کو ہونے والا پاک-بھارت میچ بلاشبہ کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، جس کا انتظار شائقین بے چینی سے کر رہے ہیں۔





















