ایک سال کے دوران مہنگائی میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے: وزارت خزانہ

مہنگائی کی شرح 23.4 فیصد تھی جو کم ہو کر صرف 4.5 فیصد رہ گئی:’’ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ‘‘

وزارتِ خزانہ کی تازہ ترین ’’ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ‘‘ نے ملکی معیشت کے حوالے سے کئی خوش آئند پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے، جن سے نہ صرف بہتری کا تاثر ابھرتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی اُمید بندھتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-2025 کے دوران مہنگائی کی شرح میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ سال مہنگائی کی شرح 23.4 فیصد تھی جو کم ہو کر صرف 4.5 فیصد رہ گئی۔ یہ کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے، جو عام آدمی کی زندگی میں بہتری کا اہم اشارہ ہے۔ یاد رہے کہ 2022 اور 2023 کے دوران مہنگائی کا گراف مسلسل بلند ہوتا جا رہا تھا، جس سے عوام کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ ایسے میں مہنگائی میں اتنی بڑی کمی ایک اہم پیش رفت ہے۔

معاشی ترقی کی شرح اور کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری

اقتصادی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2024-2025 میں پاکستان کی ترقی کی شرح 2.68 فیصد رہی، جو گذشتہ مالی سالوں کی نسبت کچھ بہتر ہے، اگرچہ یہ ہدف سے کم ہے لیکن موجودہ اقتصادی دباؤ میں یہ شرح حوصلہ افزا قرار دی جا سکتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ میں 2.1 ارب ڈالر کا سالانہ سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے پہلی بار درآمدات اور برآمدات کے درمیان توازن پیدا کرنے میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ معاشی ماہرین کے نزدیک کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونا نہ صرف بیرونی قرضوں پر دباؤ کم کرتا ہے بلکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بھی مستحکم بناتا ہے۔

مالیاتی خسارے میں کمی

رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ گزشتہ مالی سال مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا صرف 3.1 فیصد رہا، جو کہ گذشتہ سالوں کی نسبت ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق کو محدود کرنے کے لیے سخت مالی نظم و ضبط اپنایا ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں مالیاتی خسارہ بعض اوقات جی ڈی پی کے 6 فیصد سے بھی تجاوز کر جاتا تھا، جس سے حکومت کو مالیاتی اداروں سے زیادہ قرض لینے پڑتے تھے۔

زرعی شعبے میں ترقی

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں زرعی شعبے میں بھی نمایاں بہتری دکھائی گئی ہے۔ زرعی قرضوں میں 16.6 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے اور اس کا مجموعی حجم 2300 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اسی طرح زرعی مشینری کی درآمدات میں 20 فیصد کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کسان جدید طریقوں اور مشینری کی طرف رجوع کر رہے ہیں، جو زرعی پیداوار میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید برآں، یوریا کھاد کی کھپت میں 3.4 فیصد اور ڈی اے پی کھاد کی فروخت میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو فصلوں کی بہتر پیداوار اور زرعی سرگرمیوں میں تیزی کا مظہر ہے۔

صنعتی اور تجارتی شعبے کی کارکردگی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مئی 2025 میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 2.3 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترسیلات زر، برآمدات، اور درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ترسیلات زر میں 26.6 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور ان کا حجم 30 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر ان پاکستانیوں کی محنت کا عکاس ہے جو بیرون ملک رہ کر ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
برآمدات میں 4.2 فیصد اور درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی تجارتی میدان میں پاکستان کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بھی 19.9 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں جو کہ ایک اہم سنگ میل ہے۔

ایف بی آر محصولات اور نان ٹیکس آمدنی میں اضافہ

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے گزشتہ مالی سال کے 11 مہینوں کے دوران محصولات میں 26.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ اور وصولیوں میں بہتری کی علامت ہے۔ اسی طرح نان ٹیکس آمدنی میں 62.7 فیصد اضافہ بھی حکومت کی آمدنی بڑھانے کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

کرنسی کی قدر اور قرضوں کی فراہمی

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 5 روپے کمی واقع ہوئی، جو محدود دائرے میں ایک قابلِ قبول حد سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ زرعی اور نجی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو کہ معیشت کی روانی اور مالیاتی اداروں کے اعتماد کا اظہار ہے۔

وزارتِ خزانہ کی یہ رپورٹ کئی حوالوں سے نہایت مثبت اور حوصلہ افزا ہے۔ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی، ترسیلات زر میں اضافہ، زرعی اور صنعتی شعبے میں بہتری، مالیاتی خسارے میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس جیسے اشارے اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کی معیشت سست روی کے بعد بحالی کی جانب گامزن ہے۔
البتہ، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مثبت اشاریوں کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے طویل مدتی اصلاحات، پالیسی تسلسل، اور ادارہ جاتی بہتری کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے اپنی پالیسیوں میں شفافیت اور استقامت برقرار رکھی، تو آنے والے سالوں میں معیشت میں مزید بہتری متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین