اسٹیٹ بینک نے نیا ڈیزائن منتخب کر لیا، جلد نئے اور جدید کرنسی نوٹ متعارف ہوں گے

نئے ڈیزائن پر عملی کام اس وقت شروع کیا جائے گا جب وفاقی کابینہ اس کی باضابطہ منظوری دے گی

پاکستان میں مالیاتی نظام میں بہتری اور جدیدیت لانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس بات کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ایک اہم پریس کانفرنس میں کیا، جو کراچی میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کے تناظر میں منعقد ہوئی تھی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے واضح کیا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے اجراء کی تیاری جاری ہے اور ان کے ڈیزائن کا انتخاب مکمل کرلیا گیا ہے۔

بین الاقوامی معیار کا ڈیزائن

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق، کرنسی نوٹوں کے نئے ڈیزائن کے لیے ایک بین الاقوامی ماہر کی خدمات حاصل کی گئیں، اور ان ہی کی تخلیق کردہ ڈیزائن کو منتخب کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک طویل اور باریک بینی سے کیے گئے جائزے کے بعد کیا گیا، جس میں سکیورٹی، جمالیاتی حسن، اور مقامی شناخت جیسے عوامل کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا۔ جمیل احمد نے بتایا کہ اس ڈیزائن کی منظوری کے بعد باضابطہ طور پر کابینہ کی منظوری لی جائے گی، جس کے بعد نئے نوٹوں کی طباعت اور اجراء کا عمل شروع ہوگا۔

کابینہ کی منظوری: آئندہ مرحلہ

اسٹیٹ بینک کے گورنر کے مطابق، نئے ڈیزائن پر عملی کام اس وقت شروع کیا جائے گا جب وفاقی کابینہ اس کی باضابطہ منظوری دے گی۔ کابینہ کی منظوری نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اس سے نوٹوں کے اجراء کو سیاسی اور حکومتی حمایت بھی حاصل ہو گی۔ منظوری کے بعد نوٹوں کی طباعت، ترسیل، اور گردش کا عمل مرحلہ وار شروع ہوگا، جس میں موجودہ کرنسی کو بھی بتدریج واپس لے لیا جائے گا۔

سکیورٹی فیچرز اور جعلسازی کی روک تھام

پاکستانی معیشت کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی اس کوشش کا بنیادی مقصد صرف کرنسی کے ظاہری حسن کو بہتر بنانا نہیں بلکہ اس کے ذریعے نوٹوں کی جعلسازی کو روکنے کے لیے جدید ترین سکیورٹی فیچرز متعارف کرانا بھی ہے۔ دنیا بھر میں کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کو وقتاً فوقتاً تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ جعل سازوں کی سرگرمیوں پر قابو پایا جا سکے اور کرنسی پر عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ کئی برسوں سے یہ مطالبہ سامنے آ رہا تھا کہ کرنسی نوٹوں میں سکیورٹی فیچرز کو اپڈیٹ کیا جائے، خاص طور پر 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

عوامی اعتماد اور قومی شناخت

نئے کرنسی نوٹوں کے متعارف ہونے سے نہ صرف عوام کو ایک نیا اور محفوظ مالیاتی ذریعہ فراہم ہوگا بلکہ یہ قومی شناخت کے اظہار کا بھی ذریعہ بنیں گے۔ کرنسی نوٹ ایک ملک کی ثقافت، تاریخ، اور قومی ہیروز کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماضی میں جاری کیے گئے نوٹوں پر قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، اور دیگر قومی یادگاروں کی تصاویر شائع کی گئیں، جنہیں عوام نے بھرپور سراہا۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاکستان میں موجودہ کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن دو دہائیوں سے زائد عرصے سے استعمال میں ہے۔ 2005 میں موجودہ طرز کے نوٹوں کا اجرا کیا گیا تھا، جس میں رنگوں، سائز اور فنکارانہ انداز میں جدت لائی گئی تھی۔ تاہم بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا اور جدید ڈیزائن وقت کی ضرورت بن چکا تھا۔

عالمی تجربات اور تقابلی جائزہ

اگر ہم دنیا کے دیگر ممالک کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں تبدیلی معمول کی بات ہے۔ برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، اور یورپی یونین نے اپنے کرنسی نوٹوں میں گزشتہ دہائی کے دوران کئی بار سکیورٹی اپڈیٹس اور ڈیزائن تبدیلیاں کی ہیں۔ آسٹریلیا نے پولیمر نوٹ متعارف کرائے، جو زیادہ پائیدار اور محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ برطانیہ نے حالیہ برسوں میں "پلاسٹک نوٹس” جاری کیے جن میں چوری اور جعلسازی کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان کا بھی نئے ڈیزائن کی جانب قدم اس عالمی رجحان کا تسلسل ہے۔

اقتصادی اثرات اور عوامی ردعمل

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کا معیشت پر براہ راست اثر تو نہیں ہوتا، لیکن عوامی نفسیات پر ضرور اثر پڑتا ہے۔ ایک نئی کرنسی عوام کو احساس دلاتی ہے کہ ریاست مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے، اور سکیورٹی کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یہ عمل بینکاری نظام کو مزید مستحکم بنانے اور غیر قانونی لین دین کو محدود کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

عوامی سطح پر نئے نوٹوں کے ڈیزائن کو لے کر یقیناً دلچسپی پیدا ہوگی۔ پاکستان میں ہمیشہ کرنسی سے متعلق خبریں خبروں کی شہ سرخی بنتی ہیں۔ لہٰذا اس بار بھی یہ عمل نہ صرف مالیاتی دنیا بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی باعث تجسس ہوگا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کرنسی نوٹوں کا نیا ڈیزائن متعارف کرانے کا اقدام ایک دور رس اور مستقبل بَین فیصلہ ہے۔ جہاں یہ ملک کی معیشت میں اعتماد کی فضا کو مضبوط کرے گا، وہیں جدید سکیورٹی فیچرز کے ذریعے جعلسازی اور غیر قانونی سرگرمیوں پر بھی کاری ضرب لگائی جائے گی۔ اب نظریں وفاقی کابینہ کی منظوری پر مرکوز ہیں، جس کے بعد قوم ایک نئے روپ میں اپنی کرنسی کو دیکھنے کے لیے تیار ہو جائے گی — ایک ایسی کرنسی جو محفوظ، جدید اور پاکستان کی پہچان بنے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین