اروشی روٹیلا کا اپنے نام پر بینک بننے کا دعویٰ

ایک نیا ریاضیاتی فارمولا ایجاد کیا ہے، جس کی بدولت دولت دوگنی ہو گئی ہے،اروشی

ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ اور ماڈل اروشی روٹیلا ایک بار پھر اپنے غیر معمولی دعووں اور مزاحیہ انداز کے باعث سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ ایک حالیہ اشتہاری ویڈیو، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، میں اروشی نے نہ صرف خود کو ریاضی کے عظیم فلسفی پائتھاگورس کے بعد سب سے بڑی شخصیت قرار دیا بلکہ یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے نام پر جلد ایک نیا بینک قائم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مشہور امریکی سرمایہ کار وارن بفیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں بھارت کی اگلی وزیر خزانہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ ویڈیو ناظرین کے لیے تفریح اور حیرت کا باعث بن رہی ہے، جس نے اروشی کو ایک بار پھر سوشل میڈیا کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔

وائرل ویڈیو اور اروشی کے دعوے

انٹرنیٹ پر تیزی سے گردش کرنے والی اس ویڈیو میں اروشی روٹیلا ایک فرضی انٹرویو کی صورت میں اپنے منفرد انداز میں نظر آتی ہیں۔ ویڈیو، جو ایک مشہور فاسٹ فوڈ برانڈ کے اشتہار کا حصہ ہے، میں اروشی نے خود کو ایک خود ساختہ مالیاتی گرو قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک نیا ریاضیاتی فارمولا ایجاد کیا ہے، جس کی بدولت ان کی دولت دوگنی ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے نام پر ایک نیا بینک قائم ہونے جا رہا ہے، جسے وہ ’اروشی بینک‘ کا نام دیتی ہیں۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اروشی نے دعویٰ کیا کہ عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار وارن بفیٹ ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہیں اور انہیں بھارت کی مستقبل کی وزیر خزانہ سمجھتے ہیں۔ ویڈیو کے ایک دلچسپ لمحے میں، جب ایک ویٹر ان کے لیے فرائیڈ چکن لاتا ہے، تو اروشی ہلکے پھلکے انداز میں اعلان کرتی ہیں، "ہم ’اروشی فرائیڈ چکن‘ لانچ کر رہے ہیں!” یہ جملہ ویڈیو کے مزاحیہ رنگ کو اور بڑھاتا ہے، جس نے سوشل میڈیا صارفین کو قہقہوں پر مجبور کر دیا۔

سوشل میڈیا پر ہلچل

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اروشی روٹیلا کے دعووں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ صارفین نے ان کے اس خود اعتماد انداز کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے اسے ایک چالاک مارکیٹنگ حکمت عملی قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "اروشی روٹیلا واقعی جانتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر توجہ کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ ویڈیو ہنسی سے بھرپور ہے!” ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا، "اگر اروشی بینک کھل گیا تو میں اپنا سارا پیسہ وہاں جمع کرواؤں گا!” کچھ صارفین نے ان کے وارن بفیٹ والے دعوے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ محض ایک مذاق ہے جو اشتہار کے لیے بنایا گیا۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کی ایک وجہ اس کا ہلکا پھلکا اور خود پر ہنسنے والا انداز ہے۔ اروشی نے اس سے قبل بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کیا تھا، خاص طور پر کانز فلم فیسٹیول 2025 میں اپنی موجودگی کے دوران، جب ان پر سیڑھیوں کو بلاک کرنے کا الزام لگا تھا۔ تاہم، اس بار انہوں نے تنقید کو تفریح میں بدل کر ایک مثبت پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے ناقدین سے متاثر نہیں ہوتیں۔

اروشی روٹیلا کا سوشل میڈیا پر اثر

اروشی روٹیلا طویل عرصے سے اپنے بولڈ انداز، فیشن، اور غیر معمولی تبصروں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر موضوع بحث رہی ہیں۔ اس سے قبل، وہ کانز فلم فیسٹیول 2025 میں اپنی ایک ویڈیو کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنی تھیں، جب انہیں ایک ہوٹل کی سیڑھیوں پر پوز دیتے ہوئے دیگر مہمانوں کے راستے میں رکاوٹ بننے کا الزام لگا تھا۔ تاہم، انہوں نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی ٹیم کو فوٹو شوٹ کے لیے باضابطہ اجازت حاصل تھی۔

اس نئی ویڈیو میں، اروشی نے اپنے ناقدین کو ایک بار پھر چت کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں تنقید کو قبول کیا اور اسے ایک مزاحیہ اشتہار کا حصہ بنا کر اپنی برانڈ ویلیو کو بڑھایا۔ ان کی یہ ویڈیو نہ صرف فاسٹ فوڈ برانڈ کی تشہیر کرتی ہے بلکہ ان کی اپنی شخصیت کو بھی ایک تفریحی اور خود اعتماد انداز میں پیش کرتی ہے۔

پس منظر: اروشی کا متنازع لیکن مقبول کیریئر

اروشی روٹیلا نے اپنے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا اور 2012 میں فلم ’سنگھ صاحب دی گریٹ‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ انہوں نے متعدد ہندی، تامل، اور تیلگو فلموں میں کام کیا ہے، جن میں ’گرینڈ مستی‘، ’ہیتے‘، اور ’پیگلپانتی‘ شامل ہیں۔ تاہم، ان کی اداکاری سے زیادہ ان کے سوشل میڈیا پر بیانات اور فیشن کے انتخاب نے انہیں شہرت دی ہے۔

حال ہی میں، اروشی نے کانز فلم فیسٹیول 2025 میں اپنی موجودگی سے سرخیاں بٹوریں، جہاں ان کے لباس، جیسے کہ ایک پارٹ شیپڈ بیگ اور ایک ڈرامائی گولڈن گاؤن، نے خاصی توجہ حاصل کی۔ اگرچہ ان پر تنقید بھی ہوئی، لیکن انہوں نے ہر بار اپنے منفرد انداز سے جواب دیا۔ اس نئی ویڈیو نے ان کے اسی انداز کو جاری رکھا ہے، جہاں وہ تنقید کو تفریح میں بدل کر اپنی سوشل میڈیا موجودگی کو مضبوط کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا کی طاقت اور اشتہاری حکمت عملی

اس ویڈیو کی وائرل کامیابی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سوشل میڈیا آج کے دور میں برانڈز اور شخصیات کے لیے کتنا اہم ہے۔ اروشی کی یہ ویڈیو ایک فاسٹ فوڈ برانڈ کے اشتہار کا حصہ ہے، لیکن اس کا مزاحیہ اور خود پر ہنسنے والا انداز اسے روایتی اشتہارات سے الگ کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اروشی نے اپنی عوامی شخصیت کو ایک برانڈ کے طور پر استعمال کیا ہے، جو نہ صرف ان کی اپنی شہرت کو بڑھاتا ہے بلکہ متعلقہ برانڈ کے لیے بھی ناظرین کی توجہ حاصل کرتا ہے۔

ایک سوشل میڈیا تجزیہ کار نے کہا، "اروشی روٹیلا جانتی ہیں کہ وائرل ہونے کا راز کیا ہے۔ وہ اپنی تنقید کو قبول کرتی ہیں اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ ویڈیو اس کی بہترین مثال ہے، جہاں انہوں نے ایک عام اشتہار کو ایک تفریحی کہانی میں بدل دیا۔”

اروشی روٹیلا کی یہ نئی ویڈیو ان کی سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ کی طاقت اور ان کے منفرد انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے دعوے، جیسے کہ ’اروشی بینک‘ اور وارن بفیٹ کا انہیں وزیر خزانہ سمجھنا، واضح طور پر مزاحیہ اور مبالغہ آمیز ہیں، لیکن یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ ہیں کہ وہ توجہ حاصل کریں اور اپنے ناقدین کو خاموش کریں۔ یہ ویڈیو ایک فاسٹ فوڈ برانڈ کے اشتہار کا حصہ ہے، لیکن اس کا اثر اس سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ اس نے اروشی کی شخصیت کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔

اروشی کا یہ انداز ان کی سوشل میڈیا حکمت عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جانتی ہیں کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں، وائرل مواد نہ صرف توجہ حاصل کرتا ہے بلکہ برانڈ ویلیو کو بھی بڑھاتا ہے۔ ان کے دعووں پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لوگ ان کے ہلکے پھلکے اور خود اعتماد انداز کو پسند کرتے ہیں، چاہے وہ اسے سنجیدگی سے نہ لیں۔

تاہم، یہ دعوے کچھ حد تک خطرات بھی رکھتے ہیں۔ وارن بفیٹ جیسے عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار کا نام استعمال کرنا اور خود کو وزیر خزانہ کے طور پر پیش کرنا کچھ حلقوں میں تنقید کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ یہ واضح ہے کہ یہ دعوے مذاق کے طور پر کیے گئے ہیں، لیکن کچھ لوگ اسے غیر ضروری مبالغہ آرائی سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، اروشی کی یہ ویڈیو ان کی برانڈنگ کی کامیابی کی ایک اور مثال ہے، کیونکہ اس نے نہ صرف برانڈ کی تشہیر کی بلکہ ان کی اپنی شخصیت کو بھی مزید نمایاں کیا۔

اس ویڈیو سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے لیے اب روایتی اشتہارات کافی نہیں ہیں۔ اروشی نے اسے ایک تفریحی کہانی بنا کر ثابت کیا کہ مواد کو دلچسپ اور قابل اشتراک بنانا کامیابی کی کنجی ہے۔ مستقبل میں، اگر اروشی اسی طرح اپنے ناقدین کو تفریح میں بدلتی رہیں تو وہ سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں۔ تاہم، انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ان کے دعوے ایک خاص حد سے زیادہ مبالغہ آمیز نہ ہوں، ورنہ یہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین