اسلام آباد: انسانی جسم میں ہڈیاں نہ صرف بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتی ہیں بلکہ نقل و حرکت اور جسمانی استحکام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیئم کی متوازن مقدار ضروری ہے، جس کی کمی نہ صرف ہڈیوں کے امراض بلکہ دل کی بیماریوں تک کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ کیلشیئم کی کمی کو عام طور پر خواتین سے منسلک کیا جاتا ہے، لیکن مردوں میں بھی اس کی کمی ایک اہم صحت کا مسئلہ ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایک جامع رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں میں کیلشیئم کی کمی کے اثرات کو سمجھنا اور اسے روکنے کے لیے متوازن غذا اور طرز زندگی اپنانا کتنا ضروری ہے۔
کیلشیئم کی اہمیت اور اس کا کردار
کیلشیئم انسانی جسم میں سب سے زیادہ پایا جانے والا معدنی مادہ ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جسم کا 99 فیصد کیلشیئم ہڈیوں میں محفوظ ہوتا ہے، جبکہ باقی ایک فیصد خون، پٹھوں، اور اعصاب کے افعال کے لیے ضروری ہے۔ یہ خون کے جمنے، پٹھوں کی حرکت، اعصابی سگنلز کی ترسیل، اور دل کے مناسب کام کو یقینی بناتا ہے۔ اگر خون میں کیلشیئم کی سطح کم ہو جاتی ہے، تو جسم ہڈیوں سے کیلشیئم نکالتا ہے، جس سے ہڈیاں کمزور ہوتی ہیں اور آسٹیوپوروسس جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وٹامن ڈی کیلشیئم کے جذب میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ پیراٹائرائڈ ہارمون اور کیلسیٹونن خون اور ہڈیوں میں کیلشیئم کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں۔ اگر خوراک یا سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی کی مناسب مقدار نہ ملے تو کیلشیئم کا جذب متاثر ہوتا ہے، جو ہڈیوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
مردوں میں کیلشیئم کی کمی: ایک نظر انداز شدہ حقیقت
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ کیلشیئم کی کمی خواتین کا مسئلہ ہے، خاص طور پر مینوپاز کے بعد، جب ان کی ہڈیاں تیزی سے کمزور ہوتی ہیں۔ تاہم، مرد بھی اس کمی سے محفوظ نہیں ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صحت مند نظر آنے والے مردوں کے ایک گروپ میں، جو طویل عرصے تک کم کیلشیئم والی غذا استعمال کرتے رہے، ہڈیوں کی کثافت میں کمی دیکھی گئی۔ اس تحقیق کے مطابق، بالغ مردوں کو روزانہ 100 سے 200 ملی گرام کیلشیئم کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہڈیوں کا توازن برقرار رہے، لیکن یہ مقدار ان کی خوراک سے پوری نہیں ہوتی۔
مردوں میں کیلشیئم کی کمی کی علامات میں ہاتھوں اور پیروں میں درد، پٹھوں میں کھچاؤ، اور تھکاوٹ شامل ہیں۔ بچپن سے ہی اگر کیلشیئم کی مناسب مقدار نہ لی جائے تو یہ بالغ عمر میں ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ مرد جو تولیدی عمر میں ہیں، ان کے لیے کیلشیئم کی مناسب مقدار نہ صرف ہڈیوں بلکہ عمومی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
کیلشیئم کی کمی کی وجوہات
1. سورج کی روشنی کی کمی
سورج کی روشنی وٹامن ڈی کا بنیادی ذریعہ ہے، جو کیلشیئم کے جذب کے لیے ناگزیر ہے۔ بدلتے طرز زندگی اور شہری رہن سہن نے سورج کی روشنی تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔ جدید گھروں میں کھلے صحن اور برآمدوں کی کمی نے اس مسئلے کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ بچے اب زیادہ تر وقت انڈور گیمز کھیلتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوتی ہیں اور وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں لوگ زیادہ وقت کھلی فضا میں گزارتے ہیں، یہ مسئلہ کم دیکھا جاتا ہے، لیکن ان کی خوراک میں کیلشیئم کی مقدار اکثر ناکافی ہوتی ہے۔
2. غیر متوازن غذا
متوازن غذا کیلشیئم کی کمی کو پورا کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، لیکن آج کل جنیاتی طور پر تبدیل شدہ غذاؤں (جیسے گندم) اور ملاوٹی دودھ کے استعمال نے اس کمی کو بڑھایا ہے۔ شہری علاقوں میں لوگ زیادہ تر پراسیسڈ فوڈز پر انحصار کرتے ہیں، جن میں کیلشیئم کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، بچوں کو دودھ میں ملا کر دیے جانے والے صحت بخش مشروبات اکثر شکر سے بھرپور ہوتے ہیں، جو کیلشیئم کے بجائے شوگر کی مقدار بڑھاتے ہیں اور بچوں کو چینی کا عادی بناتے ہیں۔
3. جسمانی ضروریات
بچپن میں لڑکیوں کی نشوونما لڑکوں سے تیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں زیادہ کیلشیئم کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، 19 سال کی عمر کے بعد مردوں کی جسمانی نشوونما بڑھتی ہے، اور انہیں ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے مناسب کیلشیئم درکار ہوتا ہے۔ خواتین عام طور پر مردوں کے مقابلے میں کم کھاتی ہیں، خاص طور پر ماہواری کے دوران، جس سے ان کی کیلشیئم کی مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔ معاشرتی طور پر، مردوں اور عورتوں کی خوراک میں فرق بھی اس کمی کو بڑھاتا ہے۔
کیلشیئم کی کمی کو کیسے دور کیا جائے؟
ماہرین کے مطابق، کیلشیئم کی کمی کو دور کرنے کے لیے متوازن غذا سب سے اہم ہے۔ ایک بالغ فرد کو روزانہ 800 ملی گرام فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے کیلشیئم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے پورا کرنے کے لیے درج ذیل غذائیں فائدہ مند ہیں:
-
انجیر، بروکولی، اور ڈرم سٹک: یہ کیلشیئم سے بھرپور ہوتے ہیں اور جسم میں جذب ہونے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔
-
خشک میوہ جات اور گری دار میوے: بادام، اخروٹ، اور کاجو کیلشیئم کے قدرتی ذرائع ہیں۔
-
دودھ اور دہی: یہ کیلشیئم کے سب سے بہترین ذرائع ہیں، بشرطیکہ ان میں ملاوٹ نہ ہو۔
تاہم، کیلشیئم کا جذب ہونے کے لیے وٹامن ڈی اور مناسب ورزش ضروری ہے۔ سورج کی روشنی میں صبح کے وقت 15 سے 20 منٹ گزارنا وٹامن ڈی کی مقدار بڑھاتا ہے۔ اگر خوراک سے کیلشیئم کی ضرورت پوری نہ ہو تو سپلیمنٹس کا استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ڈاکٹر کے مشورے سے لینا چاہیے۔
سپلیمنٹس کا استعمال: فوائد اور خطرات
کیلشیئم کے سپلیمنٹس مارکیٹ میں بڑی تعداد میں دستیاب ہیں، لیکن ان کا استعمال احتیاط سے کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق، کیلشیئم اور آئرن کی گولیوں کو ایک ساتھ نہیں لینا چاہیے، کیونکہ دونوں ایک ہی جگہ (چھوٹی آنت) میں جذب ہوتے ہیں۔ بہتر ہے کہ کیلشیئم کی گولی صبح کھانے کے ساتھ اور آئرن کی گولی رات کو لی جائے۔ ضرورت سے زیادہ کیلشیئم گردوں کی پتھری اور دیگر سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
خواتین کے مقابلے میں مردوں میں کیلشیئم کی کمی کم ہوتی ہے، کیونکہ ان کے جسم میں چربی کی مقدار کم ہوتی ہے، اور کیلشیئم ایک چربی میں حل پذیر مادہ ہے۔ تاہم، اگر میٹابولزم خراب ہو تو کیلشیئم کا جذب متاثر ہوتا ہے۔ باقاعدہ ورزش، 7 سے 8 گھنٹے کی نیند، اور صحت مند طرز زندگی میٹابولزم کو درست رکھتی ہے۔
مردوں میں کیلشیئم کی کمی: تحقیق کے نتائج
ایک حالیہ تحقیق میں بظاہر صحت مند مردوں کے ایک گروپ کی جانچ کی گئی، جنہوں نے طویل عرصے تک کم کیلشیئم والی غذا کھائی تھی۔ نتائج سے پتہ چلا کہ ان مردوں کو روزانہ 100 سے 200 ملی گرام کیلشیئم کی ضرورت تھی تاکہ ہڈیوں کا توازن برقرار رہے۔ یہ مقدار اگرچہ خواتین کے مقابلے میں کم ہے، لیکن اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مردوں کو بھی کیلشیئم کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر تولیدی عمر کے مردوں کے لیے کیلشیئم کی مناسب مقدار ضروری ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ہڈیوں بلکہ عمومی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔
تاہم، تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ موجودہ کیلشیئم کی ضروریات کے تخمینے پرانی تحقیقات پر مبنی ہیں، اور جدید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ مردوں اور خواتین کے لیے کیلشیئم کی درست مقدار کا تعین کیا جا سکے۔ اگرچہ مردوں میں کیلشیئم کی کمی کا امکان کم ہوتا ہے، لیکن غیر متوازن غذا اور سورج کی روشنی کی کمی اسے بڑھا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین نے کیلشیئم کی کمی کے بارے میں آگاہی کی ضرورت پر زور دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "ہمیں اپنے بچوں کو دودھ اور دہی کھلانے کی عادت ڈالنی چاہیے، نہ کہ پراسیسڈ فوڈز پر انحصار کرنا چاہیے۔” ایک اور صارف نے کہا، "مردوں میں کیلشیئم کی کمی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہڈیاں عمر بھر مضبوط رہنی چاہئیں۔” کچھ صارفین نے شہری طرز زندگی پر تنقید کی اور کہا کہ "ہمارے گھروں میں اب کھلی فضا کی جگہ نہیں، جس کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی عام ہو گئی ہے۔”
مردوں میں کیلشیئم کی کمی کا موضوع اگرچہ خواتین کے مقابلے میں کم زیر بحث آتا ہے، لیکن یہ ایک اہم صحت کا مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں کو بھی ہڈیوں کی مضبوطی اور عمومی صحت کے لیے کیلشیئم کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر تولیدی عمر میں۔ تاہم، جدید شہری طرز زندگی، غیر متوازن غذا، اور سورج کی روشنی کی کمی نے اس مسئلے کو بڑھاوا دیا ہے۔
سورج کی روشنی کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ یہ وٹامن ڈی کی پیدائش کو متاثر کرتی ہے، جو کیلشیئم کے جذب کے لیے ضروری ہے۔ شہری علاقوں میں گھروں کی بند ساخت اور بچوں کی انڈور سرگرمیوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں لوگ زیادہ وقت کھلی فضا میں گزارتے ہیں، وٹامن ڈی کی مقدار بہتر ہوتی ہے، لیکن ان کی خوراک میں کیلشیئم کی کمی ایک الگ مسئلہ ہے۔
متوازن غذا اس مسئلے کا سب سے مؤثر حل ہے۔ دودھ، دہی، سبز سبزیاں، اور خشک میوہ جات جیسے قدرتی ذرائع سے کیلشیئم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، پراسیسڈ فوڈز اور ملاوٹی دودھ نے اس ضرورت کو پورا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ بچوں کو کم عمری سے ہی صحت مند خوراک کی عادت ڈالنا ضروری ہے، کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ جسم کی کیلشیئم جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔
سپلیمنٹس کا استعمال ایک مؤثر حل ہو سکتا ہے، لیکن اسے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ضرورت سے زیادہ کیلشیئم گردوں کی پتھری اور دیگر مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ مردوں کے لیے، اگرچہ کیلشیئم کی کمی کا خطرہ کم ہے، لیکن اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنا درست نہیں۔ خاص طور پر وہ مرد جو کم جسمانی سرگرمی کرتے ہیں یا غیر متوازن غذا کھاتے ہیں، انہیں اپنی ہڈیوں کی صحت پر توجہ دینی چاہیے۔
حکومت اور صحت کے اداروں کو اس بارے میں آگاہی مہم چلانی چاہیے، جس میں نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کو بھی کیلشیئم کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ، شہری علاقوں میں کھلی جگہوں اور کھیل کے میدانوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی حاصل کر سکیں۔ اگر ان اقدامات پر عمل کیا جائے تو نہ صرف کیلشیئم کی کمی کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مجموعی صحت عامہ کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو مستقبل کی نسلوں کی صحت کو محفوظ بنائے گی۔





















