بلیاں پانی کو کیوں ناپسند کرتی ہیں؟

بلیوں کی پانی سے دوری کی ایک بڑی وجہ ان کا تاریخی پس منظر ہے

لاہور: بلیاں اپنی پھرتی، خود مختاری، اور صاف ستھرے رویے کے لیے مشہور ہیں، لیکن جب بات پانی کی آتی ہے تو وہ اکثر اس سے منہ موڑتی ہیں یا خوفزدہ ہو جاتی ہیں۔ ’بلیوں کی پانی سے نفرت‘ ایک ایسی بات ہے جو پالتو جانور رکھنے والوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ رویہ بلیوں کی فطری جبلت، جسمانی خصوصیات، اور ماحولیاتی عوامل کا نتیجہ ہے۔ یہ رپورٹ بلیوں کے پانی سے دوری اختیار کرنے کی وجوہات کو تفصیل سے بیان کرتی ہے، جو ان کی قدیم جبلتوں سے لے کر جدید طرز زندگی تک کے عوامل پر مشتمل ہیں۔

بلیوں کی صحرائی جڑیں

بلیوں کی پانی سے دوری کی ایک بڑی وجہ ان کا تاریخی پس منظر ہے۔ گھریلو بلیوں کے آباؤ اجداد، جیسے کہ افریقی وائلڈ کیٹ (Felis lybica)، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خشک صحرائی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان علاقوں میں پانی کی قلت تھی، اور بلیوں نے اپنی بقا کے لیے پانی سے کم سے کم واسطہ رکھنے کی عادت اپنائی۔ تیراکی یا پانی میں وقت گزارنا ان کے لیے نہ تو ضروری تھا اور نہ ہی فطری۔ یہ جبلت آج کی گھریلو بلیوں میں بھی موجود ہے، جو پانی کو غیر مانوس اور غیر ضروری سمجھتی ہیں۔

ماہرین حیوانات کے مطابق، صحرائی ماحول میں بلیوں نے اپنی جسمانی ضروریات، جیسے کہ پانی کی طلب، شکار سے حاصل ہونے والی نمی کے ذریعے پوری کی۔ اس لیے ان کی جسم کی ساخت اور رویے پانی سے بچنے کے لیے تیار ہوئے، جو آج بھی ان کے پانی سے دوری کی ایک بنیادی وجہ ہے۔

بالوں کی ساخت اور پانی کا اثر

بلیوں کے نرم، گھنے، اور کثیر الطبقات بال ان کی خوبصورتی اور تحفظ کا ذریعہ ہیں، لیکن پانی کے ساتھ ان کا رشتہ زیادہ خوشگوار نہیں۔ جب بلی کے بال پانی سے بھیگتے ہیں تو وہ بھاری ہو جاتے ہیں اور جسم سے چپک جاتے ہیں، جس سے بلی کو تکلیف اور بے چینی ہوتی ہے۔ ان بالوں کو خشک ہونے میں کافی وقت لگتا ہے، کیونکہ بلیوں کے بالوں کی ساخت پانی کو زیادہ دیر تک روکے رکھتی ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف بلی کے لیے غیر آرام دہ ہوتی ہے بلکہ اس کی چستی اور پھرتی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

مزید برآں، بھیگے ہوئے بال بلی کی قدرتی گرمی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو کم کرتے ہیں، جس سے وہ سردی یا ٹھنڈک محسوس کر سکتی ہے۔ یہ احساس بلیوں کے لیے غیر فطری ہے، کیونکہ وہ اپنے جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے عادی جانور ہیں۔

ماحول پر کنٹرول کی خواہش

بلیاں اپنے ماحول پر مکمل کنٹرول رکھنا پسند کرتی ہیں۔ وہ اپنے آس پاس کے حالات کو پیشگی اندازہ لگانے اور غیر متوقع حالات سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پانی میں داخل ہونا، چاہے وہ نہانے کے لیے ہو یا بارش میں بھیگنا، ان کے لیے ایک غیر متوقع اور غیر کنٹرول شدہ تجربہ ہوتا ہے۔ پانی کی سطح پر پھسلنا، گہرائی کا احساس، یا پانی کی غیر یقینی حرکت انہیں خوفزدہ کر سکتی ہے۔ یہ خوف ان کے فطری رویے کا حصہ ہے، جو انہیں ہر اس چیز سے محتاط رکھتا ہے جو ان کے کنٹرول سے باہر ہو۔

اس کے برعکس، بلیاں اپنی صفائی کے لیے اپنی زبان سے چاٹ کر خود کو صاف رکھتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کے جسم کو صاف رکھتا ہے بلکہ ان کی قدرتی خوشبو کو بھی برقرار رکھتا ہے، جو ان کی شناخت اور خود اعتمادی کا حصہ ہے۔ پانی اس قدرتی خوشبو کو دھو دیتا ہے، جس سے بلی اپنی شناخت کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کر سکتی ہے۔

ماضی کے تجربات اور نفسیاتی اثرات

بلیوں کا پانی سے خوف بعض اوقات ان کے ماضی کے تجربات سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اگر کسی بلی کو نہلانے کے دوران زبردستی پکڑا گیا ہو یا ٹھنڈے پانی کا استعمال کیا گیا ہو تو یہ تجربہ اس کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں، بلی پانی کو ایک منفی تجربے سے جوڑ لیتی ہے اور مستقبل میں اس سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، بلیوں کو کم عمری سے ہی پانی سے مانوس کروانا ان کے خوف کو کم کر سکتا ہے، بشرطیکہ یہ عمل آہستہ آہستہ اور مثبت انداز میں کیا جائے۔

مثال کے طور پر، اگر نہانے کے دوران گرم پانی اور نرم ہاتھوں کا استعمال کیا جائے اور بلی کو تناؤ سے بچایا جائے تو وہ آہستہ آہستہ پانی کو قبول کر سکتی ہے۔ تاہم، زیادہ تر بلیوں کے لیے یہ عمل فطری طور پر غیر آرام دہ رہتا ہے۔

بلیوں کی صفائی پسندی

یہ کہنا غلط ہو گا کہ بلیاں گندگی پسند کرتی ہیں۔ درحقیقت، بلیاں جانوروں کی دنیا میں سب سے زیادہ صاف ستھری مخلوقات میں سے ہیں۔ وہ روزانہ کئی گھنٹے اپنے جسم کو چاٹ کر صاف کرنے میں صرف کرتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان کے بالوں کو چمکدار رکھتا ہے بلکہ ان کی جلد کو صحت مند اور جراثیم سے پاک رکھتا ہے۔ پانی سے نہانا ان کے اس قدرتی صفائی کے عمل کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ ان کی جلد کی قدرتی تیل کی تہہ کو ہٹا دیتا ہے، جو ان کے بالوں کی چمک اور صحت کے لیے ضروری ہے۔

چند استثنائی بلیاں

اگرچہ زیادہ تر بلیاں پانی سے گریز کرتی ہیں، لیکن کچھ نسلیں، جیسے کہ مین کون، ترکش وین، اور بنگال بلیاں، پانی کے ساتھ زیادہ آرام دہ ہوتی ہیں۔ یہ نسلیں بعض اوقات پانی میں کھیلنا یا تیرنا بھی پسند کرتی ہیں۔ اس کی وجہ ان کی جینیاتی ساخت اور ماحول سے ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ترکش وین بلیوں کو ’سوئمنگ کیٹس‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے آباؤ اجداد ترکی کے دریاؤں اور جھیلوں کے قریب رہتے تھے۔ تاہم، یہ استثناء عام گھریلو بلیوں پر لاگو نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس موضوع پر ایکس پر ایک پوسٹ نے خاصی توجہ حاصل کی، جہاں صارفین نے بلیوں کے پانی سے خوف کے بارے میں دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "میری بلی بارش کے ایک قطرے سے بھی بھاگتی ہے، لیکن اپنے واٹر باؤل کو پلٹنا پسند کرتی ہے!” ایک اور صارف نے کہا، "یہ جان کر حیرت ہوئی کہ بلیوں کی پانی سے نفرت ان کی صحرائی جڑوں سے جڑی ہے۔ واقعی فطرت کا کمال ہے!” کچھ صارفین نے اپنی بلیوں کو پانی سے مانوس کرانے کے تجربات شیئر کیے، جبکہ دیگر نے اسے ایک فطری رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلیوں کو ان کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔

بلیوں کی پانی سے ’نفرت‘ دراصل ان کی فطری جبلت، جسمانی ساخت، اور ماحولیاتی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ ان کے صحرائی پس منظر نے انہیں پانی سے دوری اختیار کرنے کی عادت دی، جبکہ ان کے بالوں کی ساخت اور ماحول پر کنٹرول کی خواہش نے اس رویے کو مزید پختہ کیا۔ اگرچہ بلیوں کی صفائی پسندی انہیں پانی سے نہانے کی ضرورت سے مستثنیٰ نہیں کرتی، لیکن ان کا پانی سے خوف ان کے قدرتی رویے کا ایک لازمی حصہ ہے۔

یہ رویہ بلیوں کے پالتو جانوروں کے طور پر کردار کو مزید دلچسپ بناتا ہے۔ پالتو جانور رکھنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بلیوں کے اس رویے کو سمجھیں اور انہیں زبردستی پانی میں نہ ڈالیں۔ اگر نہانا ضروری ہو تو گرم پانی، نرم ہاتھوں، اور مثبت ماحول کا استعمال بلی کے تناؤ کو کم کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، کم عمری سے بلیوں کو پانی سے مانوس کرانا ان کے خوف کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے، لیکن یہ عمل ہمیشہ ان کی فطری جبلتوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

بلیوں کی پانی سے دوری کو سمجھنا نہ صرف پالتو جانوروں کے مالکان کے لیے مفید ہے بلکہ یہ جانوروں کے رویوں اور فطری ارتقا کے مطالعے کے لیے بھی ایک دلچسپ موضوع ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جانوروں کے رویے ان کے ماحول، جینیاتی ساخت، اور تاریخی پس منظر سے کس طرح جڑے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کی بلی پانی سے بھاگتی ہے تو اسے سزا نہ دیں، بلکہ اس کی فطرت کو قبول کریں اور اسے اپنی مرضی سے اپنی صفائی کا خیال رکھنے دیں۔ بلیوں کی یہ منفرد خصوصیت ہی انہیں ہمارے گھروں کا ایک پیارا اور پراسرار حصہ بناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین