لاہور: لاہور کے نواحی علاقے شاہ پور کانجرہ میں ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے دل دہلا دینے والے اجتماعی زیادتی کے واقعے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس سنگین جرم کے دو مرکزی ملزمان پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ واقعے کی سنگینی نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ اعلیٰ حکام کو بھی فوری ایکشن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات
شاہ پور کانجرہ کے پرسکون علاقے میں ایک شہری اپنی اہلیہ کے ساتھ کھیتوں میں معمول کی سیر کے لیے نکلا تھا۔ یہ جوڑا اپنے آس پاس کے ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک چار مسلح افراد نے انہیں گھیر لیا۔ ملزمان نے نہ صرف جوڑے کو دھمکیاں دیں بلکہ خاتون کو اس کے شوہر کے سامنے بدترین تشدد اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ شوہر کے مطابق، تین ملزمان، جن کی عمریں 18 سے 28 سال کے درمیان تھیں، نے ابتدا میں خاتون پر حملہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے موبائل فون کے ذریعے ایک اور شخص کو جائے وقوعہ پر بلایا، جس نے بھی اس گھناؤنے جرم میں حصہ لیا۔
یہ واقعہ اتنا تکلیف دہ تھا کہ متاثرہ خاندان شدید صدمے کی حالت میں ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ چوہنگ میں متاثرہ شوہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، اور پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
پولیس کی فوری کارروائی
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے بغیر کسی تاخیر کے کارروائی شروع کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سی سی ڈی نے ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپہ مارا۔ اس دوران ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی، جس کے جواب میں پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی۔
اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو مرکزی ملزمان، جن کی شناخت اویس اور شہزاد کے طور پر ہوئی، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا، لیکن بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے اسلحہ، گولیوں کے خول، اور دیگر اہم شواہد برآمد کر لیے ہیں، جو تحقیقات میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مفرور ملزمان کی تلاش
پولیس ترجمان کے مطابق، باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چوہنگ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کی متعدد ٹیمیں، جن میں خصوصی تحقیقاتی یونٹس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں شامل ہیں، مفرور ملزمان کی تلاش میں سرگرم ہیں۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ملزمان کے بارے میں کوئی بھی معلومات فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن پر فراہم کریں۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پولیس اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کسی بھی ملزم کو قانون کے شکنجے سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ چوہنگ کے گرد و نواح میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
حکومتی ردعمل
اس گھناؤنے واقعے نے اعلیٰ حکام کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا، "ہمارا عزم ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے گا، اور اس جرم کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔”
آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس اس کیس کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لے رہی ہے اور تمام وسائل بروئے کار لا کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے زخمی پولیس اہلکار کی ہمت کو بھی سراہا اور کہا کہ پولیس اپنی جان پر کھیل کر عوام کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔
سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ
اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک شرمناک داغ ہے۔ ہمیں خواتین کی حفاظت کے لیے سخت قوانین اور فوری عمل کی ضرورت ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "پولیس کی کارروائی قابلِ تحسین ہے، لیکن جب تک باقی ملزمان گرفتار نہیں ہوتے، انصاف مکمل نہیں ہوگا۔” کچھ صارفین نے معاشرتی رویوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے نہ صرف قانون بلکہ معاشرتی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔
شاہ پور کانجرہ میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ ایک بار پھر پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ اگرچہ پولیس کی فوری کارروائی اور دو ملزمان کی ہلاکت سے متاثرہ خاندان کو کچھ اطمینان مل سکتا ہے، لیکن یہ واقعہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی جنسی تشدد کی لہر کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے واقعات نے بھی قوم کو جھنجھوڑا تھا، اور بدقسمتی سے اس طرح کے جرائم میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پنجاب پولیس کی جانب سے فوری ردعمل اور ملزمان کے خلاف کارروائی قابلِ تحسین ہے، لیکن اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت، اگرچہ بعض اوقات ناگزیر ہوتی ہے، لیکن اس سے قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ملزمان کو زندہ گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کرنا اور انہیں سزا دلوانا انصاف کے عمل کو زیادہ شفاف اور قابلِ اعتماد بناتا ہے۔
اس واقعے سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ شہری علاقوں کے نواحی دیہی مقامات پر سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ چوہنگ جیسے علاقوں میں رات کے وقت پٹرولنگ اور سیکیورٹی چیک پوسٹس کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
مزید برآں، معاشرے میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا، اور سوشل پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسی مہمات چلائی جانی چاہئیں جو صنفی مساوات اور خواتین کے احترام کو فروغ دیں۔ حکومتی سطح پر، اینٹی ریپ قوانین کو مزید سخت کرنے اور ان کے فوری نفاذ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے نفسیاتی اور قانونی امداد کے نظام کو بھی مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اس صدمے سے نکل سکیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین کے تحفظ اور انصاف کے لیے صرف پولیس ایکشن کافی نہیں۔ اس کے لیے معاشرتی، قانونی، اور انتظامی اصلاحات کا ایک جامع نظام درکار ہے۔ اگر ہم ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں تو ہر سطح پر ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس واقعے کے باقی ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کے عمل کو مکمل کرنا نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک اہم پیغام ہوگا۔





















