واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عالمی تجارت کو نئی شکل دینے کے لیے ایک جارحانہ ٹیرف پالیسی کا آغاز کر دیا ہے، جو آج سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت مختلف ممالک پر مختلف شرحوں سے جوابی ٹیرف عائد کیے گئے ہیں، جس میں پاکستان کو اپنے روایتی حریف بھارت کے مقابلے میں نمایاں رعایت حاصل ہوئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق، پاکستان پر 19 فیصد جبکہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف عالمی تجارت کے منظر نامے کو تبدیل کر رہی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں پاک-امریکا تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز بھی کر رہی ہے۔
نئی امریکی ٹیرف پالیسی کی تفصیلات
امریکی انتظامیہ نے اپنی "امریکا سب سے پہلے” پالیسی کے تحت عالمی تجارت میں توازن پیدا کرنے کے لیے جوابی ٹیرف کا ایک جامع نظام متعارف کرایا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ان ممالک کے ساتھ تجارت کو متوازن کرنا ہے جو امریکا کے ساتھ تجارتی خسارے کا باعث بن رہے ہیں یا امریکی مصنوعات پر زیادہ ٹیرف عائد کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق، یہ ٹیرف 7 اگست 2025 سے مکمل طور پر نافذ ہوں گے، تاکہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کو اپنے نظام کو اپ ڈیٹ کرنے کا وقت مل سکے۔
جنوبی ایشیا کے تناظر میں، پاکستان کو 19 فیصد ٹیرف کی شرح دی گئی ہے، جو بھارت پر عائد 25 فیصد ٹیرف سے واضح طور پر کم ہے۔ اس رعایت نے پاکستان کو خطے میں ایک اسٹریٹجک برتری دی ہے، خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں، جو پاکستان کی برآمدات کا اہم حصہ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق، دیگر ایشیائی ممالک جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، اور فلپائن پر بھی 19 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جبکہ قازقستان اور مالدووا پر 25 فیصد، جنوبی افریقا، الجزائر، اور لیبیا پر 30 فیصد، میانمار اور لاؤس پر 40 فیصد، اور شام پر سب سے زیادہ 41 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی اتحادی ممالک بھی اس پالیسی سے مستثنیٰ نہیں رہے۔ کینیڈا پر ٹیرف کی شرح 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ اسرائیل جیسے قریبی اتحادی پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی انتظامیہ کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی اقتصادی پالیسیوں کو عالمی سطح پر یکساں طور پر نافذ کرنا چاہتی ہے، چاہے اس کے اتحادی ہی کیوں نہ ہوں۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں کم ٹیرف کی شرح ملنے کی بنیادی وجہ حالیہ سفارتی کوششیں ہیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات، وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفونک رابطے، اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے اس رعایت کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان ملاقاتوں نے نہ صرف پاک-امریکا تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ امریکی انتظامیہ کو پاکستان کے ساتھ طویل مدتی اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن سے اپنے ویڈیو بیان میں کہا، "ہمارا مقصد ہمیشہ سے صرف فوری تجارتی فوائد سے آگے بڑھ کر ایک جامع اقتصادی تعاون قائم کرنا تھا۔ یہ ٹیرف رعایت پاکستان کی برآمدات کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی اور سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور کرپٹو کرنسی جیسے شعبوں میں تعاون کا ایک نیا باب کھولے گا۔
عالمی تناظر میں ٹیرف کی درجہ بندی
امریکی ٹیرف پالیسی کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارتی خسارے اور ان کے امریکی مصنوعات پر عائد کردہ ٹیرف کی شرح کے تناسب سے ترتیب دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، شام پر 41 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جو اس فہرست میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ ایشیا کے دیگر ممالک جیسے ویتنام پر 20 فیصد اور بنگلہ دیش پر 20 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ چین، جو امریکی تجارت میں سب سے بڑا خسارہ پیدا کرنے والا ملک ہے، اسے 34 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جو عالمی منڈیوں میں خاصی ہلچل کا باعث بن رہا ہے۔
کینیڈا پر ٹیرف میں اضافہ (25 فیصد سے 35 فیصد) نے شمالی امریکا کے تجارتی ڈھانچے، خاص طور پر USMCA معاہدے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اسی طرح، اسرائیل پر 15 فیصد ٹیرف نے امریکی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کی ہے۔ تاہم، بعض شعبوں جیسے کہ دواسازی، تانبا، اور سیمی کنڈکٹرز کو ان ٹیرف سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جو امریکی معیشت کی انحصار شدہ ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پلیٹ فارم پر اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانی صارفین نے اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "پاکستان کا 19 فیصد ٹیرف بھارت کے 25 فیصد کے مقابلے میں ایک بڑی فتح ہے۔ یہ ہماری سفارتی ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "یہ رعایت پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔” تاہم، کچھ صارفین نے خدشات کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر ٹیرف کی یہ جنگ پاکستانی برآمدات کو طویل مدتی نقصان بھی پہنچا سکتی ہے اگر دوسرے ممالک جوابی ٹیرف عائد کریں۔
امریکی ٹیرف پالیسی کا عالمی نفاذ ایک ایسی پیش رفت ہے جو عالمی تجارت کے ڈھانچے کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں 19 فیصد ٹیرف کی رعایت ملنا یقیناً ایک سفارتی کامیابی ہے، جو پاک-امریکا تعلقات میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ رعایت خاص طور پر پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، جو امریکا کو $5.3 بلین کی برآمدات کا ایک اہم حصہ فراہم کرتا ہے۔ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف کے مقابلے میں پاکستان کی 6 فیصد کم شرح اسے امریکی منڈی میں قیمت کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی بنا سکتی ہے، بشرطیکہ پاکستانی برآمد کنندگان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے توانائی اور لاجسٹک اخراجات کو کم کریں۔
تاہم، یہ پالیسی عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی پیش کرتی ہے۔ امریکی ٹیرف کی بلند شرح، خاص طور پر چین (34 فیصد)، ویتنام (20 فیصد)، اور بنگلہ دیش (20 فیصد) پر، عالمی سپلائی چینز کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہ صرف امریکی منڈی پر توجہ دینی چاہیے بلکہ یورپی یونین، چین، ASEAN، اور مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ، امریکی ٹیرف پالیسی کے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کے قوانین سے متصادم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ یہ ٹیرف عالمی تجارت کے اصولوں سے تجاوز کرتے ہیں۔ اگر دوسرے ممالک جوابی ٹیرف عائد کرتے ہیں تو اس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کا اثر پاکستانی برآمدات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارتی مذاکرات کو جاری رکھنا چاہیے اور اپنی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اندرونی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے، جیسے کہ توانائی کی قیمتوں میں کمی، لاجسٹک کی بہتری، اور نئی منڈیوں تک رسائی۔
یہ پالیسی پاکستان کے لیے ایک موقع اور چیلنج دونوں ہے۔ اگر پاکستانی پالیسی ساز اس رعایت کو درست طریقے سے استعمال کریں اور برآمدی تنوع پر توجہ دیں تو پاکستان عالمی تجارت میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔ تاہم، عالمی تجارت کی غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ جوابی ٹیرف کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس نازک موڑ پر پاکستان کو اپنی معاشی حکمت عملی کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی تجارت کے اس نئے دور میں اپنی معاشی خود مختاری کو یقینی بنا سکے۔





















