پاکستان کی نسبت بھارت پر امریکی ٹیرف زیادہ لگانے کی وجہ کیا ہے؟

آج بھارت روزانہ تقریباً 1.8 ملین بیرل خام تیل روس سے درآمد کرتا ہے

غلام مرتضیٰ

امریکہ کی جانب سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور روس کے ساتھ تجارت کی وجہ سے اضافی جرمانے کے اعلان نے عالمی معاشی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جو حالیہ برسوں میں روس سے سستے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی بدولت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ بھارت، جو خود کو دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر پیش کرتا آیا ہے، اب ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے۔ کیا وزیراعظم نریندر مودی روس کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کو برقرار رکھیں گے یا امریکی دباؤ کے سامنے جھک کر اپنی معیشت کو ایک نئے چیلنج کی طرف دھکیلیں گے؟ یہ مضمون اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے، جس میں بھارت کی معاشی حکمت عملی، روس کے ساتھ اس کے تعلقات، اور امریکی ٹیرف کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔

بھارت، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک، اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک غیر ملکی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ 2022 میں روس-یوکرائن جنگ کے آغاز کے بعد، جب مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کیں، بھارت نے سستے روسی تیل کا فائدہ اٹھایا۔ آج بھارت روزانہ تقریباً 1.8 ملین بیرل خام تیل روس سے درآمد کرتا ہے، جو اس کی مجموعی تیل کی ضروریات کا تقریباً 35-40 فیصد ہے۔ 2024 میں بھارت اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 65.69 سے 68.7 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جس میں زیادہ تر خام تیل، کوئلہ، مائع قدرتی گیس، اور دفاعی سازوسامان شامل تھے۔

روس سے سستا تیل خرید کر بھارت نے نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کیں بلکہ اسے ریفائن کرکے یورپ اور امریکہ جیسے بڑے بازاروں میں فروخت کرکے اربوں ڈالر کا منافع بھی کمایا۔ مثال کے طور پر، بھارت کی سب سے بڑی نجی ریفائنری، ریلائنس انڈسٹریز، نے 2024 میں صرف امریکہ کو ریفائنڈ تیل فروخت کرکے 727 ملین ڈالر کا منافع حاصل کیا، جبکہ مجموعی طور پر بھارت نے روسی تیل کی ویلیو ایڈیشن سے 33 بلین ڈالر کمائے۔ بھارت کے اہم خریداروں میں نیدرلینڈز (ڈیزل اور جیٹ فیول)، امریکہ (پٹرول اور جیٹ فیول)، سنگاپور (پٹرول، ڈیزل، اور LNG)، اور آسٹریلیا (ڈیزل) شامل ہیں۔ اس حکمت عملی نے بھارت کو عالمی توانائی کے بازار میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرنے میں مدد دی، لیکن اب یہ وہی حکمت عملی اس کے لیے معاشی اور سفارتی مسائل کا باعث بن رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 جولائی 2025 کو اعلان کیا کہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جو یکم اگست سے نافذ العمل ہوگا، اس کے علاوہ روس سے تیل اور دفاعی سازوسامان کی خریداری کی وجہ سے ایک اضافی "جرمانہ” بھی لگایا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ بھارت کے امریکہ پر "بہت زیادہ ٹیرف” اور روس کے ساتھ گہرے معاشی تعلقات، خاص طور پر توانائی اور دفاع کے شعبوں میں، روس-یوکرائن جنگ کے تناظر میں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو اب امریکہ اور روس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

یہ ٹیرف بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ امریکہ اس کا سب سے بڑا برآمدی بازار ہے، جہاں 2024 میں بھارت نے 81 بلین ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں، جن میں دواسازی ($8.1 بلین)، ٹیلی کام آلات ($6.5 بلین)، اور قیمتی پتھر ($5.3 بلین) شامل ہیں۔ 25 فیصد ٹیرف سے بھارتی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے وہ امریکی منڈی میں مقابلے کی صلاحیت کھو دیں گی۔ فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشنز کے ڈائریکٹر جنرل اجے سہائی کے مطابق، یہ ٹیرف بھارت کو ویتنام، بنگلہ دیش، اور ممکنہ طور پر چین کے مقابلے میں کمزور کر دیں گے۔

نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات کو ہمیشہ سے گرمجوشی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ فروری 2025 میں مودی کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کو 2030 تک 500 بلین ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں امریکی پالیسیوں، جیسے کہ بھارتی طلبہ کے ویزوں کی منسوخی اور غیر قانونی تارکین وطن کی جبری واپسی، نے بھارتی عوام میں مایوسی پیدا کی ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی، بھارتی حکومت کی جانب سے مسترد کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھی۔

ٹرمپ کا حالیہ ٹیرف فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ بھارت کو روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں، جیسے کہ نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے کہا کہ یہ ٹیرف بھارت کو اپنی پالیسیوں پر "غور کرنے” پر مجبور کریں گے۔ تاہم، بھارت کے وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے پراعتماد انداز میں کہا کہ وہ ان ٹیرف سے پریشان نہیں ہیں اور بھارت اس صورتحال سے نمٹ لے گا، کیونکہ وہ 40 دیگر ممالک سے بھی تیل درآمد کرتا ہے۔

بھارت کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اس کے تیل کے کاروبار پر منحصر ہے۔ روس سے سستا تیل خرید کر بھارت نے نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کیں بلکہ اسے ریفائن کرکے مغربی ممالک کو فروخت کرکے اربوں ڈالر کا منافع بھی کمایا۔ 2024 میں بھارت نے روس سے 231 ملین بیرل Urals خام تیل درآمد کیا، جس میں سے ریلائنس انڈسٹریز اور نایارا انرجی نے 45 فیصد حصہ خریدا۔ یہ تیل مغربی پابندیوں کی وجہ سے سستا تھا، جس سے بھارت نے مالی سال 2024 میں 25 بلین ڈالر سے زیادہ کی بچت کی۔

تاہم، امریکی ٹیرف اس منافع بخش چکر کو توڑ سکتے ہیں۔ اگر بھارت روس سے تیل کی خریداری کم کرتا ہے تو اسے مہنگے تیل کے ذرائع کی طرف جانا پڑے گا، جس سے اس کی معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔ دوسری طرف، اگر بھارت روس کے ساتھ تجارت جاری رکھتا ہے تو امریکی منڈی سے اس کے 100 بلین ڈالر کے برآمدی بازار کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے بھارت کی بڑی کمپنیاں، جیسے کہ ریلائنس، جو عالمی منڈیوں پر انحصار کرتی ہیں، شدید مالی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں، اور ممکنہ طور پر ڈاؤن سائزنگ یا ملازمتوں میں کمی کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔

امریکی ٹیرف اور روس کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر عائد جرمانہ مودی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ بھارت کی معیشت، جو حالیہ برسوں میں سستے روسی تیل کی بدولت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، اب ایک نازک موڑ پر ہے۔ بھارت کے لیے امریکہ اور روس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ایک طرف امریکہ اس کا سب سے بڑا برآمدی بازار ہے، جبکہ دوسری طرف روس سے سستا تیل اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔

بھارت کی معاشی حکمت عملی، جو روس سے سستے تیل کی خریداری اور اسے ریفائن کرکے مغرب کو فروخت کرنے پر مبنی ہے، نے اسے عالمی منڈیوں میں ایک مضبوط پوزیشن دی تھی۔ لیکن اب امریکی ٹیرف اس حکمت عملی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر بھارت روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو جاری رکھتا ہے تو اسے امریکی منڈی سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، جو اس کی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ دوسری طرف، روس سے تیل کی خریداری روکنے سے بھارت کی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو اس کے عام شہریوں پر بوجھ ڈالے گا، جو پہلے ہی محدود اخراجات کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ صورتحال دلچسپ ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ تیل کے ذخائر کی مشترکہ ترقی کا معاہدہ کیا ہے، اور یہ دعویٰ کیا کہ شاید پاکستان ایک دن بھارت کو تیل فروخت کرے۔ یہ بیان نہ صرف بھارت کے لیے سفارتی دھچکا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

مودی کے لیے یہ ایک مشکل سیاسی اور معاشی امتحان ہے۔ اگر وہ روس کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دیتے ہیں تو بھارت کی عالمی ساکھ اور امریکی منڈی تک رسائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ دوسری طرف، اگر وہ امریکی دباؤ کے سامنے جھک جاتے ہیں تو بھارت کے اندرونی سیاسی دباؤ، خاص طور پر تیل سے منافع کمانے والے سرمایہ داروں کی طرف سے، بڑھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارت کی معیشت بلکہ مودی کی سیاسی پوزیشن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر بھارت اس توازن کو برقرار نہ رکھ سکا تو اس کی معیشت واقعی "ہوا کا غبارہ” ثابت ہو سکتی ہے، اور مودی کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین