ماہرین نے کافی مشین کے استعمال پر تشویش کا اظہار کر دیا!

کچن کے برتن، برقی آلات، اور خاص طور پر کافی مشینیں اکثر ری سائیکل شدہ پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں

لندن/اسلام آباد: ہماری صبح کی تازگی اور دن بھر کی توانائی کا راز سمجھی جانے والی کافی مشین اب ایک خطرناک صحت کے خطرے کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ماہرین صحت نے کالے رنگ کے پلاسٹک سے بنے کافی میکرز کے استعمال کے حوالے سے سنگین انتباہ جاری کیا ہے، جو ممکنہ طور پر کینسر جیسے جان لیوا مرض کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ رپورٹ ان کیمیلز اور مرکبات کی موجودگی کو اجاگر کرتی ہے جو ہمارے روزمرہ کے باورچی خانے کے آلات کو صحت کے لیے خطرناک بنا رہے ہیں، اور شہریوں کو اپنی صحت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ترغیب دیتی ہے۔

کالے پلاسٹک کی کافی مشینوں سے خطرہ

ماہرین صحت کے مطابق، کالے رنگ کے پلاسٹک سے بنے کافی میکرز میں کینسر کا سبب بننے والے کیمیکلز کی موجودگی ایک سنگین خطرہ ہے۔ ان مشینوں میں استعمال ہونے والا پلاسٹک اکثر ری سائیکل شدہ مواد سے تیار کیا جاتا ہے، جو رنگ برنگے پلاسٹک کے ٹکڑوں کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پلاسٹک کا رنگ بدصورت ہو جاتا ہے، جسے درست کرنے کے لیے مینوفیکچررز کاربن بلیک نامی ایک خاص ڈائی کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈائی نہ صرف پلاسٹک کو یکساں کالا رنگ دیتی ہے بلکہ اس میں موجود کیمیکلز صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کاربن بلیک میں پولی سائیکلک ایرومیٹک ہائیڈرو کاربنز (PAHs) جیسے خطرناک مرکبات پائے جاتے ہیں، جو کینسر کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان مرکبات کے علاوہ، آگ کو پھیلنے سے روکنے والے کیمیکلز (Flame Retardants) بھی ان مشینوں میں شامل ہوتے ہیں، جو طویل عرصے تک استعمال سے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان کیمیکلز کی موجودگی کی وجہ سے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) نے 2020 میں کاربن بلیک کو ایک ممکنہ کارسینوجن (کینسر کا باعث بننے والا مادہ) قرار دیا تھا، حالانکہ اس کے انسانی صحت پر اثرات کے شواہد محدود تھے۔

ری سائیکل پلاسٹک کا استعمال؟

ری سائیکل پلاسٹک کا استعمال ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم سمجھا جاتا ہے، لیکن جب بات باورچی خانے کے آلات کی آتی ہے تو یہ فائدہ صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ کچن کے برتن، برقی آلات، اور خاص طور پر کافی مشینیں اکثر ری سائیکل شدہ پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں۔ اس عمل میں مختلف قسم کے پلاسٹک کو پگھلا کر ایک ساتھ ملایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف پلاسٹک کا رنگ غیر یکساں ہوتا ہے بلکہ اس میں نقصان دہ کیمیکلز کی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔

کاربن بلیک ڈائی کا استعمال اس بد نما رنگ کو چھپانے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن یہ ڈائی خود کئی خطرناک کیمیکلز کا مجموعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب یہ کافی مشینیں گرم پانی یا کافی کے رابطے میں آتی ہیں، تو ان سے کیمیکلز کا اخراج ممکن ہوتا ہے، جو براہ راست ہمارے مشروبات میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ کیمیکلز طویل عرصے تک جسم میں جمع ہونے سے کینسر، ہارمونل عدم توازن، اور دیگر سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

ماہرین کا انتباہ اور صحت کے خطرات

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کالے پلاسٹک سے بنے کافی میکرز کا مسلسل استعمال صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر سارہ ہاشمی، جو کہ لندن میں کینسر ریسرچ سے وابستہ ہیں، نے کہا، "ہم روزمرہ کے آلات کو استعمال کرتے وقت ان کے ممکنہ خطرات سے لاعلم ہوتے ہیں۔ کاربن بلیک اور دیگر کیمیکلز کی موجودگی نہ صرف کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے بلکہ یہ ہمارے ایندھن کے نظام اور تولیدی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔”

تحقیق کے مطابق، PAHs جیسے کیمیکلز جب جسم میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے خلیوں کی غیر معمولی نشوونما کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اگرچہ IARC نے کاربن بلیک کو مکمل طور پر کینسر کا باعث بننے والا مادہ قرار نہیں دیا، لیکن اس کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر وہ افراد جو روزانہ کافی مشین کا استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد ایکس پلیٹ فارم پر صارفین نے اپنے خدشات اور حیرت کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "میں برسوں سے کالے پلاسٹک کی کافی مشین استعمال کر رہا ہوں، اور اب یہ جان کر دہشت ہو رہی ہے کہ یہ کینسر کا باعث بن سکتی ہے!” ایک اور صارف نے کہا، "ہمیں فوری طور پر ایسی مشینوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مینوفیکچررز کو صحت کے معیارات پر توجہ دینی چاہیے۔” کچھ صارفین نے متبادل حل تجویز کیے، جیسے کہ شیشے یا سٹینلیس سٹیل سے بنے کافی میکرز کا استعمال۔

ماہرین کے مشورے

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کالے پلاسٹک سے بنے کافی میکرز کے بجائے شیشے، سیرامک، یا سٹینلیس سٹیل سے بنے آلات استعمال کریں۔ ڈاکٹر ہاشمی نے مزید کہا، "اگر آپ کے پاس کالے پلاسٹک کی کافی مشین ہے تو اسے فوری طور پر تبدیل کریں۔ اس کے علاوہ، ایسی مشینوں کو استعمال کرتے وقت کاغذ کے فلٹرز استعمال کریں تاکہ کیمیکلز کا اخراج کم ہو۔”

ماہرین نے مینوفیکچررز سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ری سائیکل پلاسٹک کے استعمال کے دوران صحت کے معیارات پر عمل کریں اور کاربن بلیک جیسے خطرناک کیمیکلز کے استعمال سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ، صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی کافی مشینوں کو باقاعدگی سے صاف کریں اور گرم پانی کے طویل رابطے سے بچیں تاکہ کیمیکلز کے اخراج کا خطرہ کم ہو۔

کالے پلاسٹک سے بنے کافی میکرز کے حوالے سے ماہرین کی یہ انتباہ ایک چونکا دینے والی یاد دہانی ہے کہ ہمارے روزمرہ کے آلات کس طرح ہماری صحت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ کاربن بلیک اور PAHs جیسے کیمیکلز کی موجودگی نہ صرف کافی مشینوں بلکہ دیگر باورچی خانے کے برتنوں اور برقی آلات کے استعمال پر بھی سوالات اٹھاتی ہے۔ یہ انتباہ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ مینوفیکچررز کو اپنی مصنوعات کی تیاری میں صحت کے معیارات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

ری سائیکل پلاسٹک کا استعمال ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے، لیکن جب یہ صحت کے لیے خطرہ بن جائے تو اس کے فوائد پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ صارفین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے باورچی خانے کے آلات کا انتخاب کرتے وقت مواد کی نوعیت پر توجہ دیں۔ شیشے یا سٹینلیس سٹیل سے بنے کافی میکرز نہ صرف صحت کے لیے محفوظ ہیں بلکہ پائیدار اور ماحول دوست بھی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں کافی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ انتباہ خاص طور پر اہم ہے۔ پاکستانی گھرانوں میں سستے اور ری سائیکل پلاسٹک سے بنے آلات کا استعمال عام ہے، اور اس انتباہ کے بعد صارفین کو اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ حکومتی سطح پر، ری سائیکل پلاسٹک سے بنے آلات کی تیاری اور فروخت کے لیے سخت ضابطہ کار متعارف کرانے کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کی صحت کو تحفظ مل سکے۔

یہ رپورٹ ایک ایسی حقیقت کو سامنے لاتی ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی سے جڑی ہے۔ اگرچہ کافی مشین ہماری سہولت اور لذت کا ذریعہ ہے، لیکن اس کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صارفین، مینوفیکچررز، اور ریگولیٹری اداروں کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا تاکہ ہم اپنی صبح کی کافی کا مزہ صحت کے خوف کے بغیر لے سکیں۔ یہ انتباہ نہ صرف ایک الرٹ ہے بلکہ ہماری زندگی کے انتخاب کو بہتر بنانے کی دعوت بھی ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین