جال اور قرضے کا طوق

جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لینے جا رہے تھے، تب ہم جاپان اور جرمنی جیسے ممالک کو قرضے دے رہے تھے

چاہے وہ چکور ہو یا کوئی اور پرندہ، جب اس کی نظریں صرف اپنے شکار پر مرکوز ہوں، تو وہ جال کو نہیں دیکھتاحالانکہ اس کی نگاہیں بے حد تیز ہوتی ہیں۔ یہی حال غریب اقوام کا ہے، جو ترقی کے خواب میں استعمار کے بچھائے ہوئے مالیاتی جال میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔

پاکستان نے پہلا قرضہ 1958 میں لیا، جب ملک میں پہلی مکمل مغربی نواز حکومت قائم ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لینے جا رہے تھے، تب ہم جاپان اور جرمنی جیسے ممالک کو قرضے دے رہے تھے۔ پہلا قرضہ 25 کروڑ ڈالر کا تھا، لیکن اس کے بعد کا منظر اور بھی عبرتناک ہے۔

1965 کی جنگ کے بعد ہم نے آئی ایم ایف سے صرف 37 ہزار ڈالر کا قرضہ لیا، جو آج ایک لینڈ کروزر کی قیمت سے بھی کم ہے۔ پھر 1968 میں، ہم نے تیسرا قرضہ 75 ہزار ڈالر کا لیا، جو آج کی کرنسی میں محض دو کروڑ کے برابر ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا میں 350 ارب ڈالر کاتاریخی تجارتی معاہدہ

یہ صرف مزاحیہ اعداد و شمار نہیں، بلکہ عالمی مالیاتی جکڑ بندیوں کا ثبوت ہیں۔ ایک معروف کتاب Confessions of an Economic Hitman (یا شاید Beyond the Aid) اس نظام کا پردہ چاک کرتی ہے۔ اس کے مصنف خود اعتراف کرتا ہے کہ مغربی ادارے غریب ممالک کو ایسے قرضوں میں جکڑتے ہیں جن سے وہ کبھی نکل نہیں سکتے۔ جو نکلنے کی کوشش کرے، اسے مثال بنا دیا جاتا ہے۔

افغانستان، عراق اور لیبیا کی جنگیں افراد کے خلاف نہیں، وسائل پر قبضے کی جنگیں تھیں۔ صدام حسین نے ڈالر کی بجائے یورو میں تیل کی تجارت کی بات کی، قذافی نے افریقہ کے لیے سونے پر مبنی کرنسی تجویز کی، اور طالبان کی مزاحمت نے مغربی ایجنڈے کو خطرہ پہنچایا۔ ان سب کی تقدیر ہمارے سامنے ہے۔

نائن الیون کے حوالے سے بہت سی رپورٹس، ماہرین اور تحقیق آج بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ ایک داخلی منصوبہ تھا۔ سٹیل کی بنی پوری عمارت کا مکمل طور پر زمیں بوس ہو جانا بغیر اندرونی دھماکوں کے ممکن نہیں۔ میں خود اُس دن نیویارک میں موجود تھا اور اپنی آنکھوں سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دوسری عمارت کو گرتے ہوئے دیکھا۔ پولیس نے "ہائی جیکرز” کے لائسنس چیک کیے، ان کے بورڈنگ پاسز اور پاسپورٹ دھماکے کے باوجود "محفوظ” رہےگویا سب کچھ پہلے سے اسکرپٹ کیا گیا ہو۔

یہ سب اس بڑے نظام کا حصہ ہے، جو غریب اقوام کو قرضوں، جنگوں اور سیکیورٹی کے جال میں پھنسا کر ان کی خودمختاری سلب کرتا ہے۔

اسی تناظر میں ہمیں اپنے حکمران طبقے کی حقیقت کو سمجھنا ہو گا۔ آج اگر ہم عالمی مخالفت کے باوجود ایٹمی طاقت اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کر سکتے ہیں، تو آخر کیوں آج تک ہم ایک موٹر سائیکل بھی 100 فیصد پاکستان میں نہیں بنا سکے؟ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان، بیوروکریٹ، اور فیصلہ ساز طبقہ پاکستان کی ترقی نہیں چاہتا۔

انہی مغربی اداروں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہمارے کئی سیاسی رہنما، ہارورڈ، آکسفورڈ اور دیگر مغربی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرتے ہیں، مگر ان میں سے ایک بھی میرٹ پر داخل نہیں ہوا، بلکہ ریفر شدہ اور فنڈڈ بائی یو ایس اور برٹش گورنمنٹ۔ وہ نظام جس نے انہیں طاقت دی، وہی نظام پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہمیشہ ایک آزاد، خودمختار اسلامی ریاست کا خواب دیکھتے آئے ہیں، اور ان کی نسل بھی اسی پرچم کو اٹھائے چل رہی ہے۔ مگر جب تک ہم مغرب کے مرہونِ منت رہیں گے، تب تک نہ خودمختاری ممکن ہے، نہ ہی کوئی انقلاب۔

آج ہی ایک امریکی چینل پر رپورٹ نشر ہوئی کہ اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان نیوکلیئر طاقت کیسے بنا؟ میرا سوال یہ ہے اگر ہم میزائل اور ایٹم بم بنا سکتے ہیں، تو موٹر سائیکل کیوں نہیں؟

وجہ صاف ہے ہمارے لیڈر نہیں چاہتے کہ شعور آئے۔ کیونکہ جہاں شعور ہوتا ہے، وہاں سوالات ہوتے ہیں۔

ہندوستان آج بھی ہمارا دشمن ہے، افغانستان سے تعلقات بھی کشیدہ ہیں، مگر ان ممالک کے ریزروز اور کرنسی ہماری معیشت سے بہتر ہیں۔ بھارت کاوزیراعظم مودی، بنگلہ دیش اور افغانستان کے سربراہان کا طرزِ زندگی دیکھیں اور اپنے حکمرانوں کا انداز دیکھیں۔ نیویارک میں مودی کا سادہ قیام، قلیل قافلہ اور دوسری طرف ہمارا وزیراعظم، مہنگے ہوٹل، سینکڑوں گاڑیوں کا پروٹوکول۔ بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے اخراجات بھی ہم سے کم ہیں۔

اس پر بھی ظلم یہ کہ جب عوام کو بجلی، پٹرول اور آٹے کے نرخوں سے نچوڑا جا رہا ہے، اُس وقت ہمارے وزراء کی تنخواہیں ہزار گنا بڑھائی جا رہی ہیں۔چئرمین سینٹ اور اسپیکر نیشنل اسمبلی کی تنخواہ میں اضافہ، جبکہ برطانیہ میں پچھلے 10 سال میں پارلیمنٹ کے چیئرمین کی تنخواہیں بمشکل 5 فیصد بڑھی ہے۔

یہ سب اعداد و شمار آج گوگل پر دستیاب ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں؟

خرم نواز گنڈاپور سیکرٹری جنرل پاکستان عوامی تحریک نے منہاجینز کے زیر اہتمام ایک تقریب میں جو خطاب کیا، وہ اسی فکری بیداری کا استعارہ تھا۔ ان کی گفتگو محض تقریر نہیں، ایک دستک تھی دروازہ کھولنے، آنکھیں کھولنےاور بیدار ہونے کی دستک!

متعلقہ خبریں

مقبول ترین