عام انتخابات میں جیت کیلئے جادو ٹونے اور غیبی قوتوں کا کھلم کھلا سہارا

بعض امیدوار تو اپنے انتخابی جلسوں میں بھی روحانی معالجین کو شریک کرتے ہیں تاکہ مجمع پر روحانی اثر ڈال سکیں

دنیا بھرمیں جہاں بھی انتخابات ہوتے ہیں وہاں گہما گہمی عروج پر ہوتی ہے اور امیدوار ووٹ حاصل کرنے کے لئے نت نئے وعدے اختیار کرتے ہوئے۔ لیکن افریقی ملک یوگنڈا میں انتخابات کا موسم جیسے ہی آتا ہے، ملک کے سیاسی ماحول میں ایک منفرد قسم کی سرگرمی جنم لینے لگتی ہے۔ یہ سرگرمی صرف جلسوں، جلوسوں، انتخابی منشور اور میڈیا مہمات تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسا پہلو بھی سامنے آتا ہے جس پر شاید دنیا کے باقی جمہوری معاشرے حیرت کا اظہار کریں ماورائے فطرت طاقتوں کی تلاش اور جادو ٹونے پر انحصار۔
یوگنڈا کی سیاسی فضا میں یہ رجحان نیا نہیں۔ برسوں سے مختلف امیدواروں اور ان کے حامیوں میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ صرف سیاسی چالاکی، منشور یا عوامی خدمات کی بنیاد پر الیکشن جیتنا ممکن نہیں، بلکہ غیبی یا ماورائی طاقتوں کی مدد بھی حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے الیکشن قریب آتے ہیں، کچھ امیدوار اپنے سیاسی منصوبوں کے ساتھ ساتھ روحانی معالجین، عاملوں اور جادوگروں سے بھی رجوع کرتے ہیں تاکہ قسمت کو اپنے حق میں کر سکیں۔

روحانی معالج یا جادوگر؟

یوگنڈا میں ان افراد کو عام طور پر "روحانی معالج” یا "روایتی معالج” کہا جاتا ہے۔ یہ معاشرے کا ایک قابلِ قبول اور کھلا ہوا حصہ ہیں۔ ان کے اشتہارات اخبارات سے لے کر سڑکوں تک ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کی خدمات صرف سیاسی کامیابی تک محدود نہیں بلکہ چوری پکڑوانا، محبوب کو واپس لانا، کاروباری قسمت بہتر بنانا جیسے دیگر معاملات میں بھی لوگ ان سے رجوع کرتے ہیں۔
انتخابی مہمات کے دوران دارالحکومت کمپالا میں ان معالجین کے مراکز پر خاص رش دیکھا جاتا ہے، جہاں امیدوار اپنے انتخابی قسمت کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص رسومات ادا کرواتے ہیں۔ ان رسومات میں خون کی قربانیاں، جڑی بوٹیوں کا استعمال، مخصوص لباس پہننا، جلسوں سے پہلے مخصوص عمل کرنا اور روحانی طاقتوں سے مدد کی اپیل شامل ہوتی ہے۔

روحانی جنگ بمقابلہ سیاسی منشور

افریقی امور کے ماہر محقق با ممادو کے مطابق، یوگنڈا میں جادو یا ماورائی طاقتوں کا استعمال کوئی راز کی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست دان بظاہر ترقیاتی وعدوں، عوامی خدمت اور منشور کی بنیاد پر الیکشن لڑتے نظر آتے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے وہ روحانی معرکے میں بھی سرگرم ہوتے ہیں۔ بعض تو اپنے انتخابی جلسوں میں بھی روحانی معالجین کو شریک کرتے ہیں تاکہ مجمع پر روحانی اثر ڈال سکیں۔

یہ روحانی جنگ صرف کامیابی کی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ یوگنڈا میں جمہوری عمل کس قدر چیلنجز سے دوچار ہے۔ حالیہ برسوں میں ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن، اپوزیشن پر دباؤ، اور انتخابی اصلاحات پر سوالات نے عوام کا اعتماد متزلزل کیا ہے۔ ایسے میں کچھ امیدوار یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوری ذرائع سے کامیابی مشکل ہے، لہٰذا وہ روایتی اور ماورائی طریقوں کا سہارا لیتے ہیں۔

قانونی پابندیاں اور روحانی متبادل

یوگنڈا میں حالیہ برسوں میں بعض قوانین اور حکومتی اقدامات نے مخالفین کے لیے انتخابی مہم چلانا دشوار بنا دیا ہے۔ گرفتاریوں، دھمکیوں اور احتجاجی آزادی پر قدغن کے باعث بہت سے امیدوار عوام تک اپنی بات پہنچانے میں رکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں جب سیاسی میدان میں کامیابی کے امکانات محدود ہوں، تو بعض سیاست دان روحانی میدان میں قسمت آزمانے لگتے ہیں۔

تاریخی اور ثقافتی پہلو

یوگنڈا کی ثقافت میں روحانی معالجین کا مقام بہت پرانا اور مضبوط ہے۔ قبائلی روایات، مقامی عقائد اور عوامی ذہن میں ان روحانی قوتوں کی جڑیں گہری ہیں۔ یوگنڈا کے دیہی علاقوں میں آج بھی جدید تعلیم اور سائنس کے ساتھ ساتھ روحانی معالجین کو عزت و احترام حاصل ہے۔ اس ثقافتی ورثے کے باعث، جب ایک سیاست دان ان معالجین سے رجوع کرتا ہے تو یہ اس کی ساکھ پر منفی اثر نہیں ڈالتا، بلکہ بعض حلقوں میں اس سے اس کی "روحانی وابستگی” مضبوط سمجھی جاتی ہے۔

موجودہ حالات اور جادو پر انحصار

یوگنڈا اس وقت شدید معاشی، سیاسی، سکیورٹی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، اور عوامی سہولیات کی کمی نے ملک میں اضطراب کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔ ان حالات میں عوام کی امیدیں اور سیاست دانوں کی حکمتِ عملی دونوں غیر روایتی رخ اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ بعض عوام بھی اب سیاست دانوں کی کارکردگی سے زیادہ ان کی روحانی وابستگیوں اور دعووں پر یقین کرنے لگے ہیں۔

انتخابی جادوگری: حقیقت یا دھوکہ؟

یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ آیا یہ ماورائی مدد واقعی کسی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے یا صرف ایک نفسیاتی سہارا ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک جذباتی و نفسیاتی حربہ ہے جس کا مقصد خود کو مطمئن کرنا یا ووٹروں پر اثر ڈالنا ہوتا ہے، جبکہ بعض اسے ایک خطرناک رجحان قرار دیتے ہیں جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو دیمک کی طرح چاٹتا ہے۔

یوگنڈا کا انتخابی منظرنامہ بلاشبہ منفرد ہے جہاں جمہوریت، ثقافت، روحانیت اور سیاست ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہیں۔ جب سیاست دان منشور کے بجائے جادو، قربانی اور ماورائی طاقتوں پر انحصار کرتے ہیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جمہوری نظام میں اصلاحات کی کتنی ضرورت ہے۔ لیکن جب تک یہ ثقافتی و روحانی وابستگیاں یوگنڈا کی سماجی ساخت کا حصہ رہیں گی، تب تک انتخابی جادوگری بھی اس جمہوریت کی ایک دلچسپ مگر حیران کن پہچان بنی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین