ملک کے کئی حصوں میں زلزلے کے جھٹکے، عوام میں شدید خوف و ہراس

زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی گئی، اور اس کا مرکز کوہ ہندوکش کے علاقے میں تھا

اسلام آباد/لاہور: آج صبح پاکستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے شدید جھٹکوں نے شہریوں کو خوفزدہ کر دیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان کے متعدد شہروں اور قصبوں میں زمین کے اندر سے اُبھرنے والی لرزش نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ زلزلے کے دوران کلمہ طیبہ اور دعاؤں کا ورد کرتے ہوئے شہری سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ وفاقی دارالحکومت میں جاری شدید بارش نے صورتحال کو مزید پریشان کن بنا دیا۔ نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (NCS) کے مطابق، زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی گئی، اور اس کا مرکز کوہ ہندوکش کے علاقے میں تھا۔

زلزلے کی شدت اور جغرافیائی پھیلاؤ

نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی کے مطابق، زلزلے کی شدت 5.4 تھی، اور اس کی گہرائی 122 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں واقع تھا، جو باجوڑ سے تقریباً 102 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کوہ ہندوکش، جو پاکستان، افغانستان، اور تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں پھیلا ہوا ہے، ایک مشہور زلزلہ خیز زون ہے جہاں اکثر گہرے اور طاقتور زلزلے رونما ہوتے ہیں۔ اس زلزلے کے جھٹکوں نے نہ صرف پاکستان کے کئی علاقوں کو متاثر کیا بلکہ پڑوسی ممالک افغانستان اور تاجکستان میں بھی ان کا اثر محسوس کیا گیا۔

زلزلے کے جھٹکوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب کے شہروں لاہور اور راولپنڈی، خیبر پختونخوا کے شہروں پشاور، ہری پور، ایبٹ آباد، چارسدہ، سوات (مینگورہ)، اور ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر کے علاقوں ہٹیاں بالا، جہلم ویلی، اور چناری، اور گلگت بلتستان کے غذر سمیت دیگر علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان علاقوں میں زلزلے کی شدت مختلف تھی، لیکن شہریوں نے زمین کی لرزش کو واضح طور پر محسوس کیا۔ اسلام آباد میں زلزلے کے وقت شدید بارش جاری تھی، جس نے شہریوں کے لیے گھروں سے باہر نکلنا مزید مشکل بنا دیا۔

عوامی ردعمل اور خوف و ہراس

زلزلے کے جھٹکوں نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ لاہور کے رہائشی احمد علی نے بتایا، "میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ اچانک کرسی ہلنے لگی۔ پہلے تو سمجھ نہیں آیا، لیکن جب سب نے چیخنا شروع کیا تو ہم فوری طور پر باہر بھاگے۔” اسی طرح پشاور سے تعلق رکھنے والی طالبہ فاطمہ خان نے کہا، "ہم کلاس روم میں تھے جب زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے۔ سب بچے کلمہ پڑھنے لگے اور استاد نے ہمیں فوراً گراؤنڈ کی طرف لے جانے کی ہدایت کی۔”

ایکس پلیٹ فارم پر بھی شہریوں نے اپنے تجربات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "اسلام آباد میں بارش اور زلزلے نے ایک ساتھ دہشت پھیلا دی۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔” ایک اور صارف نے کہا، "سوات میں جھٹکوں کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ یہ چند سیکنڈز تھے، لیکن لگتا تھا کہ سب کچھ ہل رہا ہے۔” شہریوں کے ان ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ زلزلے نے لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں 2005 کے تباہ کن زلزلے کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔

زلزلے کے اثرات اور نقصانات

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور مقامی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ زلزلے کی گہرائی 122 کلومیٹر ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات سطح پر نسبتاً کم تھے، کیونکہ گہرے زلزلے عام طور پر کم نقصان دہ ہوتے ہیں۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوہ ہندوکش جیسے زلزلہ خیز علاقوں میں آفٹر شاکس کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے، جس کے لیے شہریوں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں جاری شدید بارش نے زلزلے کے اثرات کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے کئی علاقوں، خاص طور پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا، میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ 21 جولائی 2025 کو گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، اور اسلام آباد میں سیلاب سے کم از کم 6 افراد ہلاک اور 15 لاپتہ ہوئے تھے۔ ایسی صورتحال میں زلزلے نے شہریوں کے لیے اضافی پریشانی کا باعث بنایا۔

پاکستان کا زلزلہ خیز جغرافیہ

پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے زلزلوں کے حوالے سے ایک انتہائی حساس خطہ بناتا ہے۔ ملک دو بڑی ٹیکٹونک پلیٹس، یعنی یوریشین پلیٹ اور انڈین پلیٹ، کے سنگم پر واقع ہے۔ پنجاب، سندھ، اور آزاد جموں و کشمیر انڈین پلیٹ کے شمال مغربی کنارے پر ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا، بلوچستان، اور گلگت بلتستان یوریشین پلیٹ کے جنوبی کنارے پر واقع ہیں۔ یہ دونوں پلیٹیں مسلسل ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، جس سے خطے میں زلزلے ایک معمول بن چکے ہیں۔

کوہ ہندوکش کا علاقہ، جہاں اس زلزلے کا مرکز تھا، اپنی گہری زلزلہ خیزی کے لیے مشہور ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس علاقے میں زلزلے اکثر 100 سے 300 کلومیٹر کی گہرائی پر ہوتے ہیں، جو انہیں سطحی زلزلوں کے مقابلے میں کم نقصان دہ بناتا ہے۔ تاہم، پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع فالٹ لائنز، جیسے کہ مین سینٹرل تھرسٹ اور بالاکوٹ-باغ فالٹ، وقتاً فوقتاً شدید زلزلوں کا باعث بنتی ہیں۔ 2005 کا کشمیر زلزلہ، جس کی شدت 7.6 تھی، اس کی ایک واضح مثال ہے، جس نے 80,000 سے زائد جانیں لیں اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔

ماہرین کا مشورہ

ماہرین زلزلہ پیمائی نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زلزلے کے دوران پرسکون رہیں اور محفوظ مقامات، جیسے کہ کھلے میدانوں یا مضبوط ڈھانچوں کے نیچے پناہ لیں۔ NDMA نے ہدایت کی ہے کہ شہری بلند عمارتوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ شدید بارشوں کے تناظر میں، زلزلے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں۔

آج کا زلزلہ پاکستان کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ یہ ملک ایک انتہائی زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، جہاں قدرتی آفات ایک مستقل خطرہ ہیں۔ اگرچہ اس زلزلے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے شہریوں کے دلوں میں خوف ضرور پیدا کیا۔ کوہ ہندوکش جیسے علاقوں میں زلزلوں کی تعدد اور شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کو اپنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسیوں کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں شدید بارش اور زلزلے کا ایک ساتھ آنا ایک پیچیدہ صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ حالیہ سیلابوں نے پہلے ہی گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا جیسے علاقوں کی بنیادی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے، اور زلزلے کے جھٹکوں نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حکومتی اداروں، خاص طور پر NDMA اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، کو چاہیے کہ وہ آفٹر شاکس اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے پیش نظر فوری اقدامات کریں۔

پاکستان کے شہریوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ زلزلے سے بچاؤ کی تربیت حاصل کریں اور ایمرجنسی کٹس تیار رکھیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو چاہیے کہ وہ زلزلہ خیز علاقوں میں عمارتوں کے ڈیزائن اور تعمیراتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد کرے تاکہ مستقبل میں ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔ یہ زلزلہ اگرچہ ایک معمولی واقعہ تھا، لیکن یہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہماری تیاری اور چوکسی ہی ہمیں بڑی قدرتی آفات سے بچا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین