فیصل آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما فواد چوہدری کو 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بری کر دیا ہے، اور اس بریت کی سب سے بڑی وجہ فلم ‘منی بیک گارنٹی’ کے پریمیئر میں ان کی موجودگی ثابت ہونا ہے۔ فیصل آباد کی عدالت نے تین اہم مقدمات کے فیصلے سناتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی زرتاج گل، اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا سمیت 196 پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ فواد چوہدری، زین قریشی، اور خیال کاسترو سمیت 88 افراد کو ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ یہ رپورٹ اس عدالتی فیصلے، فواد چوہدری کی بریت کی وجوہات، اور اس پر عوامی و سیاسی ردعمل پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔
فواد چوہدری کی بریت
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج جاوید اقبال شیخ نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات سے متعلق تین مقدمات کے فیصلے سناتے ہوئے واضح کیا کہ فواد چوہدری کے خلاف شواہد ناکافی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ فواد چوہدری 9 مئی کو لاہور میں فلم ‘منی بیک گارنٹی’ کے پریمیئر کے موقع پر چیف گیسٹ کے طور پر موجود تھے۔ اس بات کی تصدیق فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر فیصل قریشی کی گواہی اور دیگر دستاویزی شواہد سے ہوئی، جنہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ فواد چوہدری واقعے کے وقت ہنگامہ آرائی کے مقامات پر موجود نہیں تھے۔
عدالت نے فیصل قریشی کی گواہی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ فواد چوہدری کی لاہور سے باہر موجودگی ثابت ہو گئی، اس لیے انہیں 9 مئی کے واقعات میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس گواہی نے نہ صرف فواد چوہدری کو سزا سے بچایا بلکہ اس مقدمے کو ایک غیر معمولی موڑ بھی دیا، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی فلم کے پریمیئر نے کسی سیاسی شخصیت کی قانونی بریت میں کلیدی کردار ادا کیا ہو۔
9 مئی کے مقدمات
9 مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، جن میں سرکاری و عسکری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین اہم مقدمات کا فیصلہ سنایا، جن میں تھانہ سول لائن میں حساس ادارے پر حملے، پولیس وین جلانے، اور تھانہ غلام محمد آباد پر حملے کے واقعات شامل ہیں۔ ان مقدمات میں پی ٹی آئی کے 185 رہنماؤں اور کارکنوں پر الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں سے 108 کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ 77 کو بری کر دیا گیا۔
سزا پانے والوں میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز، رکن قومی اسمبلی زرتاج گل، اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا شامل ہیں۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ان ملزمان کے خلاف ویڈیو فوٹیجز، آڈیو کلپس، اور دیگر شواہد موجود ہیں، جن سے ان کی ہنگامہ آرائی میں شرکت ثابت ہوتی ہے۔ تاہم، فواد چوہدری، زین قریشی، اور خیال کاسترو کے خلاف شواہد کی کمی کی وجہ سے انہیں شک کا فائدہ دیا گیا۔
فواد چوہدری کا ردعمل
فواد چوہدری نے اپنی بریت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے پر خوشی منانے کے موڈ میں نہیں ہیں، کیونکہ ان کے قریبی ساتھی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اب بھی قانونی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے فلم ‘منی بیک گارنٹی’ کے ڈائریکٹر و پروڈیوسر فیصل قریشی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مشکل حالات میں ان کی بے گناہی کی گواہی دی۔ انہوں نے اپنے وکلاء علی رامے، میاں علی حیدر، اور نجیب فیصل چوہدری کی ٹیم کی بھی تعریف کی، جنہوں نے عدالت میں ان کا مؤثر دفاع کیا۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو جلد انصاف ملے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا، "میرے لیے یہ خوشی کا لمحہ نہیں ہے، کیونکہ میرے دوست اور خاندان جیسے ساتھی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ اللہ انصاف کرے گا۔”
سوشل میڈیا پر ردعمل
فواد چوہدری کی بریت نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پلیٹ فارم، پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے طنزیہ انداز میں کہا، "میرے دوست فواد چوہدری کو ‘منی بیک گارنٹی’ نے بچا لیا! یہ ثابت کرتا ہے کہ فلمیں دیکھنا نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ آپ کو جیل سے بھی بچا سکتا ہے!”
اسی طرح آصف بشیر چوہدری نے عدالتی فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ساری پی ٹی آئی کو سزا، لیکن فواد چوہدری کو فیصل قریشی کی گواہی نے بچا لیا۔ ہماری عدالتوں میں کیا کیا لطیفے ہوتے ہیں!” سبی کاظمی نے بھی فیصلے پر تبصرہ کیا اور کہا کہ عدالت نے فواد چوہدری کی فلم پریمیئر میں موجودگی کو تسلیم کیا، لیکن شاہ محمود قریشی کی کراچی میں موجودگی کو نظرانداز کر دیا گیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ مراد راس کو بھی "ماسٹر مائنڈ” قرار دیا گیا تھا، لیکن وہ آزاد ہیں، جبکہ دیگر رہنماؤں کو سزا سنائی گئی۔
عدالتی فیصلے کا پس منظر
9 مئی 2023 کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک سیاہ باب کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک بھر میں مظاہرے کیے، جن میں سرکاری و عسکری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے ان مقدمات کی سماعت کے دوران ویڈیو فوٹیجز، آڈیو کلپس، اور دیگر شواہد کو بنیاد بنایا۔ تاہم، فواد چوہدری کی بریت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عدالت نے انفرادی شواہد کی جانچ پڑتال کو اہمیت دی۔
فلم ‘منی بیک گارنٹی’ ایک پاکستانی ایکشن کامیڈی فلم ہے، جس کی ریلیز 2023 میں ہوئی تھی۔ اس فلم کے پریمیئر میں فواد چوہدری کی موجودگی ایک اتفاقیہ واقعہ تھا، لیکن اس نے ان کے قانونی دفاع میں غیر متوقع طور پر اہم کردار ادا کیا۔ فیصل قریشی کی گواہی نے نہ صرف ان کی موجودگی کی تصدیق کی بلکہ عدالت کو یہ باور کرانے میں بھی مدد دی کہ فواد چوہدری 9 مئی کے واقعات سے براہ راست وابستہ نہیں تھے۔
فواد چوہدری کی بریت ایک غیر معمولی عدالتی فیصلہ ہے، جو پاکستان کے عدالتی نظام کی پیچیدگیوں اور سیاسی مقدمات کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے۔ فلم ‘منی بیک گارنٹی’ کے پریمیئر میں ان کی موجودگی نے انہیں سزا سے بچا لیا، لیکن یہ فیصلہ دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی سزا کے تناظر میں کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک طرف جہاں عمر ایوب، زرتاج گل، اور شبلی فراز جیسے رہنماؤں کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی، وہیں فواد چوہدری اور زین قریشی کی بریت نے عدالتی فیصلوں میں شواہد کی اہمیت کو نمایاں کیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے ہر ملزم کے خلاف انفرادی شواہد کی جانچ پڑتال پر توجہ دی۔ فواد چوہدری کی بریت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مضبوط شواہد اور گواہوں کی موجودگی مقدمات میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر طنزیہ تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام عدالتی فیصلوں کی شفافیت اور یکسانیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں، جہاں 9 مئی کے واقعات کو ایک حساس سیاسی تنازع کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کے لیے ایک مخلوط پیغام ہے۔ ایک طرف فواد چوہدری کی بریت ان کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف ان کے دیگر رہنماؤں کی سزا نے پارٹی کے کارکنوں میں مایوسی پھیلائی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ عدالتی فیصلوں میں شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال ہو۔
فواد چوہدری کی بریت ایک ایسی کہانی ہے جو پاکستان کے عدالتی نظام کے اندر غیر متوقع موڑ کو ظاہر کرتی ہے۔ ‘منی بیک گارنٹی’ نہ صرف ایک فلم کا نام ہے بلکہ اس نے فواد چوہدری کے لیے قانونی طور پر بھی "انصاف کی گارنٹی” کا کردار ادا کیا۔ تاہم، اس فیصلے نے سیاسی مقدمات کی پیچیدگیوں اور عدالتی عمل کی حساسیت کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے۔





















