کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) میں بھارتی کھلاڑیوں کے بائیکاٹ کے بعد ایک غیر معمولی اور سخت فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی نجی کرکٹ ایونٹ، لیگ یا ٹورنامنٹ میں ’پاکستان‘ کے نام کا استعمال پی سی بی کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر ممنوع ہوگا۔ یہ فیصلہ بھارتی ٹیم کی جانب سے ڈبلیو سی ایل 2025 کے گروپ مرحلے اور سیمی فائنل میں پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کے بعد سامنے آیا، جس نے نہ صرف ٹورنامنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ پاکستان کی قومی عزت پر بھی سوالات اٹھائے۔ یہ رپورٹ اس فیصلے کے پس منظر، اس کے اثرات، اور متعلقہ تنازع کی تفصیلات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ڈبلیو سی ایل میں بھارتی بائیکاٹ
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) کا دوسرا ایڈیشن، جو انگلینڈ کے ایجبیسٹن کرکٹ گراؤنڈ سمیت چار مقامات پر 18 جولائی سے 2 اگست 2025 تک جاری ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے ایک تاریخی تنازع کا مرکز بن گیا۔ 20 جولائی کو گروپ مرحلے کے ایک میچ میں بھارتی ٹیم، جس کی قیادت یووراج سنگھ کر رہے تھے، نے پاکستان چیمپئنز کے خلاف کھیلنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح، 30 جولائی کو سیمی فائنل میں بھی بھارتی کھلاڑیوں نے، جن میں یووراج سنگھ، شکھر دھاون، سریش رائنا، اور ہربھجن سنگھ شامل ہیں، پاکستان کے خلاف میچ کھیلنے سے صاف انکار کر دیا۔
بھارتی کھلاڑیوں نے اپنے فیصلے کی وجہ اپریل 2025 میں پاہلگام دہشت گرد حملے کو قرار دیا، جس میں 25 بھارتی اور ایک نیپالی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا، اور بھارتی کھلاڑیوں نے اسے ’قومی جذبات‘ اور ’جغرافیائی سیاسی حالات‘ سے جوڑتے ہوئے میچ سے دستبرداری اختیار کی۔ اس بائیکاٹ کی حمایت ڈبلیو سی ایل کے ایک بڑے اسپانسر، ایز مائی ٹرپ، نے بھی کی، جس کے شریک بانی نشانت پٹی نے ایکس پر اعلان کیا کہ وہ کسی بھی ایسی ایونٹ کی حمایت نہیں کریں گے جو ’دہشت گردی کو فروغ دینے والے ملک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کرے۔‘
ان دو میچوں کی منسوخی نے نہ صرف ٹورنامنٹ کے منتظمین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ پاکستان کی قومی ساکھ کو بھی دھچکہ لگا۔ گروپ مرحلے کے میچ کی منسوخی کے نتیجے میں دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ دیا گیا، جس نے بھارتی ٹیم کو سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دی۔ تاہم، سیمی فائنل کے بائیکاٹ کی وجہ سے پاکستان چیمپئنز کو براہ راست فائنل میں جگہ مل گئی، جہاں وہ آج، 2 اگست کو جنوبی افریقہ کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں۔
پی سی بی کا فیصلہ
بھارتی بائیکاٹ سے پیدا ہونے والے تنازع کے بعد پی سی بی نے جمعرات کو اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس کی صدارت چیئرمین محسن نقوی نے امریکہ سے ورچوئل طور پر کی۔ اجلاس میں شریک سینئر حکام نے بھارتی کھلاڑیوں کے دو مرتبہ میچ سے دستبرداری کو ’ملکی ساکھ کے لیے نقصان دہ‘ قرار دیا۔ ذرائع کے مطابق، پی سی بی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ کوئی بھی نجی کرکٹ لیگ یا ایونٹ ’پاکستان‘ کا نام استعمال کرنے سے قبل بورڈ سے باضابطہ اجازت حاصل کرے گا۔
پی سی بی نے واضح کیا کہ ’پاکستان‘ کے نام کا استعمال صرف اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب لیگ یا ایونٹ کی ساکھ اور منتظمین کی صداقت کی تصدیق ہو جائے۔ اس فیصلے کے تحت، کوئی بھی نجی تنظیم جو بغیر اجازت کے ’پاکستان‘ کا نام استعمال کرے گی، اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق، ماضی میں زمبابوے، کینیا، اور امریکہ میں کئی کم درجے کی نجی لیگز نے ’پاکستان‘ کا نام استعمال کیا تھا، جسے اب پی سی بی روکنے کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان کی وزارت بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) اور حکومت نے بھی پی سی بی کو اس سلسلے میں سخت اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ آئی پی سی نے اپنے مشورے میں کہا کہ غیر منظم یا غیر سرکاری ایونٹس میں قومی شناخت کے استعمال سے ملکی وقار کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور اسے کنٹرول کرنے کے لیے ایک منظم فریم ورک کی ضرورت ہے۔
ڈبلیو سی ایل کا ردعمل
ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز کے منتظمین نے بھارتی بائیکاٹ کے بعد ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے بھارتی کھلاڑیوں کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے میچ منسوخی کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا، ’ہم بھارتی چیمپئنز کے سیمی فائنل سے دستبرداری کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، اور اسی طرح پاکستان چیمپئنز کی کھیلنے کی تیاری کو بھی سراہتے ہیں۔ تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہم نے یہ میچ منسوخ کر دیا ہے۔‘ منتظمین نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد شائقین کے لیے خوشگوار یادیں تخلیق کرنا تھا، لیکن انہیں ’غیر ارادی طور پر بھارتی کھلاڑیوں اور شائقین کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے‘ پر افسوس ہے۔
پاک-بھارت کرکٹ تنازعات
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ مقابلوں کا ایک طویل اور پیچیدہ پس منظر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے 2008 کے بعد سے دو طرفہ کرکٹ سیریز منعقد نہیں ہوئیں۔ دونوں ٹیمیں صرف آئی سی سی کے عالمی ایونٹس، جیسے کہ ورلڈ کپ یا چیمپئنز ٹرافی، اور ایشیا کپ جیسے علاقائی ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے ہوتی ہیں۔ اس سال کے شروع میں چیمپئنز ٹرافی کے لیے ایک ہائبرڈ ماڈل اپنایا گیا، جس کے تحت بھارت نے اپنے میچز دبئی میں کھیلے، جبکہ ٹورنامنٹ کا باقی حصہ پاکستان میں منعقد ہوا۔ اسی طرح، ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ میں پاکستان اپنے میچز سری لنکا کے شہر کولمبو میں کھیلے گا، جو بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔
تاہم، ڈبلیو سی ایل جیسے نجی ٹورنامنٹس، جو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی منظوری سے منعقد ہوتے ہیں اور بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کی شریک ملکیت ہیں، دو طرفہ مقابلوں کے لیے ایک غیر معمولی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ سال ڈبلیو سی ایل کے پہلے ایڈیشن میں بھارت نے پاکستان کو فائنل میں پانچ وکٹوں سے شکست دی تھی، لیکن اس سال کے بائیکاٹ نے اس ٹورنامنٹ کی مقبولیت اور ساکھ کو شدید دھچکہ پہنچایا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
پی سی بی کے اس فیصلے نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سابق پاکستانی کرکٹر دانش کنیریا نے بھارت کے بائیکاٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت ایشیا کپ 2025 میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار ہے تو ڈبلیو سی ایل کے بائیکاٹ کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’بھارتی کھلاڑیوں نے ڈبلیو سی ایل کو قومی ڈیوٹی قرار دے کر بائیکاٹ کیا، لیکن اب ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنا ٹھیک ہے؟ یہ دوغلا پن کیوں؟‘
دوسری طرف، بھارتی شائقین نے ایز مائی ٹرپ کے فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ ’دہشت گردی اور کرکٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘ ایک صارف نے لکھا، ’یووراج اور دھاون نے صحیح فیصلہ کیا۔ قوم سب سے پہلے ہے۔‘ تاہم، کچھ شائقین نے اسے کھیل کے جذبے کے منافی قرار دیا اور کہا کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔
پی سی بی کا ’پاکستان‘ کے نام کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ ایک اہم اور دور رس اقدام ہے، جو ملکی وقار کے تحفظ اور مستقبل میں ایسی شرمندگی سے بچنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں کے دو مرتبہ بائیکاٹ نے نہ صرف ڈبلیو سی ایل کے منتظمین کو مشکل میں ڈالا بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ پی سی بی کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بورڈ اب اپنی قومی شناخت کے استعمال پر سخت کنٹرول رکھنا چاہتا ہے، خاص طور پر غیر سرکاری اور نجی ایونٹس میں۔
تاہم، یہ فیصلہ کئی سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ سب سے پہلے، یہ کہ کیا یہ پابندی نجی لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کو محدود کر دے گی؟ ڈبلیو سی ایل جیسے ٹورنامنٹس پاکستانی کرکٹ لیجنڈز، جیسے کہ شاہد آفریدی، کے لیے اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر دکھانے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہیں۔ اگر ایسی لیگز میں ’پاکستان‘ کا نام استعمال نہ ہوا تو کیا یہ پاکستانی کھلاڑیوں کی عالمی شناخت کو متاثر کرے گا؟
دوسری طرف، بھارت کا بائیکاٹ پاک-بھارت کرکٹ کے پیچیدہ تعلقات کی ایک اور مثال ہے۔ جہاں ایک طرف ایشیا کپ جیسے سرکاری ٹورنامنٹس میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوتی ہیں، وہیں نجی ایونٹس میں بھارتی کھلاڑیوں کا بائیکاٹ سیاسی اور جذباتی عوامل سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرکٹ، جو دونوں ممالک کے شائقین کے لیے ایک جذباتی رشتہ ہے، سیاسی تناؤ کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔
پی سی بی کا فیصلہ ایک طرف تو ملکی وقار کے تحفظ کی کوشش ہے، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاک-بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی کے امکانات فی الحال معدوم ہیں۔ اس تنازع سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت ہے، لیکن جب تک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بہتر نہیں ہوتے، اس طرح کے تنازعات جاری رہیں گے۔ پی سی بی کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے کے نفاذ کے ساتھ ساتھ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے عالمی پلیٹ فارمز تک رسائی کو یقینی بنائے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ فیصلہ پاکستان کے کرکٹ بورڈ کی خودمختاری اور قومی شناخت کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ پابندی کس طرح نافذ کی جاتی ہے اور اس کا پاکستانی کرکٹ کے عالمی منظرنامے پر کیا اثر پڑتا ہے۔





















