ہزاروں نوزائیدہ بچوں میں پیدائش کے وقت مہلک وائرس کی تشخیص کا انکشاف

ہر سال تقریباً 74,000 بچے ہیپاٹائٹس سی وائرس کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں

برسٹل: ایک نئی عالمی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ ہر سال ہزاروں بچے ہیپاٹائٹس سی وائرس (ایچ سی وی) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جو جگر کے شدید امراض، جیسے کہ سروسس اور کینسر، کا باعث بن سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف برسٹل کے محققین کی سربراہی میں کی گئی اس جامع تحقیق نے پہلی بار ہر ملک کے لیے اعداد و شمار پیش کیے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ وائرس کس قدر بڑے پیمانے پر نوزائیدہ بچوں کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ رپورٹ اس تحقیق کے نتائج، اس کے صحت عامہ پر اثرات، اور اس سے نمٹنے کے ممکنہ اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔

تحقیق کے اہم نتائج

یونیورسٹی آف برسٹل کے زیر اہتمام اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ریسرچ (این آئی ایچ آر) کے تعاون سے کی گئی اس تحقیق کے مطابق، ہر سال تقریباً 74,000 بچے ہیپاٹائٹس سی وائرس کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ اس میں سے تقریباً 23,000 بچوں میں یہ انفیکشن پانچ سال کی عمر تک برقرار رہتا ہے، کیونکہ تقریباً دو تہائی بچوں کا مدافعتی نظام اس وائرس کو خود بخود ختم کر دیتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پہلی بار عالمی سطح پر ہر ملک کے لیے تخمینہ لگاتے ہیں، جبکہ اس سے قبل صرف پاکستان، مصر، اور امریکہ کے لیے دس سال پرانے اعداد و شمار موجود تھے۔

تحقیق کے مطابق، پاکستان اور نائجیریا اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں، جہاں عالمی سطح پر ہونے والی کل منتقلی کا ایک تہائی حصہ انہی ممالک میں ہوتا ہے۔ چین، روس، اور بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہیں، جو مجموعی طور پر نصف سے زیادہ کیسز کے لیے ذمہ دار ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کا امکان فی پیدائش تقریباً 7 فیصد ہے، اور یہ خطرہ ایچ آئی وی کے ساتھ شریک انفیکشن کی صورت میں بڑھ جاتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی: ایک خاموش خطرہ

ہیپاٹائٹس سی ایک خون کے ذریعے پھیلنے والا وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے اور اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 50 ملین افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، اور 2022 میں اس سے منسلک جگر کے امراض سے 242,000 اموات ہوئیں۔ یہ وائرس غیر محفوظ طبی طریقہ کار، غیر اسکرین شدہ خون کی منتقلی، منشیات کے استعمال کے لیے سوئیاں بانٹنے، اور بعض جنسی عمل کے ذریعے پھیلتا ہے۔ تاہم، بچوں میں اس کی سب سے عام وجہ ماں سے بچے میں دوران حمل یا پیدائش کے وقت منتقلی ہے۔

بدقسمتی سے، بہت سی خواتین کو اپنے انفیکشن کے بارے میں علم نہیں ہوتا، کیونکہ یہ وائرس اکثر علامات کے بغیر رہتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے پر ان میں بخار، تھکاوٹ، بھوک کی کمی، متلی، پیٹ میں درد، اور جلد یا آنکھوں کا زرد ہونا شامل ہو سکتا ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ وائرس دائمی جگر کے امراض، جیسے کہ سروسس یا کینسر، کا باعث بن سکتا ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار

یونیورسٹی آف برسٹل کے محققین نے اس مطالعے کے لیے متعدد ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کیا، جن میں اقوام متحدہ کے ڈیموگرافک اعداد و شمار، 15 سے 49 سال کی خواتین میں ایچ سی وی کی شرح، اور ماں سے بچے میں وائرس کی منتقلی کے امکانات شامل ہیں۔ انہوں نے میٹا اینالسز اور ایچ سی وی کے پھیلاؤ کے ماڈلز کا استعمال کیا تاکہ ہر ملک کے لیے درست تخمینے تیار کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ، تحقیق میں اس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا کہ تقریباً دو تہائی بچے پانچ سال کی عمر تک اس وائرس سے خود بخود نجات پا لیتے ہیں، جو کہ اس وائرس کے قدرتی کلیئرنس کی شرح کو ظاہر کرتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ، ڈاکٹر ایڈم ٹریکی، جو برسٹل میڈیکل اسکول میں سینئر ریسرچ فیلو ہیں، نے کہا کہ یہ اعداد و شمار نہ صرف اس وائرس کی منتقلی کے پیمانے کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کی فوری ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "دوران حمل خواتین کی اسکریننگ ایک اہم موقع ہے جہاں صحت کے کارکن ان افراد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں جو عام طور پر طبی خدمات سے رابطے میں نہیں ہوتے۔ اس سے نہ صرف ماں بلکہ بچے کو بھی علاج سے جوڑا جا سکتا ہے۔”

علاج کے امکانات اور چیلنجز

ہیپاٹائٹس سی کے لیے موثر علاج موجود ہے، جو ڈائریکٹ ایکٹنگ اینٹی وائرل (ڈی اے اے) ادویات پر مشتمل ہے۔ یہ ادویات تین ماہ کے کورس کے دوران 95 فیصد سے زیادہ کیسز میں وائرس کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہیں۔ تاہم، تشخیص اور علاج تک رسائی کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، 2022 تک صرف 36 فیصد متاثرہ افراد کی تشخیص ہوئی تھی، اور صرف 20 فیصد کو علاج ملا۔ خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں، جہاں ایچ سی وی کا بوجھ زیادہ ہے، سستی ادویات کی دستیابی کے باوجود علاج کی شرح کم ہے۔

دوران حمل اسکریننگ نہ صرف نئے انفیکشنز کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے بلکہ ماں اور بچے دونوں کے لیے علاج کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے۔ تاہم، بہت سے ممالک میں اسکریننگ کے پروگرامز ناکافی ہیں، اور زیادہ تر متاثرہ خواتین کو اپنے انفیکشن کا علم ہی نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ، بچوں میں ایچ سی وی کی تشخیص بھی ایک چیلنج ہے، کیونکہ ان میں علامات عام طور پر ظاہر نہیں ہوتیں۔

عالمی صحت کے لیے مضمرات

یہ تحقیق صحت عامہ کے شعبے کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ ڈاکٹر ٹریکی نے زور دیا کہ پالیسی سازوں اور صحت کے منصوبہ سازوں کو اس نئے انفیکشن کے ذریعہ پر توجہ دینی چاہیے، جو اب تک تحقیق میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایچ سی وی کی منتقلی ایک بڑا عالمی مسئلہ ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔”

عالمی ادارہ صحت نے 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس میں نئے انفیکشنز اور اموات کی شرح کو نمایاں طور پر کم کرنا شامل ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے، اسکریننگ پروگرامز کو بڑھانا، سستی ادویات تک رسائی کو یقینی بنانا، اور خاص طور پر حاملہ خواتین کے لیے ٹیسٹنگ پروٹوکولز کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور نائجیریا جیسے ممالک، جہاں ایچ سی وی کا بوجھ زیادہ ہے، کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق ہیپاٹائٹس سی کے عالمی بوجھ کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے قبل ایچ سی وی کی ماں سے بچے میں منتقلی کے بارے میں جامع اعداد و شمار نہ ہونے کی وجہ سے اس مسئلے کو خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی تھی۔ یونیورسٹی آف برسٹل کی اس تحقیق نے نہ صرف اس وائرس کے پھیلاؤ کی شدت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک، جہاں صحت کے نظام پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہیں، کے لیے یہ اعداد و شمار ایک انتباہ ہیں۔ پاکستان میں ایچ سی وی کی بلند شرح، خاص طور پر غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور ناکافی اسکریننگ کی وجہ سے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حاملہ خواتین کی اسکریننگ کے پروگرامز کو فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی شعور کی کمی اور تشخیص کے ناکافی وسائل اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

عالمی سطح پر، یہ تحقیق ڈبلیو ایچ او کے 2030 کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ حاملہ خواتین کی اسکریننگ اور علاج تک رسائی کو بہتر بنانا اس ہدف کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم، اس کے لیے عالمی تعاون، مالی وسائل، اور سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔ کم آمدنی والے ممالک میں، جہاں صحت کے نظام کمزور ہیں، بین الاقوامی امدادی اداروں، جیسے کہ گاوی الائنس، کو سستی ادویات اور اسکریننگ پروگرامز کے لیے تعاون بڑھانا چاہیے۔

یہ تحقیق اس بات کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ صحت عامہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سائنسی تحقیق اور پالیسی سازی کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو اپنے صحت کے نظام میں اسکریننگ اور علاج کے پروگرامز کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ نئی نسل کو اس خطرناک وائرس سے بچایا جا سکے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایچ سی وی کا بوجھ آنے والی دہائیوں میں جگر کے امراض اور اموات کی شرح میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین