بھارتی اداکار و مزاحیہ فنکار ہوٹل کے کمرے میں پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے

ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ ہو سکتا ہے

کوچی: بھارتی ملیالم فلم انڈسٹری کے معروف اداکار، کامیڈین، اور میمیکری آرٹسٹ کلابھاون نواس، جن کی ہنسی اور فن نے لاکھوں دلوں کو مسحور کیا، 51 سال کی عمر میں ایک پراسرار حالت میں کوچی، کیرالا کے ایک ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ یہ دلخراش واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ہوٹل کے عملے نے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا اور انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کے باوجود ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ ہو سکتا ہے، لیکن حتمی نتائج کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ رپورٹ اس المناک واقعے، نواس کے شاندار کیریئر، اور اس کے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

کلابھاون نواس اپنی نئی فلم پرکمبنم کی شوٹنگ کے سلسلے میں کوچی کے علاقے چوٹانیکرا میں ایک ہوٹل میں مقیم تھے۔ جمعہ کی شام کو، جب فلم کی شوٹنگ مکمل ہو چکی تھی، نواس کو ہوٹل سے چیک آؤٹ کرنا تھا۔ تاہم، جب وہ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود کمرے سے باہر نہ آئے اور نہ ہی ہوٹل کے عملے کے فون کالز کا جواب دیا، تو عملے نے تشویش کے عالم میں ان کے کمرے کا دروازہ کھولا۔ وہاں وہ فرش پر بے ہوش پڑے ملے۔

ہوٹل کے مالک سنتوش، جنہوں نے نواس کو اسپتال پہنچانے میں مدد کی، نے بتایا کہ جب انہیں گاڑی میں منتقل کیا جا رہا تھا، تو ان کے ہاتھوں میں حرکت موجود تھی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اس وقت تک زندہ تھے۔ تاہم، قریبی ٹاٹا اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ چوٹانیکرا پولیس کے مطابق، کمرے میں کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی، اور ابتدائی تحقیقات میں کسی قسم کے فاؤل پلے کا امکان رد کیا گیا ہے۔ نواس کا جسم پوسٹ مارٹم کے لیے کالامسری کے گورنمنٹ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کر دیا گیا، اور رپورٹ کے نتائج کے بعد ان کا جسم ان کے اہلخانہ کے حوالے کیا جائے گا۔

نواس کی تدفین ہفتہ کی شام الووا کے جامع مسجد میں عوامی خراج تحسین کے بعد ہوئی۔ ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی بڑی تعداد نے ان کے آخری دیدار کے لیے وہاں موجودگی دی، جو ان کی مقبولیت اور عزت کا ثبوت ہے۔

کلابھاون نواس

کلابھاون نواس، جن کا اصل نام نواس ابوبکر تھا، 1974 میں کیرالا کے واڈکینچری میں ایک فنکار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ابوبکر ایک مشہور تھیٹر اور فلم اداکار تھے، جن سے نواس نے فنون لطیفہ کا جذبہ ورثے میں پایا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز  کے مشہور کلابھاون میمیکری ٹروپ کے ساتھ بطور میمیکری آرٹسٹ کیا، جہاں انہوں نے ملیالم اداکاروں اور سیاستدانوں کی نقل اتارنے میں کمال مہارت حاصل کی۔ ان کی منفرد صلاحیتوں نے انہیں جلد ہی اسٹیج شوز میں ایک مقبول نام بنا دیا۔

1995 میں فلم چیتنیام سے انہوں نے ملیالم سنیما میں قدم رکھا اور جلد ہی اپنی مزاحیہ اداکاری کے لیے مشہور ہو گئے۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ممکس ایکشن 500، ہٹلر برادرز، جونیئر منڈریک، میٹوپیٹی ماچان، اما امائی اما، چنداماما، اور تھیلانا تھیلانا شامل ہیں۔ حال ہی میں، انہوں نے فلم ڈیٹیکٹو عجوالن اور اپنی اہلیہ ریحانہ کے ساتھ فلم عزہ میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ نواس کی صلاحیت صرف فلموں تک محدود نہیں تھی؛ وہ ٹیلی ویژن شوز اور اسٹیج پرفارمنسز میں بھی اپنی ہنسی اور توانائی سے سامعین کو محظوظ کرتے تھے۔

ان کی اہلیہ ریحانہ اور بھائی کلابھاون نیاس بھی ملیالم فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں، جبکہ ان کے تین بچوں، نہارین، ریحان، اور رضوان، نے بھی اپنے والد کے فن سے گہری وابستگی رکھی۔ نواس کی زندگی جدوجہد اور کامیابی کی ایک متاثر کن داستان تھی، کیونکہ انہوں نے غربت سے لے کر شہرت تک کا سفر طے کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل اور خراج تحسین

نواس کے اچانک انتقال کی خبر نے ملیالم فلم انڈسٹری اور ان کے مداحوں کو گہرے صدمے میں ڈبو دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کے لیے تعزیتی پیغامات کی ایک لہر اٹھ گئی۔ کیرالا کے وزیراعلیٰ پنارائی وجین نے اپنے فیس بک پیج پر نواس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، "کلابھاون نواس کے انتقال سے ملیالم سنیما نے ایک عظیم فنکار کھو دیا۔ انہوں نے میمیکری کے ذریعے فنون لطیفہ میں قدم رکھا اور اپنی مزاحیہ اداکاری سے لاکھوں دلوں کو جیت لیا۔ وہ ایک ترقی پسند اور جمہوری اقدار کے حامی فنکار تھے۔”

کیرالا بی جے پی کے سربراہ راجیو چندرشیکھر نے ایکس پر لکھا، "کلابھاون نواس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ان کے اہلخانہ اور فلم انڈسٹری کے لیے میری گہری تعزیت۔” ان کے ساتھی اداکار رونی ڈیوڈ راج، جنہوں نے ڈیٹیکٹو عجوالن میں ان کے ساتھ کام کیا، نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا، جس میں انہوں نے نواس کی ہنسی اور دوستی کو یاد کیا۔ مداحوں نے بھی ان کے حالیہ انسٹاگرام پوسٹ پر تبصرے کیے، جہاں انہوں نے اپنی نئی فلم کے لیے ’دی فینومنن ہیز بیگن‘ لکھا تھا، اور افسوس کا اظہار کیا کہ یہ فینومنن اب ہمیشہ کے لیے رک گیا۔

ایک مداح نے لکھا، "نواس بھائی، آپ کی ہنسی ہمارے دلوں میں ہمیشہ گونجتی رہے گی۔ آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہوگا۔” ایک اور صارف نے کہا، "ملیالم سنیما نے اپنا ایک ہنستا مسکراتا چراغ کھو دیا۔ یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔”

پوسٹ مارٹم اور تحقیقات

چوٹانیکرا پولیس نے اس واقعے کو غیر فطری موت کے طور پر رجسٹر کیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس افسر نے بتایا کہ کمرے میں کوئی مشتبہ چیز یا سرگرمی کے آثار نہیں ملے، اور ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی موت کی اصل وجہ کی تصدیق ہو سکے گی۔ کچھ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نواس کو سر پر چوٹ کے آثار ملے، جو ممکنہ طور پر گرنے سے ہو سکتی ہے، لیکن اس کی تصدیق بھی پوسٹ مارٹم سے ہی ہوگی۔

ہوٹل کے عملے اور فلم کے عملے نے بتایا کہ نواس جمعہ کی شام تک مکمل طور پر صحت مند دکھائی دیے اور شوٹنگ کے بعد اپنے کمرے میں واپس گئے تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ دو روزہ وقفے کے دوران اپنے گھر جا سکتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ہی یہ المناک واقعہ پیش آ گیا۔

ملیالم فلم انڈسٹری پر اثرات

کلابھاون نواس کی موت ملیالم فلم انڈسٹری کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، جو پہلے ہی رواں سال کئی اہم فنکاروں کے نقصان سے دوچار ہے۔ ان کی مزاحیہ صلاحیتوں، سادگی، اور فن کے تئیں لگن نے انہیں نہ صرف کیرالا بلکہ پوری دنیا میں ملیالم سنیما کے مداحوں میں مقبول بنایا تھا۔ ان کی فلم عزہ، جس میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا، ان کے کیریئر کی ایک اہم کامیابی تھی۔

نواس کی میمیکری کی دنیا سے سنیما تک کا سفر ایک متاثر کن کہانی ہے۔ انہوں نے اپنی محنت اور صلاحیتوں سے ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب پورے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کی وفات نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں کے لیے ایک ناقابل تلافی خلا چھوڑ دیا ہے۔

کلابھاون نواس کی اچانک موت نہ صرف ملیالم فلم انڈسٹری بلکہ پورے فنون لطیفہ کے شعبے کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ان کی موت کے حالات پر ابھی تک مکمل وضاحت نہیں آئی، لیکن ابتدائی رپورٹس دل کے دورے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ صحت کے مسائل، خاص طور پر دل سے متعلق بیماریاں، کتنی تیزی سے زندگی کو ختم کر سکتی ہیں، یہاں تک کہ وہ افراد جو ظاہری طور پر صحت مند دکھائی دیتے ہیں۔ نواس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شوٹنگ کے دوران مکمل طور پر صحت مند تھے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اچانک دل کے مسائل کی تشخیص اور روک تھام کے لیے زیادہ موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ واقعہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ پاکستانی فنکار بھی اکثر اپنی صحت کو نظر انداز کرتے ہیں، اور طویل شوٹنگ شیڈولز اور دباؤ کے باعث صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کلابھاون نواس کی موت ہر فنکار کے لیے ایک انتباہ ہے کہ باقاعدہ صحت کی جانچ اور متوازن طرز زندگی کو ترجیح دی جائے۔

نواس کی موت کے پراسرار حالات، خاص طور پر سر پر چوٹ کے ذکر نے کچھ سوالات کو جنم دیا ہے، لیکن پولیس کی ابتدائی رپورٹس اسے ایک فطری موت قرار دیتی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس معاملے پر مزید وضاحت ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ فلم انڈسٹری میں کام کرنے والوں کے لیے مناسب طبی سہولیات اور فوری ردعمل کے نظام کی ضرورت ہے، خاص طور پر جب وہ گھر سے دور ہوں۔

کلابھاون نواس کی ہنسی، ان کی توانائی، اور ان کا فن ہمیشہ ملیالم سنیما کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔ ان کی وفات ایک عظیم فنکار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی شخصیت کے نقصان کی علامت ہے جس نے اپنی سادگی اور ہنر سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ ان کے اہلخانہ، خاص طور پر ان کی اہلیہ اور بچوں کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، اور پوری دنیا سے ان کے لیے دعائیں مانگی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین