لندن: بھارت اور انگلینڈ کے درمیان اوول، لندن میں جاری پانچواں اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ ایک سنسنی خیز موڑ پر پہنچ گیا ہے، جہاں دونوں ٹیمیں فتح کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔ انگلینڈ کو میچ اور سیریز جیتنے کے لیے صرف 35 رنز کی ضرورت ہے، جبکہ بھارت کو فتح کے لیے صرف چار وکٹیں درکار ہیں۔ تاہم، بارش کی پیشگوئی نے اس تاریخی سیریز کے آخری دن کو ایک ڈرامائی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس نے شائقین کرکٹ کی سانسیں تھام رکھی ہیں۔ یہ رپورٹ میچ کی موجودہ صورتحال، چوتھے دن کے ڈرامائی لمحات، اور ممکنہ نتائج پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔
میچ کی موجودہ صورتحال
اوول ٹیسٹ کے چوتھے دن کا کھیل خراب روشنی اور اس کے بعد تیز بارش کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم ہوا، جب انگلینڈ نے 76.2 اوورز میں 6 وکٹوں پر 339 رنز بنا لیے تھے۔ جیمی اسمتھ (2 رنز) اور جیمی اوورٹن (0 رنز) کریز پر موجود تھے، جب امپائرز نے کھیل روک دیا۔ انگلینڈ کو 374 رنز کے ہدف تک پہنچنے کے لیے اب صرف 35 رنز درکار ہیں، جو اگر حاصل کر لیے گئے تو یہ اوول کے میدان پر سب سے بڑا کامیاب رن چیس ہوگا۔ دوسری جانب، بھارت کو سیریز 2-2 سے برابر کرنے کے لیے چار وکٹیں درکار ہیں، اور نیا بال صرف 3.4 اوورز دور ہے، جو بھارتی بولرز کے لیے ایک بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔
چوتھے دن کے آخری سیشن میں بھارتی بولرز، خاص طور پر محمد سراج اور پراسدھ کرشنا، نے شاندار واپسی کرتے ہوئے انگلینڈ کے مضبوط بیٹنگ لائن اپ کو ہلا کر رکھ دیا۔ انگلینڈ، جو چائے کے وقفے تک 317 رنز پر صرف چار وکٹیں گنوا کر فتح کی جانب گامزن تھا، اچانک دباؤ میں آ گیا جب پراسدھ کرشنا نے جیکب بیتھل (5 رنز) اور جو روٹ (105 رنز) کو پے در پے آؤٹ کیا۔ اس سے قبل، ہیری بروک کی 98 گیندوں پر 111 رنز کی جارحانہ اننگز اور جو روٹ کے ساتھ ان کی 195 رنز کی شراکت داری نے انگلینڈ کو میچ پر حاوی کر دیا تھا، لیکن بھارتی بولرز کی لگن نے میچ کو ایک دلچسپ موڑ پر پہنچا دیا۔
چوتھے دن کا ڈرامہ
چوتھے دن کا آغاز انگلینڈ کے لیے پراعتماد تھا، جب زاک کرالی اور بین ڈکٹ نے 50 رنز کی اوپننگ شراکت داری قائم کی۔ تاہم، محمد سراج نے دن کے آخری اوور میں ایک شاندار یارکر سے کرالی (14 رنز) کو کلین بولڈ کر کے بھارت کو برتری دلائی۔ دوسرے سیشن میں جو روٹ اور ہیری بروک نے بھارتی بولرز پر دباؤ ڈالا۔ بروک نے اپنی دھواں دار بیٹنگ سے 98 گیندوں پر 10 واں ٹیسٹ سنچری مکمل کی، جبکہ روٹ نے اپنا 39 واں ٹیسٹ سنچری بنایا، جو انگلینڈ میں کسی بھی بیٹسمین کی جانب سے سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ ہے۔
تاہم، چائے کے وقفے کے بعد بھارتی بولرز نے حیرت انگیز واپسی کی۔ سراج کی تیز رفتار گیندوں اور پراسدھ کرشنا کی درست لائن اینڈ لینتھ نے انگلینڈ کے بیٹسمینوں کو پریشان کیا۔ بروک ایک بلند شاٹ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے جب سراج نے باؤنڈری پر ان کا کیچ پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ باؤنڈری رسی پر گر گئے، جس سے بروک کو زندگی ملی۔ تاہم، بعد میں آکاش دیپ نے انہیں 111 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ جیکب بیتھل کی وکٹ گرنے سے بھارتی کیمپ میں جوش کی لہر دوڑ گئی، اور پھر روٹ کی وکٹ نے میچ کو مکمل طور پر پلٹ دیا۔ پراسدھ کرشنا کی ایک گیند پر روٹ ایج دے بیٹھے، اور دریو جوریل نے شاندار کیچ پکڑ کر بھارت کو فتح کی امید دلائی۔
شام 5:30 بجے خراب روشنی کی وجہ سے کھیل روکا گیا، اور کچھ ہی دیر بعد تیز بارش نے گراؤنڈ اسٹاف کو پچ کو ڈھانپنے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت انگلینڈ 339/6 پر تھا، اور شائقین مایوسی کے عالم میں میدان سے لوٹ گئے جب کہ میچ ایک سنسنی خیز موڑ پر تھا۔
بارش کا کردار اور موسم کی پیشگوئی
اوول ٹیسٹ کے دوران بارش ایک مستقل چیلنج رہی ہے۔ پہلے، دوسرے، اور چوتھے دن بارش نے کھیل کو متاثر کیا، اور اب پانچویں دن بھی موسم کی غیر یقینی صورتحال میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لندن کے موسم کی تازہ رپورٹس کے مطابق، پیر کو صبح کا سیشن زیادہ تر ابر آلود لیکن خشک رہے گا، جس سے کھیل کے آغاز میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ تاہم، دوپہر 2 بجے کے قریب ہلکی بارش کا امکان ہے، جو لنچ کے وقفے کے دوران میچ کو متاثر کر سکتا ہے۔ میٹ آفس نے صبح 11 بجے تک 40 فیصد بارش کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ ایکوویدر کے مطابق دوپہر تک بارش کا امکان صفر ہے لیکن شام تک یہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
اگر صبح کا سیشن بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو جاتا ہے، تو امکان ہے کہ میچ دوپہر سے پہلے ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے۔ کھیل پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 3:30 بجے شروع ہوگا، اور شائقین کی نظریں موسم اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر جمی ہوئی ہیں۔
انگلینڈ کی بیٹنگ اور بھارت کی بولنگ
انگلینڈ کی بیٹنگ لائن اپ اب جیمی اسمتھ اور جیمی اوورٹن پر انحصار کر رہی ہے، جبکہ کرس ووکس، جو کندھے کی چوٹ کی وجہ سے پہلی اننگز میں بیٹنگ نہیں کر سکے، ممکنہ طور پر آخری کوشش کے طور پر بیٹنگ کے لیے آ سکتے ہیں۔ ووکس کو ڈریسنگ روم میں انگلینڈ کی وائٹس میں دیکھا گیا، جو ان کی ہمت اور عزم کی نشاندہی کرتا ہے۔
دوسری جانب، بھارتی بولرز، خاص طور پر محمد سراج اور پراسدھ کرشنا، نئے بال کے ساتھ انگلینڈ کے بیٹسمینوں کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سراج نے اس سیریز میں 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندیں کرائی ہیں اور چوتھے دن زاک کرالی کو آؤٹ کرنے والی یارکر اس کی ایک مثال ہے۔ پراسدھ کرشنا نے بھی اپنی بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا، جنہوں نے اس میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں۔ آکاش دیپ اور رویندر جڈیجہ بھی بھارتی بولنگ اٹیک کو مضبوطی دیتے ہیں، اور نیا بال ان کے لیے میچ جیتنے کا ایک سنہری موقع فراہم کر سکتا ہے۔
سیریز کا پس منظر
انگلینڈ اس وقت سیریز میں 2-1 سے آگے ہے، اور اگر وہ یہ میچ جیت جاتا ہے تو سیریز 3-1 سے اپنے نام کر لے گا، جو بین سٹوکس اور برینڈن میک کُلم کی زیر قیادت ’بیز بال‘ فلسفے کی ایک اور فتح ہوگی۔ دوسری جانب، بھارت کے لیے یہ میچ سیریز کو 2-2 سے برابر کرنے اور اینڈرسن-ٹنڈولکر ٹرافی کو برقرار رکھنے کا موقع ہے۔ بھارت کی دوسری اننگز میں یشسوی جیسوال کی 118 رنز کی شاندار سنچری، آکاش دیپ کی 66 رنز کی پہلی ٹیسٹ ففٹی، اور واشنگٹن سندر کی 39 گیندوں پر 50 رنز کی جارحانہ اننگز نے انگلینڈ کو 374 رنز کا مشکل ہدف دیا۔
یہ سیریز اپنی شدت اور ڈرامے کے لیے مشہور رہی ہے، جہاں ہر میچ پانچویں دن تک جاری رہا۔ اس نے نہ صرف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں بلکہ ان کی ذہنی مضبوطی کو بھی پرکھا۔ بھارتی کپتان شبمن گل نے اس سیریز کو ایک بڑا سیکھنے کا تجربہ قرار دیا، جبکہ انگلینڈ کے جو روٹ نے اسے ایک ’بلاک بسٹر‘ سیریز کہا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
چوتھے دن کے ڈرامائی اختتام کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پلیٹ فارم، پر شائقین کرکٹ نے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "یہ ٹیسٹ سیریز کرکٹ کی خوبصورتی کو عروج پر لے گئی ہے۔ انگلینڈ اور بھارت دونوں ہی شاندار کھیل رہے ہیں، لیکن بارش نے ایک بار پھر سب کو سسپنس میں ڈال دیا!” ایک بھارتی مداح نے کہا، "سراج اور پراسدھ نے ہمیں میچ میں واپس لا کھڑا کیا۔ بس اب نیا بال اور چار وکٹیں، ہم یہ سیریز برابر کر سکتے ہیں!” انگلینڈ کے ایک فین نے جو روٹ اور ہیری بروک کی تعریف کرتے ہوئے لکھا، "بروک اور روٹ نے ہمیں خواب دکھایا، لیکن اب اسمتھ اور اوورٹن پر بھروسہ ہے۔ بس 35 رنز، ہم یہ کر سکتے ہیں!”
کرکٹ کے ماہر ہرشا بھوگلے نے ایکس پر لکھا، "یہ سیریز ایک شاہکار رہی ہے۔ پانچوں میچ پانچویں دن تک پہنچے، اور اب اوول میں یہ فائنل ایک ایپک فلم کی طرح ہے۔ بس بارش اسے خراب نہ کرے!”
اوول ٹیسٹ کی موجودہ صورتحال کرکٹ کی غیر یقینی خوبصورتی کی ایک کامل مثال ہے۔ انگلینڈ، جو چوتھے دن کے دوسرے سیشن تک میچ پر مکمل طور پر حاوی تھا، اچانک دباؤ میں ہے، جبکہ بھارت نے اپنی شاندار بولنگ کے ذریعے میچ کو پلٹ دیا۔ محمد سراج اور پراسدھ کرشنا کی کارکردگی نے ثابت کیا کہ بھارتی بولنگ اٹیک اب بھی دنیا کے بہترین بیٹسمینوں کے لیے خطرہ ہے۔جو بھارت کے لیے ایک بڑا ہتھیار ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر پچ پر اب بھی کچھ حرکت موجود ہو۔
تاہم، انگلینڈ کی ’بیز بال‘ حکمت عملی نے اس سیریز میں کئی بار ناممکن کو ممکن کیا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل ایجبسٹن (2022) میں 378 اور ہیڈنگلے (2025) میں 371 رنز کے ہدف کامیابی سے حاصل کیے ہیں، جو ان کی جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جیمی اسمتھ، جو انگلینڈ کے ٹاپ آرڈر کا آخری معتبر بیٹسمین ہیں، اور جیمی اوورٹن، جو ایک آل راؤنڈر ہیں، پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر کرس ووکس بیٹنگ کے لیے آتے ہیں، تو یہ ایک ڈرامائی لمحہ ہوگا، کیونکہ ان کی چوٹ ان کے کھیل کو محدود کر سکتی ہے۔
بارش اس میچ کا سب سے بڑا ولن بن سکتی ہے۔ اگر صبح کا سیشن مکمل ہو جاتا ہے، تو میچ کا نتیجہ نکلنے کا قوی امکان ہے، کیونکہ 35 رنز یا چار وکٹیں حاصل کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار نہیں۔ لیکن اگر بارش طویل ہوتی ہے، تو میچ ڈرا ہو سکتا ہے، جو انگلینڈ کے لیے سیریز جیتنے کے مترادف ہوگا۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ میچ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے ایک سبق ہے کہ کس طرح مشکل حالات میں واپسی کی جا سکتی ہے۔ بھارت کی طرح، پاکستان کو بھی اپنی بولنگ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، اور سراج کی جارحانہ بولنگ پاکستانی فاسٹ بولرز کے لیے ایک مثال ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ سیریز پاکستانی شائقین کے لیے بھی ایک عظیم تفریح رہی ہے، کیونکہ اس نے ٹیسٹ کرکٹ کی دلچسپی کو زندہ رکھا ہے۔
یہ ٹیسٹ سیریز اور اس کا آخری میچ کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ بننے جا رہا ہے۔ چاہے انگلینڈ اپنا دوسرا سب سے بڑا رن چیس مکمل کر لے یا بھارت اپنی بولنگ کی بدولت سیریز برابر کر دے، شائقین کو ایک ایپک فائنل دیکھنے کو ملے گا—بشرطیکہ بارش اسے خراب نہ کرے۔





















