کراچی: بھنڈی، جسے عرف عام میں ’لیڈی فنگر‘ کہا جاتا ہے، ایک ایسی سبزی ہے جو نہ صرف پاکستانی کھانوں کا لازمی حصہ ہے بلکہ اپنے بیش بہا غذائی فوائد کی بدولت ’قدرتی ملٹی وٹامن‘ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق، اگر بھنڈی کو روزانہ کی خوراک میں شامل کیا جائے تو یہ دل کی صحت سے لے کر ہڈیوں کی مضبوطی اور ذیابیطس کے کنٹرول تک متعدد فوائد فراہم کر سکتی ہے۔ یہ رپورٹ بھنڈی کے صحت بخش فوائد، اس کے غذائی اجزاء، اور اسے پکانے کے بہترین طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔
بھنڈی کے غذائی اجزاء
بھنڈی ایک کم کیلوری والی سبزی ہے جو وٹامنز، معدنیات، اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔ اس میں وٹامن سی، وٹامن کے، فولیٹ، میگنیشیم، پوٹاشیم، کیلشیم، اور فائبر کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔ اس کے بیجوں اور گودے میں موجود پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس اور قابل حل فائبر اسے ایک منفرد غذائی پروفائل دیتے ہیں۔ یہ اجزاء نہ صرف جسم کی مجموعی صحت کو بہتر بناتے ہیں بلکہ کئی دائمی امراض سے تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔
غذائی ماہرین کے مطابق، ایک کپ (تقریباً 100 گرام) پکی ہوئی بھنڈی میں تقریباً 33 کیلوریز، 7 گرام فائبر، 2 گرام پروٹین، اور متعدد ضروری وٹامنز شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بھنڈی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس، جیسے کہ پولی فینولز اور فلیوونائڈز، جسم میں سوزش کو کم کرنے اور آزاد ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
بھنڈی کے صحت بخش فوائد
1. ذیابیطس کا کنٹرول
بھنڈی کے بیج اور گودا خون میں گلوکوز کے جذب ہونے کی رفتار کو سست کرتے ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک قدرتی علاج ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں موجود فائبر بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھتا ہے، جبکہ اس کا کم گلیسیمک انڈیکس اسے ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک مثالی غذا بناتا ہے۔ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ بھنڈی کا پانی (بھنڈی کو رات بھر پانی میں بھگو کر پینا) انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔
2. دل کی صحت
بھنڈی میں موجود فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا قابل حل فائبر (پیکٹن) خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرتا ہے، جو دل کی بیماریوں، جیسے کہ ہارٹ اٹیک اور فالج، کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھنڈی میں موجود پوٹاشیم ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے، جو دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
3. نظام ہاضمہ کی بہتری
بھنڈی کا اعلیٰ فائبر مواد نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض سے نجات دلاتا ہے۔ اس کا چپچپا مادہ (mucilage) آنتوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے اور ہاضمے کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ یہ مادہ آنتوں میں اچھے بیکٹیریا کی افزائش کو بھی بڑھاتا ہے، جو مجموعی طور پر گٹ ہیلتھ کے لیے فائدہ مند ہے۔
4. ہڈیوں اور جوڑوں کی مضبوطی
بھنڈی میں موجود وٹامن کے اور کیلشیم ہڈیوں کی صحت کے لیے ناگزیر ہیں۔ وٹامن کے خون کے جمنے اور ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ کیلشیم ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، بھنڈی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جوڑوں کی سوزش کو کم کرتے ہیں، جو گٹھیا جیسے امراض کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
5. جلد اور بالوں کی خوبصورتی
بھنڈی میں وافر مقدار میں موجود وٹامن سی جلد کی صحت کے لیے ایک طاقتور جزو ہے۔ یہ کولیجن کی پیداوار کو بڑھاتا ہے، جو جلد کو لچکدار اور چمکدار بناتا ہے۔ اس کے علاوہ، وٹامن سی بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے اور بالوں کے گرنے کو کم کرتا ہے۔ بھنڈی کے اینٹی آکسیڈنٹس جلد پر عمر کے اثرات کو بھی سست کرتے ہیں، جس سے یہ ایک قدرتی اینٹی ایجنگ غذا بن جاتی ہے۔
بھنڈی کو صحت بخش طریقے سے پکانے کے طریقے
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ بھنڈی کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے اسے صحیح طریقے سے پکانا ضروری ہے۔ بھنڈی کو زیادہ تیل میں فرائی کرنے سے اس کے غذائی اجزاء ضائع ہو سکتے ہیں۔ اس کے بجائے، اسے ہلکی آنچ پر کم تیل میں پکانے کی سفارش کی جاتی ہے۔
بھنی ہوئی بھنڈی: بھنڈی کو ہلکا سا زیتون کے تیل میں بھونیں اور اس پر لیموں کا رس اور ہلدی چھڑکیں۔ یہ طریقہ اس کے وٹامنز کو برقرار رکھتا ہے۔
بھنڈی کی سبزی: بھنڈی کو ٹماٹر، ادرک، لہسن، اور ہری مرچ کے ساتھ پکائیں۔ یہ نہ صرف ذائقہ بڑھاتا ہے بلکہ اس کے اینٹی آکسیڈنٹس کو بھی تقویت دیتا ہے۔
بھنڈی کا سوپ: بھنڈی کو سبزیوں کے شوربے میں شامل کر کے ایک صحت بخش سوپ بنایا جا سکتا ہے، جو ہاضمے کے لیے بہترین ہے۔
بھنڈی کا پانی: رات بھر بھنڈی کو پانی میں بھگو کر صبح اس کا پانی پینا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
بھنڈی کے فوائد کی اس رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، لوگوں نے اس سبزی کی اہمیت کو سراہا۔ ایک صارف نے لکھا، "ہمارے گھر میں بھنڈی ہفتے میں دو بار ضرور بنتی ہے، لیکن اس کے اتنے فوائد جان کر اب روزانہ کھائیں گے!” ایک اور صارف نے کہا، "بھنڈی کو ملٹی وٹامن کہنا بالکل درست ہے۔ یہ سستی، آسانی سے ملنے والی، اور صحت کے لیے خزانہ ہے۔” کچھ صارفین نے اپنی پسندیدہ بھنڈی کی تراکیب بھی شیئر کیں، جن میں بھنڈی کی بھجیا اور بھنڈی مسالہ سرفہرست تھے۔
پاکستان میں بھنڈی کے استعمال کی روایت کو سراہتے ہوئے ایک صارف نے لکھا، "ہمارے دیسی کھانوں میں بھنڈی کی سبزی ہر گھر کی پسند ہے۔ اب اسے اور زیادہ اہمیت دینے کا وقت ہے۔”
بھنڈی کے صحت بخش فوائد اسے پاکستانی اور جنوبی ایشیائی کھانوں کا ایک ناگزیر حصہ بناتے ہیں۔ اس کی کم قیمت، آسان دستیابی، اور غذائی فوائد اسے ہر گھر کے لیے ایک مثالی غذا بناتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، اور دل کی بیماریوں کی شرح بڑھ رہی ہے، بھنڈی ایک سستا اور قدرتی حل پیش کرتی ہے۔ اس کے فائبر، وٹامنز، اور اینٹی آکسیڈنٹس نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
تاہم، بھنڈی کے فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لیے اسے صحت مند طریقوں سے پکانا ضروری ہے۔ پاکستانی کھانوں میں اکثر بھنڈی کو زیادہ تیل میں فرائی کیا جاتا ہے، جو اس کے غذائی فوائد کو کم کر سکتا ہے۔ عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ بھنڈی کو کم تیل میں یا بھاپ پر پکایا جائے تاکہ اس کے وٹامنز اور معدنیات محفوظ رہیں۔
اس کے علاوہ، بھنڈی کا باقاعدہ استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 33 ملین سے زیادہ ہے، اور بھنڈی جیسے قدرتی علاج اس بیماری کے انتظام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم، ماہرین صحت کو اس سلسلے میں مزید تحقیق اور عوامی آگاہی مہمات شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
بھنڈی نہ صرف ایک لذیذ سبزی ہے بلکہ ایک صحت بخش غذا بھی ہے جو ہر عمر کے افراد کے لیے فائدہ مند ہے۔ پاکستانی گھرانوں کو چاہیے کہ وہ اسے اپنی روزمرہ کی خوراک کا لازمی حصہ بنائیں اور اسے صحت مند طریقوں سے پکا کر اس کے فوائد سے مستفید ہوں۔ یہ ’قدرتی ملٹی وٹامن‘ نہ صرف جسم کو توانائی دیتا ہے بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کی کنجی بھی ہے۔





















