لندن: پلاسٹک، جو جدید زندگی کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے، اب انسانی صحت کے لیے ایک خاموش قاتل بن چکا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پلاسٹک کا زہر نہ صرف ماحول کو تباہ کر رہا ہے بلکہ رحم مادر سے لے کر انسانی دماغ اور بون میرو تک جا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں کینسر، دل کے امراض، اور دیگر سنگین بیماریوں کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ عالمی سطح پر پلاسٹک کا فضلہ 8 ارب ٹن تک جا پہنچا ہے، اور اس سے پیدا ہونے والے مائیکرو اور نینو پلاسٹک ذرات پانی، خوراک، اور سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر تباہی مچا رہے ہیں۔
پلاسٹک کا عالمی بحران
برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک جامع رپورٹ کے مطابق، 1950 کے بعد سے پلاسٹک کی عالمی پیداوار میں 200 گنا اضافہ ہوا ہے، اور پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2060 تک یہ پیداوار سالانہ ایک ارب ٹن تک پہنچ جائے گی۔ اس وقت دنیا بھر میں 8 ارب ٹن پلاسٹک فضلہ موجود ہے، جو ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی سے لے کر سمندروں کی گہرائیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ فضلہ مائیکروپلاسٹک (5 ملی میٹر سے چھوٹے ذرات) اور نینو پلاسٹک (ایک مائیکرو میٹر سے چھوٹے ذرات) کی شکل میں تبدیل ہو کر ماحول کو آلودہ کر رہا ہے۔
پلاسٹک کا سب سے بڑا استعمال ایک بار استعمال ہونے والی اشیا، جیسے کہ سافٹ ڈرنک کی بوتلیں، فاسٹ فوڈ کنٹینرز، اور پلاسٹک بیگز میں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے، دنیا میں پیدا ہونے والے پلاسٹک کا صرف 10 فیصد ہی ری سائیکل کیا جا سکتا ہے، جبکہ باقی ماندہ فضلہ سمندروں، ندیوں، اور زمین کو آلودہ کر رہا ہے۔ یہ پلاسٹک فضلہ نہ صرف ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
مائیکرو اور نینو پلاسٹک
سائنسی مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ مائیکرو اور نینو پلاسٹک ذرات انسانی جسم میں پانی، خوراک، اور ہوا کے ذریعے داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ذرات اتنی چھوٹی ہیں کہ انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے، لیکن ان کی موجودگی انسانی خون، دماغ، جگر، پھیپھڑوں، ماں کے دودھ، اور یہاں تک کہ بون میرو میں بھی پائی گئی ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ ذرات رحم مادر میں موجود جنین تک بھی پہنچ رہے ہیں، جو نومولود بچوں کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، یہ ننھے پلاسٹک ذرات جسم کے خلیوں اور بافتوں میں جمع ہو کر سوزش، ہارمونل عدم توازن، اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ ان ذرات کی موجودگی سے حمل گرنے، قبل از وقت پیدائش، اور بچوں میں پیدائشی نقائص، جیسے کہ کمزور پھیپھڑوں اور دل کے مسائل، کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر، بچوں میں لیوکیمیا جیسے کینسر کے کیسز اور دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مائیکروپلاسٹک کی آلودگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
پلاسٹک کے کیمیکلز
پلاسٹک کی تیاری میں 16,000 سے زائد کیمیکلز کا استعمال ہوتا ہے، جن میں سے کئی انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ ان کیمیکلز میں فتھالیٹس، بیسفینول-اے (BPA)، اور پرفلوورو ایلکائل مادے (PFAs) شامل ہیں، جو ہارمونل نظام کو متاثر کرتے ہیں اور کینسر، ذیابیطس، اور دل کے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پلاسٹک بنانے والی کمپنیاں ان کیمیکلز کی تفصیلات کو خفیہ رکھتی ہیں، جس سے ان کے صحت پر اثرات کا جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، فتھالیٹس، جو پلاسٹک کو لچکدار بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، تولیدی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بچوں میں ہارمونل مسائل کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح، BPA دماغی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے، جو جنین اور شیر خوار بچوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہے۔ یہ کیمیکلز مائیکروپلاسٹک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
انسانی صحت پر معاشی بوجھ
پلاسٹک کی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر دنیا سالانہ ڈیڑھ کھرب ڈالر (150 بلین ڈالر) خرچ کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کو ’سستا میٹریل‘ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے، کیونکہ اس کے صحت اور ماحولیاتی اثرات کی قیمت اسے دنیا کا سب سے مہنگا مواد بناتی ہے۔ یہ اخراجات ہسپتالوں، ادویات، اور بیماریوں کی روک تھام کے پروگراموں پر خرچ ہو رہے ہیں، جو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بھاری معاشی بوجھ ہے۔
پلاسٹک کی آلودگی سے ہونے والے فالج، دل کے دورے، اور کینسر جیسے امراض کی شرح میں اضافہ نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کر رہا ہے بلکہ صحت کے نظاموں پر دباؤ بھی بڑھا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جیسے کہ پاکستان، جہاں صحت کی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ماحولیاتی تباہی
پلاسٹک کا فضلہ زمین کے ہر کونے میں موجود ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سے لے کر بحرالکاہل کی گہری کھائی، ماریانا ٹرینچ تک، پلاسٹک کے ذرات پائے گئے ہیں۔ سمندروں میں موجود پلاسٹک فضلہ سمندری حیات کو تباہ کر رہا ہے، جبکہ زمین پر پلاسٹک کے جلنے سے زہریلے کیمیکلز اور فضائی آلودگی پیدا ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، پلاسٹک فضلہ جب مائیکروپلاسٹک یا نینو پلاسٹک میں تبدیل ہوتا ہے، تو یہ خوراک کی زنجیر میں شامل ہو جاتا ہے۔ مچھلیاں اور دیگر سمندری حیات ان ذرات کو نگل لیتی ہیں، جو بالآخر انسانی خوراک، جیسے کہ سی فوڈ، کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پلاسٹک کی بوتلوں سے پانی پینے اور پلاسٹک کنٹینرز میں کھانا کھانے سے بھی یہ ذرات جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، لوگوں نے پلاسٹک کی آلودگی کے سنگین نتائج پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "ہم روزانہ پلاسٹک کی بوتلوں اور بیگز کا استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ جان کر صدمہ ہوا کہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔” ایک اور صارف نے کہا، "حکومت کو پلاسٹک کے استعمال پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے، ورنہ ہم اپنی نسلوں کو زہر دے رہے ہیں۔”
کچھ صارفین نے پلاسٹک کے متبادل، جیسے کہ شیشے کی بوتلیں اور کپڑے کے تھیلوں، کو اپنانے کی وکالت کی۔ ایک صارف نے لکھا، "ہمیں اپنی عادات بدلنی ہوں گی۔ پلاسٹک کی بوتلیں چھوڑ کر دوبارہ استعمال ہونے والے کنٹینرز اپنائیں۔”
پلاسٹک کی آلودگی کا بحران اب صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی صحت کے لیے ایک عالمی ہنگامی صورتحال بن چکا ہے۔ مائیکرو اور نینو پلاسٹک ذرات کا رحم مادر، ماں کے دودھ، اور بون میرو تک پہنچنا اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ ہم ایک ایسی تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ خاص طور پر بچوں اور جنین پر اس کے اثرات، جیسے کہ کینسر، دل کے امراض، اور پیدائشی نقائص، ایک سنگین انتباہ ہیں کہ ہمیں فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ بحران اور بھی سنگین ہے، کیونکہ یہاں پلاسٹک کا استعمال بے تحاشا بڑھ رہا ہے، جبکہ ری سائیکلنگ کا نظام تقریباً ناپید ہے۔ پاکستان میں سالانہ 30 ملین ٹن سے زائد ٹھوس فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ پلاسٹک پر مشتمل ہوتا ہے۔ کراچی، لاہور، اور دیگر بڑے شہروں میں پلاسٹک کے ڈھیر نہ صرف ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں بلکہ پانی کے ذرائع اور خوراک کی زنجیر کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ پلاسٹک کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرے، جیسے کہ ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک بیگز اور بوتلوں پر مکمل پابندی۔ اس کے علاوہ، ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانے اور پلاسٹک کے متبادل، جیسے کہ بایوڈیگریڈیبل مواد، کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے مہمات شروع کی جائیں، خاص طور پر اسکولوں اور کالجوں میں، تاکہ نئی نسل کو پلاسٹک کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔
عالمی سطح پر، پلاسٹک بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے کیمیکلز کی خفیہ کاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ عالمی اداروں، جیسے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت، کو چاہیے کہ وہ پلاسٹک کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی شفافیت کے لیے قوانین بنائیں۔ اس کے علاوہ، پلاسٹک کی پیداوار کو کم کرنے اور ری سائیکلنگ کی شرح بڑھانے کے لیے عالمی معاہدوں کی ضرورت ہے۔
پلاسٹک کا بحران ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہ صرف ہمارے ماحول بلکہ ہماری صحت اور ہماری نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اگر ہم ابھی عمل نہ کرتے، تو پلاسٹک کا یہ زہر ہماری زندگیوں کو مزید تباہ کر دے گا۔ اب وقت ہے کہ ہم پلاسٹک کے استعمال کو کم کریں، متبادل تلاش کریں، اور ایک صاف ستھرے مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔





















