کراچی: دنیا بھر کے ممالک اپنی ثقافت، روایات، اور سماجی اقدار کے مطابق قوانین بناتے ہیں، لیکن کچھ ممالک کے قوانین اتنی عجیب و غریب نوعیت کے ہوتے ہیں کہ انہیں سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے۔ یہ قوانین کبھی تاریخی حالات، سماجی مسائل، یا مقامی روایات کی وجہ سے وجود میں آئے، لیکن آج کے دور میں یہ مضحکہ خیز یا غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ دنیا کے چند ممالک کے ایسے ہی دلچسپ اور انوکھے قوانین پر روشنی ڈالتی ہے، جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گے۔
سنگاپور: چیونگم پر پابندی
سنگاپور، جو اپنی صفائی اور نظم و ضبط کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، ایک ایسا قانون رکھتا ہے جو چیونگم چبانے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ اس پابندی کا نفاذ 1992 میں کیا گیا تھا، جب چیونگم کو عوامی مقامات پر گندگی اور بد نظمی کا باعث سمجھا گیا۔ ریلوے اسٹیشنوں، بسوں، اور فٹ پاتھوں پر چیونگم کے چپک جانے کی وجہ سے صفائی کے اخراجات میں اضافہ ہوا، جس کے بعد حکومت نے اسے مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا۔ صرف طبی یا علاج کے مقاصد کے لیے چیونگم کی اجازت ہے، لیکن اس کے لیے بھی ڈاکٹر کی تجویز ضروری ہے۔ جرمانہ نہ ادا کرنے والوں کو 1,000 سنگاپور ڈالر تک جرمانہ یا قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
جاپان: موٹاپے کی حد مقرر
جاپان، جہاں صحت مند طرز زندگی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، نے 2008 میں ایک منفرد قانون متعارف کرایا جسے "میٹابو قانون” کہا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت 40 سے 74 سال کی عمر کے افراد کی کمر کا سائز باقاعدگی سے چیک کیا جاتا ہے۔ مردوں کی کمر 85 سینٹی میٹر اور خواتین کی 90 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی اس حد سے تجاوز کر جاتا ہے، تو کمپنیوں یا مقامی حکومتی اداروں کو ان افراد کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کے لیے مشورے اور پروگرامز فراہم کرنے ہوتے ہیں۔ اس قانون کا مقصد موٹاپے سے وابستہ بیماریوں، جیسے ذیابیطس اور دل کے امراض، کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ اس قانون پر عمل درآمد ہلکا پھلکا ہے، لیکن یہ جاپانی معاشرے کی صحت کے تئیں سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈومینیکن ری پبلک: نام پر پابندی
ڈومینیکن ری پبلک میں والدین اپنے بچوں کا نام کچھ بھی رکھنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن ایک نام پر سخت پابندی ہے: "اسامہ بن لادن”۔ 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد اس نام کو سرکاری طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا تاکہ دہشت گردی سے وابستہ کسی بھی علامت سے بچا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری اپنے بچے کا یہ نام نہیں رکھ سکتا، اور اگر کوئی ایسی کوشش کرتا ہے تو اسے رجسٹریشن سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ یہ قانون سماجی ہم آہنگی اور حساسیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
اٹلی (میلان): ہمیشہ مسکرانے کا قانون
میلان، اٹلی، جو فیشن اور خوبصورتی کا گڑھ ہے، ایک ایسا قانون رکھتا ہے جو عوامی مقامات پر مسکرانا لازمی قرار دیتا ہے۔ اس قانون کے مطابق، شہریوں کو ہر وقت خوش مزاج اور مسکراہٹ کے ساتھ نظر آنا چاہیے، سوائے جنازوں یا ہسپتالوں کے دوروں کے۔ یہ قانون 19ویں صدی سے چلا آ رہا ہے، جب شہر کی انتظامیہ نے عوام میں مثبت رویہ کو فروغ دینے کے لیے اسے نافذ کیا تھا۔ اگرچہ آج کل اس قانون پر سختی سے عمل نہیں ہوتا، لیکن اس کی موجودگی میلان کی منفرد ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔
آسٹریلیا (وِکٹوریا): گلابی پینٹس پر پابندی
آسٹریلیا کے صوبے وکٹوریا میں ایک عجیب قانون موجود ہے جو اتوار کے دن عوامی مقامات پر گلابی رنگ کی پینٹس پہننے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ یہ قانون تاریخی طور پر اس وقت بنایا گیا جب کچھ مقامی روایات نے مخصوص رنگوں کو خاص دنوں سے جوڑا تھا۔ اگرچہ یہ قانون اب متروک ہو چکا ہے اور اس پر عمل نہیں ہوتا، لیکن اس کی موجودگی آسٹریلیا کے قانون کے مجموعے میں ایک دلچسپ اضافہ ہے۔ شہری اب اس قانون کو ایک مذاق کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن یہ آسٹریلوی ثقافت کے تنوع کی ایک عکاسی ہے۔
برطانیہ: ڈاک ٹکٹ کو الٹا لگانا غداری
برطانیہ، جہاں شاہی روایات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، ایک قانون کے مطابق ڈاک ٹکٹ پر ملکہ یا بادشاہ کی تصویر کو الٹا لگانا غداری کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ یہ قانون شاہی عزت و احترام کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا، کیونکہ ڈاک ٹکٹ کو شاہی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ آج کے دور میں اس قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا، لیکن یہ برطانوی تاریخ کے شاہی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈاک خانوں میں اب بھی بعض اوقات اسے ایک روایت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
روس: گندی گاڑی پر جرمانہ
روس میں ایک قانون کے تحت گندی یا دھول بھری گاڑی چلانا قابل جرمانہ جرم ہے۔ اس قانون کا مقصد شہری خوبصورتی اور صفائی کو برقرار رکھنا ہے۔ ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ جیسے بڑے شہروں میں پولیس اس قانون پر عمل درآمد کرتی ہے، اور گاڑیوں کے مالکان کو اپنی گاڑی کی صفائی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ جرمانہ عام طور پر 500 سے 2,000 روبل تک ہو سکتا ہے، لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون بعض اوقات غیر ضروری طور پر سخت ہوتا ہے۔
امریکا (ایریزونا): باتھ ٹب میں گدھے پر پابندی
امریکا کے صوبے ایریزونا میں ایک عجیب قانون موجود ہے جو رات کے وقت گدھے کو باتھ ٹب میں بٹھانے کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ یہ قانون 1920 کی دہائی میں بنایا گیا تھا، جب ایک مقامی شہری نے اپنے گدھے کو باتھ ٹب میں رکھا تھا، جس سے پانی کی پائپ لائن کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ یہ قانون اب عملی طور پر نافذ نہیں ہوتا، لیکن اس کی موجودگی امریکی قوانین کے تاریخی تنوع کی ایک مثال ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ان عجیب و غریب قوانین کی خبر سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، وائرل ہو گئی۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "یہ سن کر ہنسی آ گئی کہ سنگاپور میں چیونگم پر پابندی ہے! ہمارے ہاں تو چیونگم بچوں کی جان ہے۔” ایک اور صارف نے جاپان کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اگر پاکستان میں کمر کا سائز چیک کرنے کا قانون بنے تو نصف آبادی جرمانے کی زد میں آ جائے!” کچھ صارفین نے ان قوانین کو مضحکہ خیز قرار دیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ یہ قوانین اپنے وقت کی سماجی ضروریات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ عجیب و غریب قوانین ہمیں مختلف ممالک کی ثقافت، تاریخ، اور سماجی اقدار کے بارے میں ایک منفرد جھلک دیتے ہیں۔ اگرچہ آج کے دور میں یہ قوانین مضحکہ خیز یا غیر ضروری لگ سکتے ہیں، لیکن ان کی جڑیں اکثر تاریخی یا سماجی حالات سے منسلک ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، سنگاپور کا چیونگم پر پابندی کا قانون اس کی صفائی کی پالیسی کا حصہ ہے، جبکہ جاپان کا میٹابو قانون صحت عامہ کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ قوانین ہمیں اپنے قانونی نظام پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی کچھ قوانین، جیسے کہ پتنگ بازی پر پابندی یا مخصوص علاقوں میں دھواں دار گاڑیوں پر جرمانہ، کبھی کبھار غیر ضروری یا مضحکہ خیز لگ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ قوانین بھی اپنے وقت کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش ہوتے ہیں۔
ان عجیب قوانین سے یہ سبق ملتا ہے کہ قوانین بناتے وقت سماجی اور ثقافتی تناظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ قوانین آج کے دور میں عجیب لگتے ہیں، لیکن یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہر معاشرہ اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے منفرد طریقے اپناتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے قوانین کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کریں اور غیر ضروری یا متروک قوانین کو ختم کریں تاکہ قانونی نظام زیادہ موثر اور قابل قبول ہو۔
یہ عجیب و غریب قوانین نہ صرف ہنسی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ہمیں دنیا کے تنوع اور انسانی معاشروں کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہیں کہ قوانین صرف قواعد و ضوابط نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک معاشرے کی کہانی اور اس کی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔





















