اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کے نام پر آئین و قانون سے ماورا کوئی عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان کی رہائی کے لیے ان کے خاندان کے افراد، حتیٰ کہ ان کے بچوں کو بھی استعمال کیا گیا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر تنقید کی اور اڈیالہ جیل پر کسی قسم کے حملے کی اجازت نہ دینے کا عزم دہرایا۔
قومی اسمبلی میں طلال چوہدری کا خطاب
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن اسے آئینی اور قانونی دائرے میں رہنا ہوگا۔ انہوں نے تنقیدی انداز میں کہا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے، لیکن "چاہے پھوپھیاں آئیں، بیگم آئے، یا بچے بھی میدان میں اتر آئیں، اس سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔” ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانے یا اڈیالہ جیل پر کسی قسم کے دباؤ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی کال تو دیتی ہے، لیکن انتظامیہ کو پیشگی طور پر مطلع کرنے سے گریز کرتی ہے۔ "ہمیں میڈیا کے ذریعے پتہ چلتا ہے کہ احتجاج ہو رہا ہے۔ آخر انتظامیہ کو کیوں نہیں آگاہ کیا جاتا؟” انہوں نے مزید کہا کہ تین دن قبل ڈاک کے ذریعے ڈپٹی کمشنر آفس کو ایک درخواست موصول ہوئی، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے مقام اور وقت کے بارے میں واضح منصوبہ پیش نہیں کیا جاتا۔ کبھی وہ اسلام آباد آنے کا اعلان کرتے ہیں اور کبھی اپنے اپنے شہروں میں احتجاج کی کال دیتے ہیں، جو کہ ایک غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
عمران خان کے بچوں کے حوالے سے بیان
طلال چوہدری نے خاص طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹوں کے ممکنہ دورہ پاکستان کے حوالے سے کیے جانے والے دعووں پر سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے بچے اپنے والد سے ملنے پاکستان آتے ہیں، تو یہ ان کا حق ہے، لیکن اسے سیاسی اسٹنٹ کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "کیا یہ بچے عمران خان کے بیٹوں کے طور پر آ رہے ہیں یا گولڈ اسمتھ کے پوتوں کے طور پر؟” ان کا اشارہ عمران خان کے سابقہ سسرال کی جانب تھا، جو کہ ایک حساس موضوع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بچوں کو اپنے والد سے ملنے کی خواہش تھی، تو کیا دو سال کے عرصے میں انہیں ویزا حاصل کرنے میں مشکل پیش آئی؟ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو ہمدردی کے حصول کے لیے استعمال کرنا ایک سیاسی چال ہے، جو کہ قابل مذمت ہے۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت احتجاج کی اجازت دے گی، لیکن قانون کی خلاف ورزی یا اڈیالہ جیل پر کسی قسم کے دباؤ کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی۔
پی ٹی آئی کا احتجاج اور حکومتی موقف
طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کے لیے دوبارہ اسی میز پر آنا ہوگا جہاں سے وہ گزشتہ برس چلے گئے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کا ایجنڈا عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے سے متعلق ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کی سزا معافی یا اڈیالہ جیل سے رہائی کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، نہ کہ کوئی مثبت تبدیلی لانا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پی ٹی آئی سو بار بھی احتجاج کرے، حکومت کسی کو گرفتار نہیں کرے گی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ احتجاج قانون کے دائرے میں ہو اور انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنماوں سے سوال کیا کہ وہ ہر بار غیر واضح منصوبوں کے ساتھ احتجاج کیوں کرتے ہیں اور انتظامیہ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے؟
سوشل میڈیا پر ردعمل
طلال چوہدری کے اس بیان نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، ایک ہلچل مچا دی۔ کچھ صارفین نے ان کے بیان کو سخت اور غیر ضروری قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "بچوں کو سیاسی بیانات میں گھسیٹنا شرمناک ہے۔ طلال چوہدری کو اپنے الفاظ پر نظرثانی کرنی چاہیے۔” دوسری جانب، حکومتی حامیوں نے ان کے بیان کی حمایت کی اور کہا کہ پی ٹی آئی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "طلال چوہدری نے بالکل درست کہا۔ پی ٹی آئی کو قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنا چاہیے، نہ کہ انتشار پھیلانا چاہیے۔”
پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس بیان کو سیاسی دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عمران خان کی رہائی سے خوفزدہ ہے اور اسی لیے اس قسم کے بیانات دیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "طلال چوہدری کا یہ بیان ان کی بوکھلاہٹ ظاہر کرتا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت سے وہ گھبرا گئے ہیں۔”
طلال چوہدری کا یہ بیان پاکستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا عمران خان کے خاندان، خاص طور پر ان کے بچوں، کے حوالے سے طنزیہ انداز حساس موضوعات کو چھیڑنے کی ایک کوشش دکھائی دیتا ہے، جو کہ سیاسی گفتگو میں غیر ضروری طور پر ذاتی نوعیت کا اضافہ کرتا ہے۔ اگرچہ انہوں نے احتجاج کے حق کی حمایت کی، لیکن ان کا اصرار کہ پی ٹی آئی انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دے، ایک معقول مطالبہ ہے، کیونکہ اس سے قانون و ترتیب کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم، پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے امکانات اس بیان سے مزید کمزور ہو سکتے ہیں۔ طلال چوہدری کا یہ کہنا کہ مذاکرات کا ایجنڈا این آر او یا رہائی نہیں ہوگا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کسی قسم کے سمجھوتے کے موڈ میں نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے بار بار احتجاج کی کال اور غیر واضح منصوبوں نے بھی حکومتی ردعمل کو سخت کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں، جہاں احتجاج اور سیاسی بیان بازی عام ہے، اس قسم کے بیانات دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر سکتے ہیں۔ طلال چوہدری کا بیان، اگرچہ حکومتی نقطہ نظر کو واضح کرتا ہے، لیکن اس کا لہجہ اور ذاتی نوعیت کا ہونا پی ٹی آئی کے کارکنوں میں مزید اشتعال پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، بچوں کے حوالے سے تبصرہ غیر ضروری طور پر متنازع ہے اور اس سے حکومتی امیج پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان حلقوں میں جو سیاسی گفتگو میں اخلاقیات اور شائستگی کو اہمیت دیتے ہیں۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کو بھی اپنے احتجاج کے طریقہ کار پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کے ساتھ تعاون اور واضح منصوبہ بندی سے وہ اپنے احتجاج کو زیادہ منظم اور موثر بنا سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں، دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کے بجائے مذاکرات کی میز پر آنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ طلال چوہدری کا بیان اس کشیدہ ماحول کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کا فقدان اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔





















