مکیش امبانی کے خاندان کی پسندیدہ گائے کا دودھ، قیمت جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے

یہ دودھ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اپنی غذائیت اور معیار کی وجہ سے بھی منفرد ہے

ممبئی: ایشیا کے سب سے امیر شخص، مکیش امبانی، اور ان کے خاندان کی عالیشان طرز زندگی ہمیشہ سے سرخیوں میں رہی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان کا خاندان عام دودھ کی بجائے ایک خاص نسل کی گائے کا دودھ استعمال کرتا ہے، جس کی قیمت عام مارکیٹ کے دودھ سے کئی گنا زیادہ ہے؟ بھارتی میڈیا کے مطابق، مکیش امبانی، ان کی اہلیہ نیتا امبانی، بیٹوں آکاش اور اننت امبانی، اور بہوؤں شلوکا اور رادھیکا مرچنٹ ہولسٹین فریزین نسل کی گائیوں کا دودھ پیتے ہیں، جو فی لیٹر تقریباً 152 روپے کا ہے۔ یہ دودھ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ اپنی غذائیت اور معیار کی وجہ سے بھی منفرد ہے۔ یہ رپورٹ امبانی خاندان کے اس پرتعیش انتخاب اور اس کے پیچھے کی کہانی پر روشنی ڈالتی ہے۔

پونے کا جدید ڈیری فارم

بھارت کے شہر پونے میں واقع بھاگیلکشمی ڈیری فارم، جو 35 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، اس منفرد دودھ کا اصل ذریعہ ہے۔ اس فارم میں تقریباً 3,000 ہولسٹین فریزین گائیں پالی جاتی ہیں، جنہیں عالمی معیار کے مطابق نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ گائیں عام ماحول میں نہیں رہتیں؛ انہیں ربڑ سے بنے نرم گدوں پر آرام کی سہولت، آر او پلانٹ سے صاف کیا گیا پینے کا پانی، اور خصوصی طور پر تیار کردہ غذائیت سے بھرپور خوراک دی جاتی ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دودھ نہ صرف اعلیٰ معیار کا ہو بلکہ اس کی پیداوار بھی زیادہ سے زیادہ ہو۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، اس فارم کی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقہ کار اسے بھارت کے بہترین ڈیری فارمز میں سے ایک بناتے ہیں۔ گائیوں کی صحت اور دودھ کی کوالٹی کو برقرار رکھنے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مسلسل کام کرتی ہے، جو ہر گائے کی خوراک، آرام، اور صحت کی نگرانی کرتی ہے۔ یہ فارم امبانی خاندان کے لیے ایک مستقل اور قابل اعتماد دودھ کا ذریعہ ہے، جو ان کی پرتعیش زندگی کے معیار سے ہم آہنگ ہے۔

ہولسٹین فریزین

ہولسٹین فریزین، جو ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی گائے کی ایک ممتاز نسل ہے، اپنی غیر معمولی دودھ دینے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس نسل کی ہر گائے روزانہ 25 سے 30 لیٹر دودھ پیدا کرتی ہے، جبکہ مناسب نگہداشت کے ساتھ سالانہ پیداوار 8,000 سے 12,000 لیٹر تک ہو سکتی ہے۔ کچھ گائیں، جن کی دیکھ بھال غیر معمولی ہو، 15,000 لیٹر سے بھی زیادہ دودھ دے سکتی ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس نسل کی گائیوں کو ڈیری انڈسٹری میں ایک انمول اثاثہ بناتے ہیں۔

اس دودھ کی قیمت اس کی اعلیٰ غذائیت کی وجہ سے بھی زیادہ ہے۔ ہولسٹین فریزین گائے کا دودھ A1 اور A2 بیٹا کیسین پروٹینز سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہاضمے کے لیے آسان اور صحت کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں پروٹین، مائیکرو نیوٹرینٹس (جیسے وٹامن ڈی اور کیلشیم)، میکرونیوٹرینٹس، ضروری چکنائیاں، اور کاربوہائیڈریٹس شامل ہوتے ہیں، جو مجموعی طور پر صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ غذائی خصوصیات اس دودھ کو عام دودھ سے ممتاز کرتی ہیں اور اس کی بلند قیمت کو جواز فراہم کرتی ہیں۔

امبانی خاندان کا انتخاب

مکیش امبانی، جو ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین اور ایشیا کے امیر ترین شخص ہیں، اپنی عالیشان زندگی کے لیے مشہور ہیں۔ ان کی دولت، جو مارچ 2024 تک فوربس کے مطابق 117.8 بلین ڈالر سے زیادہ ہے، انہیں ہر چیز میں بہترین انتخاب کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ اسی لیے ان کا خاندان ہولسٹین فریزین گائے کے دودھ کو ترجیح دیتا ہے، جو نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہے بلکہ ان کے معیار زندگی کے مطابق بھی ہے۔ نیتا امبانی، جو ریلائنس فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ہیں، اور ان کے بیٹوں آکاش اور اننت، اور بہوؤں شلوکا اور رادھیکا مرچنٹ کی طرف سے اس دودھ کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امبانی خاندان صحت اور عیش و آرام دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔

یہ انتخاب ان کی دیگر پرتعیش عادات سے بھی ہم آہنگ ہے، جیسے کہ اننت امبانی کی شادی کی تین روزہ تقریبات، جن میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں جیسے ریحانہ، کیٹی پیری، اور جسٹن بیبر نے پرفارمنس دی۔ یہ تقریبات، جن پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوئے، امبانی خاندان کی دولت اور سماجی اثر و رسوخ کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ ہولسٹین فریزین دودھ کا استعمال بھی اسی طرز زندگی کا ایک حصہ ہے، جو ان کے روزمرہ کے انتخاب کو بھی غیر معمولی بناتا ہے۔

پونے کا بھاگیلکشمی ڈیری فارم

بھاگیلکشمی ڈیری فارم، جہاں یہ گائیں پالی جاتی ہیں، اپنی جدید سہولیات کے لیے مشہور ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ فارم نہ صرف ہولسٹین فریزین گائیوں کی پرورش کرتا ہے بلکہ ان کے لیے ایک مثالی ماحول فراہم کرتا ہے۔ گائیوں کو درآمد شدہ ربڑ کے گدوں پر آرام دیا جاتا ہے، جو ان کی صحت اور آرام کو بہتر بناتا ہے۔ آر او پلانٹ سے صاف پانی ان کی ہائیڈریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ خصوصی خوراک، جو غذائی ماہرین تیار کرتے ہیں، ان کی دودھ کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بناتی ہے۔

فارم کے ملازمین، جن میں ویٹرنری ڈاکٹرز اور ڈیری ماہرین شامل ہیں، گائیوں کی صحت اور دودھ کے معیار کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ یہ فارم نہ صرف امبانی خاندان بلکہ دیگر اعلیٰ طبقات کے لیے بھی دودھ فراہم کرتا ہے، لیکن اس کی زیادہ تر پیداوار خصوصی آرڈرز کے تحت ممبئی جیسے شہروں میں بھیجی جاتی ہے۔ اس فارم کی کامیابی کا راز اس کی جدید ٹیکنالوجی اور گائیوں کی غیر معمولی نگہداشت میں پوشیدہ ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس خبر کے پھیلنے کے بعد شہریوں نے دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "152 روپے فی لیٹر دودھ! یہ تو ہمارے ہاں ایک دن کے راشن کا خرچہ ہے۔ امبانی کی دنیا ہی الگ ہے!” ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا، "جب ہماری گائے 20 روپے لیٹر دودھ دیتی ہے، تو امبانی کو 152 روپے والا دودھ کیوں چاہیے؟” کچھ صارفین نے اسے صحت کے لیے ایک اچھا انتخاب قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے امبانی خاندان کی دولت کی ایک اور مثال قرار دیا۔

مکیش امبانی کے خاندان کا ہولسٹین فریزین گائے کا دودھ استعمال کرنا ان کی عالیشان طرز زندگی کا ایک اور مظہر ہے۔ یہ انتخاب نہ صرف ان کی مالی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ صحت اور معیار کے تئیں ان کی ترجیحات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ہولسٹین فریزین دودھ کی اعلیٰ غذائیت، جیسے کہ A1 اور A2 پروٹینز اور مائیکرو نیوٹرینٹس، اسے عام دودھ سے ممتاز کرتی ہے، لیکن اس کی قیمت (152 روپے فی لیٹر) اسے عام آدمی کی پہنچ سے باہر رکھتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں دودھ کی قیمت عام طور پر 100 سے 120 روپے فی لیٹر ہے، امبانی خاندان کا یہ انتخاب ایک عظیم طبقاتی فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں دودھ کی پیداوار زیادہ تر بھینسوں یا دیسی گائیوں سے حاصل کی جاتی ہے، جن کی دیکھ بھال اور پیداوار کا معیار بھاگیلکشمی ڈیری فارم جیسے جدید اداروں سے کم ہے۔ اگرچہ پاکستان میں ڈیری فارمنگ ایک بڑا شعبہ ہے، لیکن ہولسٹین فریزین جیسے غیر ملکی نسلوں کی پرورش محدود ہے، کیونکہ ان کی دیکھ بھال کے اخراجات زیادہ ہیں۔

یہ خبر ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ دولت کس طرح افراد کے روزمرہ کے انتخاب کو تبدیل کر دیتی ہے۔ جہاں ایک طرف امبانی خاندان اپنی صحت اور معیار کے لیے اضافی اخراجات برداشت کر سکتا ہے، وہیں عام آدمی کے لیے یہ ایک خواب سے کم نہیں۔ تاہم، بھاگیلکشمی ڈیری فارم جیسے اداروں سے پاکستان کے ڈیری سیکٹر کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستانی ڈیری فارمز جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کو اپنائیں، تو نہ صرف دودھ کی پیداوار بڑھ سکتی ہے بلکہ اس کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے، جو کہ مقامی مارکیٹ کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

امبانی خاندان کا یہ انتخاب، اگرچہ عالیشان ہے، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صحت اور ماحولیاتی معیار کے لیے سرمایہ کاری ایک اہم ترجیح بن رہی ہے۔ یہ خبر ہمیں بتاتی ہے کہ دولت صرف عیش و آرام کے لیے نہیں بلکہ صحت مند زندگی کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وسائل میسر ہوں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین