پاک بھارت میچ کے جعلی ٹکٹوں کی فروخت، قیمت ہزاروں درہم تک پہنچ گئی

ایشیا کپ 2025، جو 9 سے 28 ستمبر تک یو اے ای کے شہروں دبئی اور ابوظہبی میں منعقد ہوگا

کراچی: کرکٹ کے شائقین کے لیے ایشیا کپ 2025 کا پاک بھارت میچ ہمیشہ سے ایک سنسنی خیز مقابلہ رہا ہے، لیکن اس بار یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی تنازعات کی زد میں آ گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں 14 ستمبر کو ہونے والے اس ہائی وولٹیج میچ کے جعلی ٹکٹوں کی فروخت نے شائقین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جعلی ٹکٹ 11 ہزار درہم تک کی بلند قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ ایشیا کپ کے باضابطہ ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا۔ حکام نے شائقین کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشتبہ ویب سائٹس سے ہوشیار رہیں اور صرف سرکاری ذرائع سے ٹکٹ خریدیں۔

جعلی ٹکٹوں کی فروخت کا انکشاف

ایشیا کپ 2025، جو 9 سے 28 ستمبر تک یو اے ای کے شہروں دبئی اور ابوظہبی میں منعقد ہوگا، کرکٹ کے سب سے بڑے مقابلوں میں سے ایک ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ منتظر میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ تاہم، اس میچ کے لیے شائقین کی بے پناہ دلچسپی کو دیکھتے ہوئے دھوکے باز عناصر نے موقع سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق، گوگل پر "ایشیا کپ پاک بھارت ٹکٹ” تلاش کرنے پر متعدد مشکوک ویب سائٹس سامنے آئیں، جو جعلی ٹکٹ فروخت کر رہی ہیں۔

ان ویب سائٹس پر وی آئی پی ٹکٹ 11 ہزار درہم (تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار پاکستانی روپے) تک کی قیمت پر پیش کیے جا رہے ہیں، جبکہ عام ٹکٹوں کی قیمت 1500 درہم (تقریباً 1 لاکھ 15 ہزار پاکستانی روپے) سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ یہ قیمتیں نہ صرف غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں بلکہ یہ ٹکٹ جعلی ہونے کی وجہ سے شائقین کے لیے مالی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے ابھی تک ٹکٹوں کی فروخت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، جس سے ان ویب سائٹس کی صداقت پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔

پاک بھارت میچ

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ ہمیشہ سے شائقین کے لیے جذباتی اور سنسنی خیز ہوتا ہے۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم، جو 25 ہزار سے 30 ہزار تماشائیوں کی گنجائش رکھتا ہے، ماضی میں پاک بھارت میچوں کے دوران مکمل طور پر بھر چکا ہے۔ گزشتہ ایشیا کپ اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے میچوں کے دوران ٹکٹ چند گھنٹوں میں فروخت ہو گئے تھے، اور کئی شائقین کو گھنٹوں لائن میں لگنے کے باوجود مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس بار بھی شائقین 14 ستمبر کے میچ کے لیے بے صبری سے ٹکٹوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایشیا کپ کے گروپ مرحلے میں پاکستان اور بھارت گروپ اے میں شامل ہیں، جس میں میزبان یو اے ای اور عمان کی ٹیمیں بھی ہیں۔ اگر دونوں ٹیمیں گروپ مرحلے سے آگے بڑھتی ہیں، تو وہ سپر فور مرحلے اور ممکنہ طور پر فائنل میں بھی آمنے سامنے ہو سکتی ہیں، جو شائقین کے جوش و خروش کو دوچند کرتا ہے۔ تاہم، جعلی ٹکٹوں کی فروخت نے اس جوش کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

حکام کا انتباہ اور ہدایات

یو اے ای کے کرکٹ حکام اور ایشین کرکٹ کونسل نے شائقین کو خبردار کیا ہے کہ وہ جعلی ویب سائٹس اور غیر مصدقہ ذرائع سے ٹکٹ خریدنے سے گریز کریں۔ حکام کے مطابق، ایشیا کپ 2025 کے ٹکٹوں کی فروخت کا باضابطہ اعلان جلد کیا جائے گا، اور شائقین کو صرف سرکاری پلیٹ فارمز جیسے کہ پلےٹینم لسٹ، کیو ٹکٹس، یا دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی آفیشل ویب سائٹ سے ٹکٹ خریدنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ غیر مصدقہ ویب سائٹس سے خریدے گئے ٹکٹ نہ صرف غیر قانونی ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے منسوخ ہونے کا امکان بھی ہے، جس سے شائقین کو اسٹیڈیم میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ شائقین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مشتبہ لنکس یا غیر معروف آن لائن پلیٹ فارمز سے پرہیز کریں اور ٹکٹوں کی خریداری سے قبل سرکاری اعلان کا انتظار کریں۔

ماضی کے تجربات اور چیلنجز

پاک بھارت میچوں کے ٹکٹوں کی مانگ ہمیشہ سے غیر معمولی رہی ہے۔ ایشیا کپ 2022 کے دوران دبئی میں ہونے والے پاک بھارت میچ کے ٹکٹ چند گھنٹوں میں فروخت ہو گئے تھے، اور کئی شائقین نے آن لائن قطاروں میں گھنٹوں انتظار کیا تھا۔ اس وقت بھی جعلی ٹکٹوں کی فروخت رپورٹ ہوئی تھی، جہاں عام ٹکٹوں کی قیمت 250 درہم سے بڑھ کر 2500 درہم تک ری سیل کی گئی تھی۔ پلےٹینم لسٹ نے اس وقت شائقین کو خبردار کیا تھا کہ دوبارہ فروخت شدہ ٹکٹ غیر قانونی ہیں اور انہیں منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے دبئی میں ہونے والے پاک بھارت میچ کے ٹکٹوں کی کم از کم قیمت 500 درہم تھی، جو کہ وی آئی پی سیٹس کے لیے 12,500 درہم تک گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک بھارت میچوں کی مقبولیت دھوکہ دہی کے مواقع پیدا کرتی ہے، اور شائقین کو اضافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس خبر کے پھیلتے ہی شائقین نے اپنے خدشات اور مایوسی کا اظہار کیا۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "ہر بار پاک بھارت میچ سے پہلے یہی ڈرامہ ہوتا ہے۔ جعلی ٹکٹ بیچ کر لوگوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے۔” ایک بھارتی صارف نے تبصرہ کیا، "حکومت اور ای سی سی کو چاہیے کہ جعلی ویب سائٹس کے خلاف فوری کارروائی کرے، ورنہ شائقین کا نقصان ہوگا۔” کچھ صارفین نے سرکاری پلیٹ فارمز سے ٹکٹوں کی جلد فروخت شروع کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔

پاک بھارت میچ کے جعلی ٹکٹوں کی فروخت کا معاملہ کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے، جو اس کھیل سے جڑے جذباتی لگاؤ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاک بھارت میچ کی مقبولیت اور اس کی ٹکٹوں کی زیادہ مانگ دھوکہ بازوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔ 11 ہزار درہم جیسے ناقابل یقین نرخوں پر وی آئی پی ٹکٹوں کی فروخت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح شائقین کے جوش کو مالی فائدے کے لیے استحصال کیا جا رہا ہے۔

ایشین کرکٹ کونسل اور یو اے ای حکام کو فوری طور پر ٹکٹوں کی فروخت کا باضابطہ شیڈول جاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شائقین کو واضح رہنمائی مل سکے۔ اس کے علاوہ، جعلی ویب سائٹس کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور شائقین کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہمات ناگزیر ہیں۔ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک بھارت میچوں کے ٹکٹ چند گھنٹوں میں فروخت ہو جاتے ہیں، اس لیے سرکاری پلیٹ فارمز پر شفاف اور تیز رفتار نظام متعارف کروانا ضروری ہے۔

پاکستان اور بھارت کے شائقین کے لیے یہ میچ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی سفر ہے۔ اس موقع کو دھوکہ دہی سے پاک رکھنے کے لیے ای سی سی، یو اے ای کرکٹ بورڈ، اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ شائقین کو بھی چاہیے کہ وہ صبر سے کام لیں اور سرکاری اعلانات کا انتظار کریں۔ یہ معاملہ نہ صرف مالی نقصان کا باعث بن سکتا ہے بلکہ کرکٹ کی روح اور شائقین کے جوش کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ایشیا کپ 2025 کو ایک یادگار ایونٹ بنانے کے لیے دھوکہ دہی کے ان واقعات کو روکنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین