جلے زخموں کے علاج کیلئے حیرت انگیز پٹی تیار کر لی گئی

اس پٹی کو تیار کرنے کا عمل بھی حیرت انگیز طور پر سادہ اور محفوظ ہے

شینزین: شدید جلن کے زخموں کا علاج ایک پیچیدہ اور نازک عمل ہے، خاص طور پر جب سرجری کے دوران خون کے بہاؤ کو روکنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ لیکن اب چینی سائنسدانوں نے اس مسئلے کا ایک جدید اور موثر حل پیش کیا ہے۔ شینزین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور شنگھائی کے روجن ہسپتال کے محققین نے مل کر ایک ایسی "جادوئی پٹی” تیار کی ہے جو نہ صرف خون کے بہاؤ کو فوری طور پر روکتی ہے بلکہ زخموں کی شفا یابی کو بھی تیز کرتی ہے۔ یہ پٹی بیکٹیریل سیلولوز پر مبنی ہے اور اسے تھرومبن نامی قدرتی خامرے کے ساتھ تقویت دی گئی ہے، جو اسے ایک بائیو ایکٹو ڈریسنگ بناتی ہے۔

بیکٹیریل سیلولوز

بیکٹیریل سیلولوز (BC) ایک قدرتی پولیمر ہے جو کچھ بیکٹیریا تیار کرتے ہیں۔ یہ اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے طبی ایپلی کیشنز کے لیے مثالی ہے، جیسے کہ اس کی سانس لینے کی صلاحیت، جسم کے ساتھ مطابقت، اور نینو میش ڈھانچہ۔ یہ مواد نہ صرف ہلکا اور لچکدار ہے بلکہ زخم سے خارج ہونے والے سیال کو جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، جو اسے زخموں کے علاج کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتا ہے۔ تاہم، روایتی بیکٹیریل سیلولوز ڈریسنگز میں خون کو فوری طور پر روکنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، جو شدید جلن کے زخموں کی سرجری میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

شینزین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر ژونگ چاؤ اور ڈاکٹر آن بولن، جنہوں نے شنگھائی کے روجن ہسپتال سے وابستہ ڈاکٹر لیو یان کے ساتھ مل کر تحقیق کی، نے اس کمی کو دور کرنے کے لیے ایک جدید حل تیار کیا۔ انہوں نے بیکٹیریل سیلولوز کو تھرومبن نامی قدرتی خون جمانے والے خامرے کے ساتھ ملایا، جس سے ایک ایسی پٹی تیار ہوئی جو نہ صرف خون کے بہاؤ کو روکتی ہے بلکہ زخم کی شفا یابی کو بھی فروغ دیتی ہے۔

تھرومبن اینکرڈ پٹی

اس نئی پٹی، جسے تھرومبن اینکرڈ بیکٹیریل سیلولوز (T-BC) ڈریسنگ کہا جاتا ہے، کو تیار کرنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک جدید بایومولیکولر حکمت عملی اپنائی۔ تھرومبن، جو خون کے جمنے کے عمل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، عام طور پر پٹی پر زیادہ دیر تک مستحکم نہیں رہتا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے محققین نے ایک "سیلولوز بائنڈنگ ڈومین” (CBD) کا استعمال کیا، جو ایک طرح کا بایولوجیکل گلو ہے۔ یہ CBD تھرومبن کو بیکٹیریل سیلولوز کے میٹرکس میں مضبوطی سے جوڑتا ہے، جس سے اس کی فعالیت اور استحکام میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس پٹی کو تیار کرنے کا عمل بھی حیرت انگیز طور پر سادہ اور محفوظ ہے۔ روایتی کیمیکل کراس لنکنگ کے طریقوں کے برعکس، جو سخت کیمیکلز یا انتہائی حالات کا تقاضا کرتے ہیں، T-BC ڈریسنگ بنانے کے لیے بیکٹیریل سیلولوز کو صرف ایک ہلکے پروٹین محلول میں ڈبویا جاتا ہے۔ یہ طریقہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ پٹی کی بایوکمپیٹیبلٹی (جسم کے ساتھ مطابقت) کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

ایڈوانسڈ میٹریلز نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، یہ پٹی 60 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں خون کے بہاؤ کو روک سکتی ہے۔ چوہوں کے جگر کے ماڈلز پر کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا کہ T-BC ڈریسنگ روایتی ڈریسنگز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر کارکردگی دکھاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ پٹی زخموں کی شفا یابی کو تیز کرنے کے لیے جسم کے قدرتی مرمتی میکانزم کو بھی متحرک کرتی ہے، جس سے نئی خون کی شریانیں بنتی ہیں اور بافتوں کی تعمیر نو ہوتی ہے۔

بایوسفیٹی اور کلینیکل صلاحیت

اس پٹی کی بایوسفیٹی کو یقینی بنانے کے لیے جامع ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سائٹوٹاکسیسٹی (خلیوں پر زہریلا اثر)، ہیمولائسز (خون کے خلیوں کی تباہی)، اور ہسٹوکمپیٹیبلٹی (بافتوں کے ساتھ مطابقت) شامل ہیں۔ نتائج سے پتا چلا کہ T-BC ڈریسنگ نہ صرف مکمل طور پر محفوظ ہے بلکہ انسانی جلد کے ساتھ بہترین مطابقت رکھتی ہے۔ یہ پٹی خاص طور پر گہرے جزوی موٹائی کے جلن کے زخموں (deep partial-thickness burn wounds) کے علاج میں موثر ثابت ہوئی ہے، جہاں یہ نہ صرف خون کو روکتی ہے بلکہ زخم کی شفا یابی کو بھی تیز کرتی ہے۔

محققین نے یہ بھی پایا کہ یہ پٹی نہ صرف سرجری کے دوران خون کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ زخموں کے طویل مدتی علاج میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ اس کا نینو میش ڈھانچہ ہے، جو ہوا اور نمی کو گزرنے دیتا ہے، جس سے زخم کا ماحول شفا یابی کے لیے موزوں رہتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس تحقیق کے بارے میں خبریں پھیلتے ہی صارفین نے اسے ایک "طبی معجزہ” قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "60 سیکنڈ میں خون روکنے والی پٹی! یہ تو جادو سے کم نہیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "چین کی یہ ایجاد جلن کے مریضوں کے لیے نئی امید ہے۔” کچھ صارفین نے اسے کلینیکل ٹرائلز میں جلد آزمانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کئی نے اس کی ممکنہ قیمت اور دستیابی پر سوالات اٹھائے۔

چینی سائنسدانوں کی یہ ایجاد زخموں کے علاج کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ تھرومبن اینکرڈ بیکٹیریل سیلولوز ڈریسنگ نہ صرف شدید جلن کے زخموں کے علاج میں ایک موثر حل پیش کرتی ہے بلکہ اس کا سادہ اور ماحول دوست تیاری کا عمل اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے لیے قابل عمل بناتا ہے۔ اس پٹی کی سب سے بڑی خوبی اس کی دوہری فعالیت ہے: یہ نہ صرف خون کے بہاؤ کو فوری طور پر روکتی ہے بلکہ زخم کی شفا یابی کو بھی فروغ دیتی ہے، جو اسے روایتی ڈریسنگز سے ممتاز کرتی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے تناظر میں، جہاں جلن کے زخموں سے متاثرہ مریضوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے، یہ پٹی ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد گھریلو حادثات، صنعتی واقعات، یا دیگر وجوہات کی بنا پر جلن کا شکار ہوتے ہیں، اور ان کے علاج کے دوران خون کا بہاؤ روکنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اگر T-BC ڈریسنگ کو کلینیکل استعمال کے لیے منظور کر لیا جاتا ہے اور اس کی قیمت کو قابل رسائی رکھا جاتا ہے، تو یہ پاکستانی ہسپتالوں میں زخموں کے علاج کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔

تاہم، اس پٹی کی کامیابی کے لیے چند چیلنجز پر قابو پانا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، اس کی تیاری کے اخراجات اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قابل رسائی ہو۔ دوسرا، اسے کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے انسانوں پر بڑے پیمانے پر آزمانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی تاثیر اور حفاظت کو حتمی طور پر ثابت کیا جا سکے۔ آخر میں، اس پٹی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر تقسیم کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔

یہ ایجاد نہ صرف طبی سائنس کی دنیا میں ایک سنگ میل ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بایومٹیریلز اور بایوٹیکنالوجی کے امتزاج سے کس طرح زندگی بچانے والے حل تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اگر یہ پٹی عالمی سطح پر کلینیکل استعمال میں آتی ہے، تو یہ جلن کے مریضوں کے علاج کے طریقوں کو بدل سکتی ہے اور لاکھوں زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین