معاشرتی مسائل میں سے ایک سنگین مسئلہ جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، وہ ہے "ذخیرہ اندوزی”۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں پایا جاتا ہے، جہاں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، بدعنوانی، اور اخلاقی زوال نے اس کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ذخیرہ اندوزی صرف ایک تجارتی جرم نہیں، بلکہ یہ انسانیت، شریعت، اور اخلاقیات کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔
ذخیرہ اندوزی کیا ہے؟
ذخیرہ اندوزی (Hoarding) کا مطلب ہے کہ کوئی شخص یا ادارہ کسی چیز کو اس وقت چھپا کر رکھے جب وہ بازار میں ضرورت ہو، تاکہ قلت پیدا ہو اور بعد میں وہی چیز زیادہ قیمت پر فروخت کی جا سکے۔
یہ عمل اشیائے خورد و نوش، ادویات، پٹرول، گندم، چینی، آٹا، اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کے ساتھ عام طور پر کیا جاتا ہے۔
ذخیرہ اندوزی کی اقسام
1. اشیائے خورد و نوش کی ذخیرہ اندوزی: جیسے آٹا، چینی، دالیں۔
2. دواؤں کی ذخیرہ اندوزی: خاص طور پر وبائی امراض کے دوران۔
3. مصنوعی قلت پیدا کرنا: تاکہ مہنگائی کا ماحول بنایا جا سکے۔
4. حکومتی سبسڈی والے مال کی چھپائی: سستا مال لے کر مہنگے داموں بیچنا۔
ذخیرہ اندوزی کے نقصانات
1. معاشی نقصان:ذخیرہ اندوزی سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے، قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، اور عام صارف براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آتا ہے، غربت میں اضافہ ہوتا ہے، اور متوسط طبقہ پس جاتا ہے۔
2. سماجی عدم توازن :ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے معاشرے میں طبقاتی تفریق بڑھتی ہے۔ امیر، ذخیرہ شدہ مال کو مہنگے داموں فروخت کر کے مزید امیر ہوتا ہے، جبکہ غریب اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
3. بدامنی اور جرائم میں اضافہ:جب لوگ ضروری اشیاء سے محروم ہوتے ہیں تو وہ چوری، لوٹ مار، اور احتجاج جیسے راستے اپناتے ہیں، جو مجموعی طور پر سماجی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت
اسلام نے ذخیرہ اندوزی کو سختی سے منع فرمایا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
جو شخص غلہ (یا ضرورت کی کوئی چیز) چالیس دن تک اس نیت سے روکے کہ وہ مہنگا ہو جائے، وہ اللہ سے بیزار ہے اور اللہ اس سے بیزار ہے۔(مسند احمد: 8939)
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے:
ذخیرہ اندوزی کرنے والا گناہ گار ہے، اور ضرورت کے وقت فروخت کرنے والا نیکوکار ہے۔(صحیح مسلم: 1605)
اسلام میں انسان دوستی اور معاشرتی عدل کو بنیادی اصول کی حیثیت حاصل ہے، اور ذخیرہ اندوزی ان دونوں اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جذام (کوڑھ) یا افلاس (فقر) میں مبتلا کر دے گا۔ (احمد بن حنبل، المسندابن ماجہ، السنن)
موجودہ دور میں ذخیرہ اندوزی کی مثالیں
1. COVID-19 کے دوران دواؤں کی قلت:وبا کے دنوں میں چند مخصوص ادویات، سینیٹائزر، ماسک اور آکسیجن سلنڈرز کی ذخیرہ اندوزی کی گئی، جس سے اموات میں اضافہ ہوا۔
2. گندم اور چینی کا بحران (پاکستان)
ہر سال جب حکومت نئی قیمتوں کا اعلان کرتی ہے، تو بڑی ملیں اور بیوپاری گندم اور چینی کو ذخیرہ کر لیتے ہیں تاکہ بعد میں منافع کمایا جا سکے۔ نتیجہ: عوام کے لیے مہنگائی اور غذائی قلت۔
حکومت کی ناکامی اور قوانین کی کمزوری
پاکستان میں انسداد ذخیرہ اندوزی کے قوانین موجود ہیں جیسے کہ:
انسداد ذخیرہ اندوزی آرڈیننس 2020
جس کے مطابق ذخیرہ اندوزی کرنے والے افراد کو بھاری جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
مگر بدقسمتی سے، ان قوانین پر عملدرآمد میں شدید کمی ہے۔ طاقتور طبقہ، سیاسی پشت پناہی کی بدولت قانون سے بالاتر ہو جاتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار
میڈیا کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کو بے نقاب کرے اور عوام کو شعور دے کہ ایسی حرکتیں نہ صرف اخلاقی جرم ہیں بلکہ ان کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
سوشل میڈیا پر بائیکاٹ مہم، بیداری کی ویڈیوز اور نام افشا کرنے جیسے اقدامات مؤثر ہو سکتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
1. سخت قانونی کارروائی: قانون کی یکساں عملداری ہو، چاہے مجرم کوئی بھی ہو۔
2. آگاہی مہمات: علماء، اساتذہ اور میڈیا ذخیرہ اندوزی کے خلاف شعور پیدا کریں۔
3. شریعہ کی روشنی میں سزائیں: اسلامی اصولوں کو بنیاد بنا کر عوام کو بتایا جائے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔
4. مصنوعات کی نگرانی: مارکیٹ میں اشیاء کی آمد و رفت اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر کڑی نگرانی ہو۔
5. عوامی دباؤ: سوشل میڈیا، صارف تنظیمیں اور سول سوسائٹی دباؤ ڈالیں کہ ذخیرہ اندوزوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
ذخیرہ اندوزی ایک ایسا زہر ہے جو معیشت، معاشرت، اور مذہب تینوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے حکومت، ادارے، علماء، اور عوام سب کو مل کر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
ذخیرہ اندوز صرف منافع نہیں کماتا بلکہ لاکھوں لوگوں کی ضرورت، عزت، اور زندگی کا سودا کرتا ہے۔ ہمیں اس بدترین فعل کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی، چاہے وہ کوئی بھی کرے۔





















