بیٹے کی رنگت پر تنقید کرنے والوں کیخلاف اداکارہ نے بڑا قانونی قدم اٹھا لیا

سائبر کرائم ونگ کو ان تمام نازیبا تبصروں کے اسکرین شاٹس فراہم کیے ہیں اور قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے

ممبئی: بھارتی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ دیوولینا بھٹاچارجی، جو "گوپی بہو” کے لازوال کردار سے گھر گھر پہچانی جاتی ہیں، نے اپنے نومولود بیٹے کی رنگت کو نشانہ بنانے والے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ اداکارہ نے یہ قدم ان افراد کے خلاف اٹھایا ہے جنہوں نے معصوم بچے کی معصومیت پر تنقید کے تیر برسائے۔

دیوولینا نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، جنہیں ان کے مداحوں نے بے حد سراہا، تاہم کچھ صارفین نے بچے کی رنگت پر نازیبا اور نسل پرستانہ تبصرے کیے۔ ان ناپسندیدہ اور تکلیف دہ تبصروں نے اداکارہ کو نہ صرف افسردہ کیا بلکہ انہیں مجبور کر دیا کہ وہ قانونی طور پر سخت موقف اپنائیں۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ بطور ایک پبلک فگر تنقید کا سامنا کرنے کی عادی ہیں اور اکثر خود پر ہونے والی رائے کو نظرانداز کر دیتی ہیں، مگر جب بات ان کے بچے پر آتی ہے، تو خاموشی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا، "میرے بیٹے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ایسے رویے معاشرے میں عدم برداشت، نفرت اور تعصب کو فروغ دیتے ہیں۔”

دیوولینا نے نسل پرستانہ تبصروں کو ایک سنجیدہ جرم قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو سائبر کرائم ونگ کے سپرد کر دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ ادارے کو ان تمام نازیبا تبصروں کے اسکرین شاٹس فراہم کیے ہیں اور قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

دیوولینا بھٹاچارجی نے دسمبر 2022 میں ایک بین المذاہب شادی کرتے ہوئے اپنے جم ٹرینر شاہ نواز شیخ کے ساتھ زندگی کا نیا باب شروع کیا۔ اس رشتے پر بھی اس وقت بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی تھی، تاہم اداکارہ نے کسی بھی منفی ردعمل کو خاطر میں لائے بغیر اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ دسمبر 2024 میں ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی، اور اس خوشی کو انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کیا۔

اداکارہ نے متعدد مواقع پر بیٹے کی تصاویر اور ویڈیوز انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیں، جو مداحوں کی بڑی تعداد کو نہایت پسند آئیں۔ تاہم کچھ صارفین نے بچے کی رنگت پر تنقیدی اور نسل پرستانہ تبصرے شروع کر دیے، جس سے یہ معاملہ حساس نوعیت اختیار کر گیا۔

دیوولینا بھٹاچارجی کا یہ اقدام نہ صرف ایک ماں کے جذبات کا اظہار ہے بلکہ ایک سماجی شعور کی بھی نمائندگی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں اظہارِ رائے کی آزادی کو اکثر بدزبان اور تعصبانہ رویے کا سہارا بنایا جاتا ہے، وہاں ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے جو حدود و قیود کا تعین کریں۔
نسل پرستی اور رنگت پر مبنی تعصب نہ صرف اخلاقی لحاظ سے ناپسندیدہ ہے بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی اور تنوع کے خلاف ایک زہر ہے۔ ایک نومولود بچہ جسے دنیا کی سچائیوں کا بھی شعور نہیں، اسے نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرتی تربیت میں کہیں نہ کہیں شدید خلل موجود ہے۔
دیوولینا کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ ایک حوصلہ افزا پیغام دیتا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود نفرت انگیز عناصر کو اب کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ امید ہے کہ ان کا یہ اقدام دوسروں کے لیے مثال بنے گا اور آن لائن بدتمیزی کے خلاف ایک نئی سماجی لہر کو جنم دے گا۔
اداکارہ نے جس طرح اپنی شہرت کو ذمہ داری میں تبدیل کیا، وہ قابل تعریف ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ شہرت کے ساتھ ساتھ کردار، جرأت اور اصولوں پر کھڑا ہونا زیادہ اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین