روس سے تیل کی خریداری نہ روکی تو مزید ٹیرف کے لیے تیار رہو، ٹرمپ کی چین کو وارننگ

مائیکروچپس اور سیمی کنڈکٹرز پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ مقامی صنعت کو تحفظ دیا جا سکے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عالمی تجارت، معاشی پالیسیوں، اور بین الاقوامی تعلقات پر کھل کر بات کی، جس میں انہوں نے چین اور بھارت کو روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر سخت ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی معاشی پالیسیوں کے ثمرات، امریکی اسٹاک مارکیٹ کی بلند سطح، اور عالمی تنازعات کے خاتمے کے دعووں پر بھی روشنی ڈالی۔ 

روس سے تیل کی خریداری

صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت اور چین کو روس سے تیل کی خریداری بند کرنی ہوگی، ورنہ وہ سخت اقتصادی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے روس سے تیل کی خریداری کی "قیمت ادا کرنی پڑے گی”۔ بھارت پر پہلے ہی 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جا چکا ہے، جو امریکی تاریخ میں کسی بھی بڑے تجارتی شراکت دار کے لیے سب سے زیادہ ہے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ اگر بھارت نے اپنی پالیسی تبدیل نہ کی تو مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

چین کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے چین پر بھی "زیادہ سخت” ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے روس پر براہ راست ٹیرف کے فیصلے کو موخر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس سے تیل کی خریداری روس کی معیشت کو مضبوط کرتی ہے، جو یوکرین جنگ کے تناظر میں امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے اسے "روس کی جنگی مشین” کو ایندھن فراہم کرنے سے تعبیر کیا۔

امریکی معیشت کی مضبوطی کے دعوے

صدر ٹرمپ نے اپنی معاشی پالیسیوں کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اور امریکی شہریوں کی تنخواہوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ نے اپنی "امریکا فرسٹ” پالیسی کے تحت ٹیرف کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو ملک میں واپس لانے کا سہرا بھی اپنے سر باندھا۔

انہوں نے خاص طور پر "بگ بیوٹی فل بل” نامی قانون کی منظوری کو معاشی ترقی کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ اس قانون کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ تک رسائی کے لیے مقامی طور پر پروڈکشن بڑھانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر کمپنیاں امریکا میں مصنوعات تیار کریں گی تو انہیں کوئی اضافی ٹیکس یا چارجز ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔

ایپل جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایپل نے امریکا میں 100 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جو امریکی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے دیگر ٹیک کمپنیوں کے بھی امریکا واپس آنے کا ذکر کیا، جو ان کے بقول ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

مائیکروچپس اور سیمی کنڈکٹرز پر 100 فیصد ٹیرف

صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مائیکروچپس اور سیمی کنڈکٹرز پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ مقامی صنعت کو تحفظ دیا جا سکے اور امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام امریکی کمپنیوں کو مائیکروچپس کی تیاری کے لیے حوصلہ افزائی کرے گا اور غیر ملکی انحصار کو کم کرے گا۔ یہ پالیسی خاص طور پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ چین سیمی کنڈکٹرز کی عالمی مارکیٹ میں ایک بڑا کھلاڑی ہے۔

عالمی تنازعات اور سفارتی کامیابیاں

عالمی امور پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران، اسرائیل، اور دیگر پانچ عالمی تنازعات کو ختم کروایا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ہونے والی گفتگو کو "مثبت” قرار دیا، لیکن اسے کوئی بڑا بریک تھرو نہ ماننے کی وضاحت کی۔ ٹرمپ نے یوکرین جنگ کو سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے آج بھی اموات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی انتظامیہ کی کوششوں کو روس اور یوکرین کے درمیان امن کے قیام سے جوڑا، لیکن کوئی ٹھوس پیش رفت کا ذکر نہیں کیا۔

ٹرمپ نے جارجیا کے فوجی اڈے پر ہونے والے حملے کا ذکر بھی کیا، جس میں دو افراد شدید زخمی ہوئے۔ انہوں نے متاثرین کی حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔

سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سفری کوششیں

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ خلیجی ممالک سمیت متعدد ممالک کے دوروں کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دوروں کے نتیجے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری امریکا کی طرف راغب ہو رہی ہے، جو امریکی معیشت کی خودمختاری کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے ٹیرف کو ایک موثر ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف غیر ملکی کمپنیوں کو امریکا میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کر رہے ہیں بلکہ امریکی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صدر ٹرمپ کے بیانات نے خاصی ہلچل مچائی۔ ایک صارف نے لکھا، "ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی امریکی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن کیا یہ عالمی تجارت کو نقصان نہیں پہنچائے گی؟” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "چین اور بھارت پر دباؤ ڈالنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ دونوں ممالک اپنی معاشی خودمختاری کے لیے لڑ رہے ہیں۔” کچھ صارفین نے ٹرمپ کی معاشی کامیابیوں کے دعووں کی حمایت کی، جبکہ دیگر نے ان کے ٹیرف اقدامات کو عالمی تعلقات کے لیے خطرناک قرار دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ان کی "امریکا فرسٹ” پالیسی کی ایک واضح جھلک پیش کرتے ہیں، جو معاشی خودمختاری، مقامی صنعتوں کے تحفظ، اور جیو پولیٹیکل دباؤ کے استعمال پر مبنی ہے۔ چین اور بھارت پر روس سے تیل کی خریداری کے حوالے سے دھمکیاں یوکرین جنگ کے تناظر میں امریکی خارجہ پالیسی کی سختی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف اور چین کے لیے ممکنہ پابندیوں کا اعلان عالمی تجارت میں ایک نئے تناؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

تاہم، یہ پالیسی اپنے چیلنجز بھی لاتی ہے۔ بھارت اور چین، جو روس کے سب سے بڑے تیل خریدار ہیں، اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے روس پر انحصار کرتے ہیں۔ بھارت کی طرف سے یہ موقف کہ اس کی تیل کی خریداری عالمی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود اپنی پالیسی پر قائم رہ سکتا ہے۔ چین، جو عالمی معیشت میں ایک بڑی طاقت ہے، پر ٹیرف عائد کرنا امریکی صارفین کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے اشیا کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ صورتحال ایک اہم سبق پیش کرتی ہے۔ پاکستان، جو توانائی کے شعبے میں مشکلات کا شکار ہے، کو عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے تناظر میں اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگرچہ پاکستان فی الحال روس سے تیل کی بڑے پیمانے پر خریداری نہیں کر رہا، لیکن ٹرمپ کی پالیسیاں عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہیں، جس سے پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں، خاص طور پر مائیکروچپس پر 100 فیصد ٹیرف اور بڑی کمپنیوں کی سرمایہ کاری، سے امریکی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن یہ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کو اپنی ٹیکنالوجی اور صنعتی پالیسیوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

ٹرمپ کے عالمی تنازعات کے خاتمے کے دعوے اور یوکرین جنگ کے حوالے سے ان کی پوزیشن ان کی سفارتی حکمت عملی کی جھلک پیش کرتی ہے۔ تاہم، ان کے بیانات میں ٹھوس تفصیلات کی کمی ان کی پالیسیوں کے عملی اثرات پر سوالات اٹھاتی ہے۔ مجموعی طور پر، ٹرمپ کی یہ پالیسیاں عالمی تجارت اور سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہیں، جو اتحادیوں اور حریفوں دونوں کے لیے چیلنجز اور مواقع پیدا کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین