ایشیا کپ: قومی ٹیم میں بابر اعظم کی شمولیت کا مطالبہ زور پکڑ گیا

بابر اعظم نے آخری بار دسمبر 2024 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری آل راؤنڈر وسیم اکرم نے ایشیا کپ 2025 کے لیے قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں تجربہ کار بلے باز بابر اعظم کی واپسی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بابر کو نمبر 3 پر بیٹنگ کروانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ میگا ایونٹس جیسے ایشیا کپ اور آنے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کو ایک سینیئر بیٹر کی اشد ضرورت ہوگی۔ وسیم اکرم کے اس بیان نے شائقین اور تجزیہ کاروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا بابر اعظم کی واپسی پاکستان کی بیٹنگ لائن کو مضبوط کر سکتی ہے۔

بابر اعظم کی واپسی کا مطالبہ

وسیم اکرم، جنہیں کرکٹ کی دنیا میں "سلطان آف سوئنگ” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اک نجی ٹی وی کے نمائندے سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ اگر وہ سلیکٹر ہوتے تو بابر اعظم کو قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں لازمی شامل کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایشیا کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹس اور آئندہ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کو ایک ایسے کھلاڑی کی ضرورت ہے جو نہ صرف خود رنز بنائے بلکہ دیگر کھلاڑیوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلے۔ وسیم اکرم نے کہا کہ بابر اعظم عالمی معیار کے بلے باز ہیں اور ان کی موجودگی ٹیم کے لیے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بابر کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ میچ کی صورتحال کے مطابق اپنا کھیل ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وسیم نے 2019 کی سمر سیٹ کاؤنٹی کی مثال دی، جہاں بابر نے تقریباً 150 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنائے تھے، جو ان کی ورسٹائل بیٹنگ کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر نہ صرف رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ مشکل حالات میں ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں، جو بڑی ٹیموں کے خلاف 140 یا 160 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے وقت بہت ضروری ہے۔

بابر اعظم کی حالیہ صورتحال

بابر اعظم نے آخری بار دسمبر 2024 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ اس کے بعد، ان کے کم اسٹرائیک ریٹ کو جواز بنا کر انہیں ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت تنقید کی زد میں آیا جب شائقین اور سابق کھلاڑیوں نے بابر کی مسلسل کارکردگی اور عالمی سطح پر ان کی ساکھ کو نظر انداز کرنے پر سوالات اٹھائے۔ اب فخر زمان کی حالیہ انجری نے بابر کی واپسی کے امکانات کو ایک بار پھر روشن کر دیا ہے۔ فخر زمان ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوران زخمی ہوئے اور ان کی ایشیا کپ میں شرکت غیر یقینی ہے، جس کی وجہ سے وسیم اکرم سمیت کئی سابق کھلاڑی بابر کی واپسی کے حامی ہیں۔

وسیم اکرم نے کہا کہ بابر کی کرکٹ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ بابر کی صلاحیتیں پاکستان کے لیے میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور شائقین اور ٹیم مینجمنٹ کو ان کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے بابر کی ماضی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ سے حالات کے مطابق اپنی بیٹنگ کو ایڈجسٹ کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ کر سکتے ہیں۔

نمبر 3 پر بیٹنگ: ایک مثالی پوزیشن؟

وسیم اکرم نے بابر اعظم کے لیے تیسری پوزیشن کو مثالی قرار دیا، لیکن ساتھ ہی کہا کہ یہ فیصلہ میچ کی صورتحال اور کوچ کے منصوبوں پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اننگز کے ابتدائی اوورز گزر چکے ہوں تو بابر کو نمبر 3 پر بھیجنا بہتر ہوگا، جہاں وہ اننگز کو سنبھال سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ضرورت پڑی تو ٹیم مینجمنٹ کسی اور کھلاڑی کو بھی بیٹنگ کے لیے بھیج سکتی ہے۔ وسیم کا یہ مشورہ بابر کی تکنیکی مہارت اور میچ کو مستحکم کرنے کی صلاحیت پر مبنی ہے، جو انہیں مڈل آرڈر میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔

فخر زمان کی انجری اور ٹیم سلیکشن

فخر زمان کی انجری نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، فخر کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ری ہیب کے لیے بھیجا گیا ہے، لیکن ان کی ایشیا کپ میں شرکت کے امکانات کم ہیں۔ اس صورتحال نے بابر اعظم کی واپسی کے لیے راہ ہموار کی ہے، لیکن پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر کی شمولیت کا حتمی فیصلہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں ان کی کارکردگی پر منحصر ہوگا۔

پی سی بی نے ایشیا کپ کے لیے حتمی اسکواڈ کا اعلان اگست کے دوسرے ہفتے میں کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ ٹورنامنٹ 9 ستمبر سے شروع ہوگا، جس میں پاکستان اور بھارت کو گروپ اے میں یو اے ای اور عمان کے ساتھ رکھا گیا ہے، جبکہ گروپ بی میں بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

وسیم اکرم کے اس بیان نے ایکس پر شائقین کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "بابر اعظم جیسا بیٹر ٹیم سے باہر رکھنا پاکستان کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔ وسیم اکرم کا مشورہ بالکل درست ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "نمبر 3 پر بابر کی واپسی ٹیم کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن پی سی بی کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔” تاہم، کچھ شائقین نے خدشات ظاہر کیے کہ بابر کی واپسی موجودہ کپتان سلمان علی آغا پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

بابر اعظم کی کرکٹنگ میراث

بابر اعظم، جو کبھی پاکستان کے تینوں فارمیٹس کے کپتان رہ چکے ہیں، نے اپنی شاندار بیٹنگ سے عالمی سطح پر اپنا نام بنایا ہے۔ 13 فروری 2024 تک، انہوں نے 52 ٹیسٹ، 117 ون ڈے، اور 109 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 31 سنچریاں سکور کی ہیں۔ ان کی 3 ٹی ٹوئنٹی سنچریاں انہیں واحد ٹی ٹوئنٹی کپتان بناتی ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا۔ ان کے اسٹرائیک ریٹ پر تنقید کے باوجود، بابر کی مسلسل کارکردگی اور میچ کو سنبھالنے کی صلاحیت انہیں پاکستان کا ایک اہم اثاثہ بناتی ہے۔

وسیم اکرم اور بھارتی سابق کرکٹر گوتم گمبھیر نے حال ہی میں بابر کو کپتانی کا دباؤ ہٹانے اور بیٹنگ پر توجہ دینے کا مشورہ بھی دیا تھا، جس سے ان کی کارکردگی میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔

وسیم اکرم کا بابر اعظم کی واپسی اور نمبر 3 پر بیٹنگ کا مشورہ پاکستان کرکٹ کے موجودہ منظر نامے میں ایک اہم بحث کو جنم دیتا ہے۔ بابر اعظم کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں، لیکن ان کے کم اسٹرائیک ریٹ کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے باہر ہونا ایک متنازع فیصلہ تھا۔ فخر زمان کی انجری نے پی سی بی کے لیے ایک موقع پیدا کیا ہے کہ وہ بابر کو واپس لا کر ٹیم کی بیٹنگ لائن کو مضبوط کریں، لیکن اس فیصلے کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔

سب سے پہلے، بابر کی واپسی موجودہ کپتان سلمان علی آغا پر دباؤ بڑھا سکتی ہے، کیونکہ بابر کی موجودگی ٹیم میں ایک بڑی شخصیت کا اضافہ کرتی ہے۔ دوسرا، بابر کو نمبر 3 پر کھلانے کا فیصلہ ٹیم کے بیٹنگ آرڈر کو متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے دیگر کھلاڑیوں کی پوزیشنز تبدیل ہو سکتی ہیں۔ تاہم، وسیم اکرم کا مشورہ درست ہے کہ بابر کی تجربہ کار بیٹنگ ایشیا کپ جیسے بڑے ایونٹ میں پاکستان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کو حالیہ برسوں میں مستقل مزاجی کے مسائل کا سامنا رہا ہے، خاص طور پر چیمپئنز ٹرافی 2025 میں ان کی ناقص کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا تھا۔ وسیم اکرم کی تنقید اور نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے کی تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیم کو ایک متوازن حکمت عملی کی ضرورت ہے، جہاں تجربہ کار کھلاڑیوں جیسے بابر اعظم کے ساتھ نئے ٹیلنٹ کو بھی موقع دیا جائے۔

پاکستان کے تناظر میں، ایشیا کپ 2025 ایک اہم ٹورنامنٹ ہے، جہاں پاکستان کو بھارت اور دیگر مضبوط ٹیموں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ بابر کی واپسی ٹیم کے مورال اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن پی سی بی کو اس فیصلے کو احتیاط سے کرنا ہوگا تاکہ ٹیم کا توازن برقرار رہے۔ بابر کی نمبر 3 پر بیٹنگ ان کے تکنیکی کھیل اور میچ کو سنبھالنے کی صلاحیت کو اجاگر کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کوچز اور سلیکٹرز کو ایک واضح منصوبہ بنانا ہوگا۔

آخر میں، وسیم اکرم کا یہ بیان پاکستان کرکٹ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بابر اعظم واپسی کرتے ہیں اور اپنی بہترین فارم دکھاتے ہیں، تو یہ نہ صرف ایشیا کپ بلکہ آنے والے ورلڈ کپ کے لیے بھی پاکستان کی امیدوں کو تقویت دے سکتا ہے۔ شائقین اور ٹیم مینجمنٹ کو اب بابر کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا اور انہیں مکمل سپورٹ فراہم کرنی ہوگی تاکہ وہ ایک بار پھر پاکستان کی کرکٹ کی عزت بحال کر سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین