اسلام آباد (محمد کاشف جان) یوم آزادی قریب آتے ہی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں بڑھتی ہوئی شور و غل کی شکایات اور شہریوں کی پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ انتظامیہ نے شہر بھر میں باجوں کی فروخت، خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، اور اس ضمن میں فوری طور پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی ہدایت پر تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ افسران کو فیلڈ میں نکلنے اور شہر بھر میں قائم عارضی و مستقل اسٹالز سے باجے قبضے میں لینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ یہ اقدام شہریوں کے جان و مال، آرام و سکون اور ماحول کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یومِ آزادی اور شور و غل
پاکستان کا یوم آزادی ہر سال 14 اگست کو جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ کئی سالوں سے دیکھنے میں آیا ہے کہ جشنِ آزادی کے نام پر نوجوانوں کی جانب سے سڑکوں پر بے ہنگم ہلڑ بازی، تیز آواز والے باجوں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال کر شور کرنے، ون ویلنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے۔شہریوں کی بڑی تعداد، خصوصاً خواتین، بچے، بزرگ اور مریض ان سرگرمیوں سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں، اسکولوں اور عبادت گاہوں کے قریب شور و غل کے واقعات خاص طور پر تشویش کا باعث بنتے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اس حوالے سے ایک باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں امن و امان اور شہریوں کے سکون کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح شہریوں کی سلامتی اور سکون ہے۔ یوم آزادی خوشی کا دن ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عوام کے آرام اور قانون کی دھجیاں اڑائی جائیں۔ باجوں کا بے جا استعمال نہ صرف شور کی آلودگی کا سبب بنتا ہے بلکہ شہریوں کی زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ڈی سی اسلام آباد نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ جن علاقوں سے بھی باجوں کی فروخت کی اطلاع یا برآمدگی ہو، وہاں کے متعلقہ افسر کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
فیلڈ کارروائیوں کی تفصیل
اسلام آباد کی مختلف مارکیٹوں، بس اسٹاپس، پارکوں اور اہم تجارتی مراکز میں قائم عارضی اسٹالز پر ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں نے چھاپے مارنے کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی کارروائیوں میں سیکڑوں کی تعداد میں پلاسٹک اور لوہے سے بنے مختلف اقسام کے باجے قبضے میں لیے گئے ہیں۔انتظامیہ کی ٹیموں نے تھانوں کو ہدایت کی ہے کہ باجوں کی فروخت کرنے والے دکانداروں کو فوری طور پر وارننگ دی جائے، اور بار بار خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
شہریوں کا ردِعمل
شہر کی مختلف آبادیوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ بزرگ شہریوں نے کہا کہ ہر سال آزادی کی خوشی میں نوجوانوں کا شور شرابہ ہمارے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ ہم انتظامیہ کے اس فیصلے کو سراہتے ہیں کہ کم از کم کچھ تو نظم و ضبط قائم ہوگا۔ہماری بیٹیوں کا باہر نکلنا محال ہو جاتا ہے، ہر طرف شور، ہراس اور ہلڑ بازی ہوتی ہے۔ اگر باجوں پر پابندی واقعی نافذ ہو جائے تو سکون ہو جائے گا۔
یومیہ بنیادوں پر کارروائیاں
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اپنے اعلامیے میں یہ بھی ہدایت کی ہے کہ یہ کارروائیاں صرف ایک دن کی نہیں بلکہ 14 اگست تک روزانہ کی بنیاد پر جاری رکھی جائیں گی۔ روزانہ کی پیش رفت کی رپورٹ بھی طلب کی گئی ہے تاکہ کارروائی کی نگرانی موثر انداز میں کی جا سکے۔
باجے کیوں خطرناک قرار دیے جا رہے ہیں؟
ماہرین صحت کے مطابق، شور کی آلودگی انسانی صحت پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔ تیز آواز والے باجے بچوں کی سماعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جبکہ ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، اور دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ ٹریفک میں غیر ضروری آوازوں سے حادثات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
قانونی پہلو
اسلام آباد میں شور و غل، پبلک ڈسٹربنس اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد وقتاً فوقتاً مہمات کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس بار انتظامیہ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی کو بھی عوامی سکون میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے یوم آزادی کے قریب آتے ہی بروقت اور دانشمندانہ فیصلہ لیتے ہوئے شہر بھر میں باجوں کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کو شہریوں نے سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے شور و غل اور ہلڑ بازی میں کمی آئے گی، اور یوم آزادی پُرامن اور مہذب انداز میں منایا جا سکے گا۔ کارروائیاں 14 اگست تک جاری رہیں گی۔





















