گھر سے 22 انچ لمبے چوہا پکڑا گیا، مقامی افراد خوفزدہ

یہ دیوقامت چوہا اتنا بڑا تھا کہ اسے دیکھ کر مقامی رہائشیوں نے اسے بالغ بلی سے بھی بڑا قرار دیاجارہا ہے

انگلینڈ کے علاقے شمالی یارکشائر کے علاقے ریڈکار اینڈ کلیولینڈ کی بستی نورمینبی سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے میڈیا کو بھی متوجہ کر لیا۔ ایک گھر سے غیر معمولی جسامت کا چوہا پکڑا گیا ہے جس کی لمبائی ناک سے دم تک 22 انچ یعنی تقریباً 56 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ دیوقامت چوہا اتنا بڑا تھا کہ اسے دیکھ کر مقامی رہائشیوں نے اسے بالغ بلی سے بھی بڑا قرار دیا۔ اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اُن کی زندگیوں میں ایسا ہولناک منظر کبھی نہیں آیا۔ اس چوہے کو ایک تجربہ کار پیسٹ کنٹرول اہلکار نے اس وقت قابو کیا جب مقامی افراد نے خوفزدہ ہو کر انتظامیہ کو اطلاع دی۔

اس چوہے کی تصویر علاقے کے ایک کونسلر نے سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد عوامی ردِعمل کا طوفان آ گیا۔ شہریوں نے اس تصویر پر تبصرے کرتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور مقامی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو نے عوامی بےچینی کو اجاگر کر دیا، اور صفائی کے ناقص نظام پر سخت سوالات اٹھا دیے گئے۔

علاقہ مکینوں کے مطابق حالیہ مہینوں میں چوہوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ نالیاں، گلیاں، اور گندگی سے بھرے مقامات چوہوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ چوہے گھروں کے اندر داخل ہونے لگے ہیں، جو بچوں، بزرگوں اور خواتین کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقامی حکومت نے کچھ عرصہ قبل پیسٹ کنٹرول کی مفت سروسز بند کر دی تھیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف چوہوں کی افزائش میں اضافہ ہوا بلکہ شہریوں کی شکایات میں بھی واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ماہرینِ حیوانیات کے مطابق چوہوں کی غیر معمولی جسامت کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ گندگی اور فاضل خوراک کی وافر دستیابی کی وجہ سے یہ جانور غیر معمولی طور پر پروان چڑھ رہے ہیں۔ انسانی بستیوں میں ان کا داخل ہونا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ صحت عامہ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ریڈکار اینڈ کلیولینڈ کی انتظامیہ پر بھی عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فی الفور پیسٹ کنٹرول سروسز کو دوبارہ فعال کرے اور علاقے میں صفائی کے مؤثر انتظامات کرے تاکہ ایسے مزید واقعات سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک چوہا نہیں بلکہ ایک بڑی اور خاموش آفت کا اشارہ ہے جس سے نمٹنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

پس منظر اور تجزیہ:
انگلینڈ میں شہری اور نیم شہری علاقوں میں چوہوں کی موجودگی ایک عام مسئلہ رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، اور شہروں کے غیر منصوبہ بند پھیلاؤ نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پیسٹ کنٹرول کی سروسز میں کٹوتی اور مفت سہولیات کی بندش جیسے حکومتی اقدامات نے اس خطرے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

نورمینبی میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب صفائی اور کنٹرول کے نظام کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج نہایت ہولناک ہوتے ہیں۔ چوہے نہ صرف کھانے پینے کی اشیاء کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ وہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی باعث بنتے ہیں، جن میں لیپٹوسپیروسیس، ہینٹا وائرس، اور سالمونیلا جیسے مہلک انفیکشنز شامل ہیں۔

22 انچ لمبے چوہے کی موجودگی نہ صرف حیوانی ارتقاء کے ایک حیرت انگیز پہلو کی طرف اشارہ ہے بلکہ یہ اس بحران کا بھی آئینہ دار ہے جو انسانی غفلت کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ شہری حکومتیں اگر بنیادی سہولیات کو ثانوی حیثیت دیں گی تو عوامی صحت اور تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی حکومتیں فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کریں، پیسٹ کنٹرول سروسز کو بحال کریں، اور صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کریں۔ بصورتِ دیگر، یہ ایک چوہا نہیں بلکہ مسائل کی ایک پوری فوج گھروں میں دندناتی رہے گی — اور پھر شاید کسی کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین