لاہورمیں گینگ ریپ کا مرکزی ملزم مقابلے میں ہلاک، چاروں ملزمان انجام کو پہنچ گئے

یہ کوئی اتفاقی واردات نہیں تھی بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھی۔پولیس

لاہور(محمد کاشف جان* صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے چوہنگ میں کچھ روز قبل پیش آنے والے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے واقعے میں شوہر کے سامنے بیوی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے تمام چاروں ملزمان اب پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق واقعے کا چوتھا اور مرکزی کردار، ملزم عمران بھی پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے۔

واقعے کی تفصیل

پولیس کے مطابق چند روز قبل لاہور کے نواحی علاقے چوہنگ میں ایک شادی شدہ جوڑا سفر کے دوران رکنے پر درندگی کا نشانہ بنا۔ واقعے کے مطابق کچھ افراد نے اس جوڑے کو روک کر نہ صرف لوٹ مار کی بلکہ شوہر کو یرغمال بنا کر اس کی آنکھوں کے سامنے بیوی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے خاتون پر بدترین جسمانی اور جنسی تشدد کیا اور اس اذیت ناک عمل کی ویڈیو بھی بنائی۔یہ دل خراش واقعہ سوشل میڈیا اور قومی میڈیا پر شدید غم و غصے کا باعث بنا۔ عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور حکومت و پولیس پر ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے دباؤ بڑھتا گیا۔

ملزمان کی شناخت

پولیس نے تفتیش کے بعد چار افراد کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان میں شامل تھے:

اویس

زاہد

ارشاد

عمران

ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ یہ کوئی اتفاقی واردات نہیں تھی بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھی۔ اس گھناؤنے جرم کا ماسٹر مائنڈ عمران تھا جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر گینگ ریپ کی مکمل پلاننگ کی۔

پہلا مرحلہ: تین ملزمان کی ہلاکت

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان اویس، زاہد اور ارشاد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ یہ تینوں مختلف مقامات پر پولیس مقابلوں کے دوران ہلاک ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں تینوں مارے گئے۔ان کی ہلاکت کے بعد چوتھا اور سب سے اہم کردار عمران مفرور تھا جس کی گرفتاری کے لیے پولیس مسلسل کارروائیاں کر رہی تھی۔

چوتھا ملزم عمران بھی ہلاک

بالآخر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ) کی ایک خصوصی ٹیم نے قصور کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ملزم عمران مارا گیا۔پولیس کے مطابق عمران ہی اس گھناؤنے جرم کا مرکزی کردار تھا جس نے نہ صرف واقعے کی منصوبہ بندی کی بلکہ دیگر ملزمان کو منظم بھی کیا۔ واقعے کی ویڈیو بنانے کا منصوبہ بھی اسی نے تیار کیا تھا تاکہ متاثرہ خاندان کو بلیک میل کیا جا سکے۔

پولیس کا مؤقف

پولیس ترجمان کے مطابق ملزم عمران کی تلاش کے لیے کئی روز سے چھاپے مارے جا رہے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، ٹیکنیکل ڈیٹا اور مخبر کی اطلاع پر بالآخر قصور میں کامیاب آپریشن کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ ایک مکمل منصوبہ بند واردات تھی، اور پولیس نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کی۔مزید بتایا گیا کہ ہلاک شدہ ملزمان کے کرمنل ریکارڈ کی جانچ جاری ہے، جبکہ مقتولہ خاتون اور اس کے شوہر کو سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندان کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ مستقبل میں کسی دباؤ یا خطرے کا شکار نہ ہوں۔

عوامی ردعمل

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصہ دیکھنے کو ملا۔ ’’ایسے درندوں کا یہی انجام ہونا چاہیے‘‘ جیسے جملے مسلسل وائرل ہو رہے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ چکا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث مجرموں کو فوری اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ایسے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔متعدد سماجی کارکنوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے بھی پولیس کی کارروائی کو سراہا لیکن اس بات پر زور دیا کہ جرم ہونے سے پہلے روک تھام کے اقدامات، نگرانی کا نظام، اور متاثرین کی فوری قانونی معاونت فراہم کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

حکومت کا مؤقف

تاحال پنجاب حکومت کی جانب سے واقعے پر تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیا تھا اور پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت دی تھی۔ اس کے علاوہ گینگ ریپ جیسے جرائم کے لیے تیز رفتار عدالتی کارروائی کے لیے بھی سفارشات مرتب کی جا رہی ہیں۔

آئندہ کا لائحہ عمل

پولیس حکام کے مطابق کیس اب مزید قانونی کارروائی کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ ملزمان کی ہلاکت کے بعد مقدمہ بند نہیں ہو گا بلکہ مکمل انکوائری، جائے وقوعہ کے شواہد، ڈی این اے رپورٹس، ویڈیو مواد، اور متاثرین کے بیانات کی بنیاد پر کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے جرائم کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین