کپل شرما کے کیفے پر ایک ماہ میں دوبارہ حملہ، حملہ آوروں نے 25 گولیاں برسائیں

دوسرے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے سرکاری طور پر قبول نہیں کی

کینیڈا: بھارت کے عالمی شہرت یافتہ کامیڈین اور ٹی وی میزبان کپل شرما کے کینیڈا کے شہر سرے میں واقع کیفے، کیپز کیفے، پر ایک ماہ کے اندر دوسری بار مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس سے مقامی کمیونٹی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس حملے میں 25 کے قریب گولیاں چلائی گئیں، جس سے کیفے کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور عمارت کو نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ واقعہ سرے میں بڑھتی ہوئی بھتہ خوری اور تشدد کی لہر کے تناظر میں ایک سنگین تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ کپل شرما نے اس دہشت گرد حملے کے بعد کیفے کو بند کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ 

حملے کی تفصیلات

سرے کے 85 ایونیو اور سکاٹ روڈ کے قریب واقع کیپز کیفے پر جمعرات کی صبح 4:40 بجے کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ مقامی رہائشی باب سنگھ نے سٹی نیوز وینکوور کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بالکونی سے پانچ سے چھ گولیوں کی آوازیں سنیں، جس کے فوراً بعد پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے کیفے کے شیشوں میں کم از کم چھ گولیوں کے نشانات اور ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی تصدیق کی، جبکہ سیکیورٹی فوٹیج سے پتا چلا کہ حملہ آوروں نے مجموعی طور پر 25 گولیاں داغیں۔

سورے پولیس سروس (SPS) کے مطابق، حملہ آور پولیس کی آمد سے قبل فرار ہو گئے، اور تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے متعدد گولیوں کے خول برآمد کیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس حملے کو بھتہ خوری سے جوڑا جا رہا ہے، لیکن پولیس نے دیگر ممکنہ محرکات کو بھی رد نہیں کیا۔ SPS کے سٹاف سارجنٹ لنڈسے ہاؤٹن نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ 10 جولائی کو اسی کیفے پر ہونے والے پہلے حملے سے منسلک ہو سکتا ہے، لیکن فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

پہلا حملہ اور خالصتانی تنازع

یہ دوسرا حملہ اسی کیفے پر ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پیش آیا۔ 10 جولائی 2025 کو رات 1:50 بجے، نامعلوم حملہ آوروں نے کیپز کیفے پر فائرنگ کی تھی، جب کچھ عملہ ابھی عمارت کے اندر موجود تھا۔ اس حملے میں تقریباً 9 سے 12 گولیاں چلائی گئیں، لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔ اس واقعے کی ذمہ داری خالصتانی تنظیم ببر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) سے وابستہ حرجیت سنگھ لڈی نے قبول کی تھی، جو بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی مطلوبہ فہرست میں شامل ہے۔

لڈی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ یہ حملہ کپل شرما کے ایک ٹی وی شو میں نہنگ سکھوں کے لباس اور رویے پر مبینہ طور پر کیے گئے "توہین آمیز” تبصروں کے ردعمل میں کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کپل شرما کے منیجر سے رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن کوئی جواب نہ ملنے پر یہ "کارروائی” کی گئی۔ کینیڈا میں BKI کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، اور لڈی کو سرے اور برمپٹن میں بھتہ خوری، قتل، اور گینگ سرگرمیوں سے جوڑا جاتا ہے۔

دوسرے حملے کی ذمہ داری

دوسرے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے سرکاری طور پر قبول نہیں کی، اور کیفے کو بھتہ خوری کی کوئی دھمکی بھی موصول نہیں ہوئی۔ تاہم، بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک ایک مبینہ آڈیو پیغام سامنے آیا ہے، جس میں گولیوں کی آوازوں کے درمیان کہا گیا کہ "ہم نے کال کی تھی، لیکن وہ نہیں سن سکا، اس لیے ایکشن لینا پڑا۔ اگر اب بھی نہ سنا، تو اگلا ایکشن ممبئی میں ہوگا۔” اس دعوے کے بعد ممبئی پولیس اور بھارتی سیکیورٹی ایجنسیوں نے ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔

تاہم، سورے پولیس نے لارنس بشنوئی گینگ کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی اور کہا کہ وہ اس حملے کے محرکات کی تفتیش کر رہے ہیں۔ پولیس نے مقامی کمیونٹی سے ڈیش کیم فوٹیج یا دیگر معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ تحقیقات میں پیش رفت ہو سکے۔

کپل شرما کا ردعمل اور کیفے کا مستقبل

کپل شرما یا ان کی ٹیم نے اس دوسرے حملے پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم، کیفے کے منیجر نے پولیس تحقیقات پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کپل شرما اس مسلسل تشدد کے پیش نظر کیپز کیفے کو مستقل طور پر بند کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہ کیفے، جو کپل شرما اور ان کی اہلیہ گنی چترتھ نے 4 جولائی 2025 کو کھولا تھا، مقامی بھارتی کمیونٹی میں تیزی سے مقبول ہو رہا تھا۔ اس کے پرتعیش انٹیریئر، شاندار کافی، اور دوستانہ ماحول نے اسے سرے میں ایک پسندیدہ مقام بنا دیا تھا۔

پہلے حملے کے بعد، کیفے کی انتظامیہ نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ "ہم اس صدمے سے گزر رہے ہیں، لیکن تشدد کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم کمیونٹی کے لیے گرمی، محبت، اور خوشی کا ماحول بنانے کے اپنے مشن پر قائم رہیں گے۔” کیفے کو چند دنوں بعد دوبارہ کھول دیا گیا تھا، لیکن اس دوسرے حملے نے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

سرے میں بھتہ خوری اور تشدد کی لہر

یہ حملہ سرے میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے کاروباری افراد کو درپیش بڑھتی ہوئی بھتہ خوری اور تشدد کے تناظر میں پیش آیا۔ جون 2025 سے اب تک، سرے میں جنوبی ایشیائی کاروباروں پر پانچ فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ مقامی کاروباری رہنما ستیش کمار، جو خود دو فائرنگ کے واقعات اور 20 لاکھ ڈالر کے بھتہ خوری کے مطالبے کا شکار ہو چکے ہیں، نے کہا کہ "سرے میں کاروباری کمیونٹی کے لیے حالات ناقابل برداشت ہو چکے ہیں۔ ہر روز فائرنگ کے واقعات ہو رہے ہیں، اور پولیس کو سخت کارروائی کرنی چاہیے۔”

رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے 2023 کے آخر میں بھتہ خوری کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی تھی، جس نے رواں سال جولائی میں دو افراد کو گرفتار کیا۔ تاہم، کیپز کیفے پر حملوں کے ذمہ داروں کی عدم گرفتاری نے مقامی کمیونٹی کے تحفظ پر سوالات اٹھائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس واقعے نے ایکس پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "کپل شرما کا کیفے دوسری بار نشانہ بنا، یہ کینیڈین پولیس اور انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو تحفظ دینا ہوگا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "لارنس بشنوئی گینگ ہو یا خالصتانی گروپ، یہ حملے سرے کو جنگ کا میدان بنا رہے ہیں۔” کچھ صارفین نے کپل شرما کے حوصلے کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے کینیڈین حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کپل شرما کے کیپز کیفے پر ایک ماہ کے اندر دوسرا حملہ نہ صرف ایک کاروباری ادارے پر حملہ ہے بلکہ سرے میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے تحفظ اور کینیڈا کی سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پہلے حملے میں خالصتانی تنظیم BKI کے ملوث ہونے کا دعویٰ اور دوسرے حملے میں لارنس بشنوئی گینگ کے مبینہ آڈیو پیغام نے اس معاملے کو بین الاقوامی تنازع کی شکل دے دی ہے۔

یہ واقعات سرے میں بڑھتی ہوئی بھتہ خوری اور گینگ تشدد کی عکاسی کرتے ہیں، جو جنوبی ایشیائی کاروباریوں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ خالصتانی گروپوں اور بھارتی گینگز کے مابین ممکنہ تعلق اس معاملے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، کیونکہ یہ کینیڈا اور بھارت کے درمیان سفارتی تناؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے لارنس بشنوئی گینگ کے دعوؤں اور ممبئی میں ممکنہ حملے کی دھمکیوں نے اس واقعے کو ایک بڑے سیکیورٹی ایشو میں تبدیل کر دیا ہے۔

کینیڈین پولیس کی جانب سے اب تک کوئی گرفتاری نہ ہونا مقامی کمیونٹی کے اعتماد کو متزلزل کر رہا ہے۔ اگرچہ پولیس نے بھتہ خوری کو ایک ممکنہ محرک قرار دیا ہے، لیکن خالصتانی گروپوں کے ماضی کے دعوؤں اور گینگ سرگرمیوں کے تناظر میں اسے ایک نظریاتی یا سیاسی حملہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ کپل شرما، جو ایک کامیڈین کے طور پر لاکھوں دلوں پر راج کرتے ہیں، کے کاروبار کو اس طرح نشانہ بنانا نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری بھارتی ڈائسپورا کے لیے ایک صدمہ ہے۔

اس صورتحال کا حل پولیس کی موثر تفتیش، گینگ سرگرمیوں پر سخت کنٹرول، اور کمیونٹی کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات میں مضمر ہے۔ کینیڈا کو اپنی انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا تاکہ ایسی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔ دوسری طرف، بھارت کو بھی اپنی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر سرحد پار جرائم کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

کپل شرما کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، کیونکہ ان کا خوابوں کا کیفے اب تشدد کا نشانہ بن چکا ہے۔ اگر وہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے لیے ایک ذاتی نقصان ہوگا بلکہ سرے کی کمیونٹی کے لیے بھی ایک دھچکا ہوگا، جو اس کیفے کو اپنی ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھتی ہے۔ اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرے میں امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ یہ شہر گینگ تشدد اور بھتہ خوری کا گڑھ بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین