ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز میں بابراعظم کن بڑے ریکارڈز کا خاتمہ کر سکتے ہیں؟

بابر اعظم کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں ریکارڈ شاندار رہا ہے

کراچی/ٹرینیداد: پاکستان کے سٹار بلے باز اور سابق کپتان بابر اعظم ایک روزہ کرکٹ میں دو تاریخی ریکارڈز توڑنے کے دہانے پر ہیں، جبکہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین میچوں کی ون ڈے سیریز کا پہلا میچ آج جمعہ کو ٹرینیداد کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جائے گا۔ 30 سالہ بابر اعظم، جو اپنی شاندار بلے بازی اور مسلسل کارکردگی کی بدولت عالمی کرکٹ میں "کنگ بابر” کے نام سے مشہور ہیں، اس سیریز میں لیجنڈری پاکستانی اوپنر سعید انور کے سب سے زیادہ ون ڈے سنچریوں کے ریکارڈ کو چیلنج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، وہ عالمی سطح پر تیز ترین 20 ون ڈے سنچریاں بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑنے کا ہدف بھی رکھتے ہیں۔ 

بابر اعظم کا سعید انور کے ریکارڈ پر ہدف

بابر اعظم اس وقت پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ون ڈے سنچریوں کے حوالے سے سعید انور کے ہم پلہ ہیں۔ سعید انور نے اپنے کیریئر میں 247 میچوں کی 244 اننگز میں 20 سنچریاں اسکور کی تھیں، جو طویل عرصے سے پاکستانی بلے بازوں کے لیے ایک معیار رہا ہے۔ دوسری طرف، بابر اعظم نے صرف 131 میچوں اور 128 اننگز میں 19 سنچریاں بنا کر اس ریکارڈ کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگر بابر آج کے میچ یا اس سیریز میں ایک اور سنچری اسکور کر لیتے ہیں، تو وہ سعید انور کے ریکارڈ کی برابری کر لیں گے، اور دو سنچریوں کے ساتھ وہ اسے توڑ دیں گے۔

پاکستانی بلے بازوں کی جانب سے سب سے زیادہ ون ڈے سنچریوں کی فہرست اس طرح ہے:

  • سعید انور: 20 سنچریاں، 247 میچز

  • بابر اعظم: 19 سنچریاں، 131 میچز

  • محمد یوسف: 15 سنچریاں، 281 میچز

  • فخر زمان: 11 سنچریاں، 82 میچز

  • محمد حفیظ: 11 سنچریاں، 218 میچز

بابر اعظم کی یہ کامیابی اس لیے بھی قابل ذکر ہے کہ انہوں نے سعید انور کے مقابلے میں تقریباً نصف میچوں اور اننگز میں یہ سنگ میل حاصل کیا ہے۔ ان کی اوسط 55.17 اور 19 سنچریوں کے ساتھ وہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ میں ون ڈے فارمیٹ کے بہترین بلے بازوں میں شامل ہیں۔

عالمی ریکارڈ کی دوڑ: ویرات کوہلی کو چیلنج

بابر اعظم نہ صرف پاکستانی ریکارڈز بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑا سنگ میل عبور کرنے کے قریب ہیں۔ وہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں 20 سنچریاں بنانے والے تیز ترین بلے باز بننے کے لیے بھارتی اسٹار ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ موجودہ ریکارڈ کے مطابق، جنوبی افریقہ کے ہاشم آملہ نے 108 اننگز میں 20 سنچریاں بنائی تھیں، جو اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔ ویرات کوہلی نے 133 اننگز میں یہ کارنامہ سرانجام دیا، جبکہ بابر اعظم اب تک 128 اننگز میں 19 سنچریاں بنا چکے ہیں۔ اگر وہ اگلی چار اننگز میں ایک سنچری اسکور کر لیتے ہیں، تو وہ کوہلی کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر آ جائیں گے۔

20 ون ڈے سنچریاں بنانے والے تیز ترین بلے بازوں کی فہرست:

  • ہاشم آملہ: 108 اننگز

  • ویرات کوہلی: 133 اننگز

  • اے بی ڈی ویلیئرز: 175 اننگز

  • روہت شرما: 183 اننگز

بابر اعظم کا یہ ممکنہ کارنامہ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہوگا۔ وہ پہلے ہی ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچ سنچریاں بنا چکے ہیں، جو کسی بھی پاکستانی بلے باز کی جانب سے کسی ایک ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ سنچریوں کا ریکارڈ ہے۔ اس سیریز میں ان کی نگاہیں اس ریکارڈ کو مزید مضبوط کرنے پر بھی مرکوز ہوں گی۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف بابر کا شاندار ریکارڈ

بابر اعظم کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے کرکٹ میں ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ انہوں نے 2016 میں متحدہ عرب امارات میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں مسلسل تین سنچریاں (120، 123، اور 117) اسکور کی تھیں، جو کسی بھی بلے باز کی جانب سے تین میچوں کی سیریز میں سب سے زیادہ رنز (360) کا عالمی ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ، 2022 میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ملتان میں ایک اور سنچری (103) بنائی، جس سے ان کا اس ٹیم کے خلاف سنچریوں کا مجموعہ پانچ ہو گیا۔

بابر اعظم کی ویسٹ انڈیز کے خلاف کارکردگی:

  • میچز: 14

  • رنز: 1,676

  • سنچریاں: 5

  • ففٹیز: 11

اس سیریز میں بابر کے پاس نہ صرف سعید انور کا ریکارڈ توڑنے کا موقع ہے بلکہ وہ سابق پاکستانی کپتان عمران خان کے ویسٹ انڈیز کے خلاف 1,977 رنز کے ریکارڈ کو بھی عبور کر سکتے ہیں۔ بابر کو اس کے لیے صرف 302 رنز درکار ہیں، اور اگر وہ اس سیریز میں ایک اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں، تو یہ سنگ میل بھی ان کے نام ہو سکتا ہے۔

سیریز کا پس منظر اور بابر کی حالیہ فارم

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان یہ تین میچوں کی ون ڈے سیریز برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلی جائے گی، جو تیز پچوں اور بلے بازوں کے لیے سازگار حالات کے لیے مشہور ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز 2-1 سے جیتی ہے، جس سے ٹیم کا حوصلہ بلند ہے۔ بابر اعظم، جو حال ہی میں وائٹ بال کرکٹ کی کپتانی سے دستبردار ہوئے ہیں، اب اپنی بلے بازی پر مکمل توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔

2025 کے اوائل میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بابر نے 193 رنز بنائے، جس میں تین نصف سنچریاں شامل تھیں، اور ان کی اوسط 48.25 رہی۔ اگرچہ وہ گزشتہ ایک سال سے سنچری اسکور نہیں کر سکے، لیکن ان کی حالیہ فارم اور ویسٹ انڈیز کے خلاف ماضی کے شاندار ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، شائقین کو امید ہے کہ وہ اس سیریز میں بڑی اننگز کھیلیں گے۔

سوشل میڈیا پر جوش و خروش

اس سیریز سے قبل ایکس پر شائقین بابر اعظم کے ممکنہ ریکارڈز کے بارے میں پرجوش ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "بابر اعظم ویسٹ انڈیز کے خلاف ہمیشہ شاندار کھیلتے ہیں۔ سعید انور کا ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے!” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "اگر بابر اس سیریز میں دو سنچریاں بناتے ہیں، تو وہ نہ صرف سعید انور بلکہ ویرات کوہلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گے۔ یہ تاریخی لمحہ ہوگا!” شائقین کے اس جوش سے ظاہر ہوتا ہے کہ بابر سے توقعات بہت زیادہ ہیں۔

بابر اعظم کے لیے یہ سیریز نہ صرف ذاتی سنگ ہائے میل بلکہ پاکستانی کرکٹ کے لیے بھی ایک اہم موقع ہے۔ سعید انور کا 20 سنچریوں کا ریکارڈ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک عظیم معیار رہا ہے، اور بابر کا اسے توڑنا ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہوگا۔ اس کے علاوہ، ویرات کوہلی جیسے عظیم بلے باز کو تیز ترین 20 سنچریوں کی فہرست میں پیچھے چھوڑنا بابر کو عالمی کرکٹ کے ایلیٹ کلب میں مزید بلند مقام پر لے جائے گا۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف بابر کا ماضی کا ریکارڈ اور ان کی حالیہ فارم اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ اس سیریز میں بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، ویسٹ انڈیز کی ٹیم، جو اپنی تیز گیند بازی اور غیر متوقع کارکردگی کے لیے جانی جاتی ہے، بابر کے لیے ایک چیلنج ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر الزاری جوزف اور جیڈن سیلز جیسے گیند باز بابر کی تکنیک کا امتحان لے سکتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ سیریز بابر کے لیے اپنی بلے بازی پر توجہ مرکوز کرنے کا ایک سنہری موقع ہے، کیونکہ وہ اب کپتانی کے دباؤ سے آزاد ہیں۔ اگر وہ اس سیریز میں سنچری اسکور کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے اعتماد کو بڑھائے گا بلکہ 2025 چیمپئنز ٹرافی سے قبل پاکستانی ٹیم کے لیے ایک مثبت پیغام بھی ہوگا۔ تاہم، بابر کو اپنی حالیہ سنچری کی کمی کو توڑنے کے لیے ذہنی طور پر مضبوط رہنا ہوگا، کیونکہ شائقین اور ناقدین کی توقعات ان پر بہت زیادہ ہیں۔

دوسری طرف، یہ سیریز پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیت کو دوبارہ ثابت کرے۔ بابر اعظم جیسے بلے باز، جو ہر فارمیٹ میں ٹاپ 5 رینکنگ میں شامل ہیں، پاکستان کے لیے ایک اثاثہ ہیں۔ اگر وہ سعید انور اور ویرات کوہلی کے ریکارڈز توڑتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنہری باب ہوگا۔ اس سیریز کا نتیجہ نہ صرف بابر کے ریکارڈز بلکہ پاکستان کی عالمی کرکٹ میں پوزیشن کے لیے بھی اہم ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین