اسلام آباد/نئی دہلی: معروف امریکی جریدے بلومبرگ نے ایک سنسنی خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے عشائیے کی دعوت کو اس خدشے کے باعث ٹھکرا دیا کہ کہیں ٹرمپ ان کی ملاقات پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے نہ کروا دیں۔ یہ واقعہ پاک-بھارت تعلقات، بھارت-امریکا تعلقات، اور خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست کے تناظر میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں سرد مہری آئی، جس کا اثر ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف کے نفاذ سے واضح ہوتا ہے۔ یہ رپورٹ اس واقعے کی تفصیلات، اس کے پس منظر، اور اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کا خوف
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، 17 جون 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو وائٹ ہاؤس میں ایک عشائیے کے لیے مدعو کیا تھا۔ یہ دعوت اس وقت دی گئی جب مودی کینیڈا میں جی سیون سمٹ میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔ تاہم، مودی نے اس دعوت کو قبول کرنے سے معذرت کر لی اور اس کے بجائے کروشیا کے اپنے طے شدہ دورے کو ترجیح دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مودی کے اس فیصلے کی بنیادی وجہ ان کا وہ اندیشہ تھا کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ان کی ملاقات پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کرا سکتے ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق، نئی دہلی اس ملاقات کو پاکستانی فوج کو "سفارتی طور پر جائز” قرار دینے کے مترادف سمجھتی تھی، جسے وہ دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتی ہے۔ مودی کے مشیران کو خدشہ تھا کہ ایسی کسی ملاقات یا تصویر کی موجودگی بھارتی بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گی، خاص طور پر اس وقت جب پاک-بھارت تعلقات حالیہ عسکری تصادم کے بعد انتہائی کشیدہ ہیں۔
45 منٹ کی ٹیلی فونک گفتگو
اسی روز، یعنی 17 جون 2025 کو، ٹرمپ اور مودی کے درمیان 45 منٹ طویل ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جو دونوں رہنماؤں کے درمیان سفارتی تناؤ کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔ بلومبرگ کے مطابق، اس گفتگو کے دوران مودی نے ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا کہ انہوں نے مئی 2025 میں پاک-بھارت عسکری تصادم کے بعد جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔ مودی نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی پاکستانی فوج کی درخواست پر دونوں ممالک کے عسکری چینلز کے ذریعے طے پائی تھی، اور اس میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں تھی۔
مودی نے ٹرمپ کو بتایا کہ بھارت نہ کبھی ثالثی قبول کرتا ہے، نہ کرے گا، بلومبرگ، اور اس موقف پر بھارت میں مکمل سیاسی اتفاق ہے۔ اس گفتگو کے دوران مودی نے 22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا حوالہ دیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے جواب میں بھارت نے 7 مئی کو آپریشن سندور شروع کیا، جس میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد کیمپوں پر میزائل حملے کیے گئے۔
اس چار روزہ تصادم میں دونوں ممالک کے درمیان شدید جوابی فائرنگ ہوئی، جس میں پاکستان نے 51 ہلاکتوں (بشمول 11 فوجیوں) اور بھارت نے پانچ فوجی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ مودی نے ٹرمپ کو بتایا کہ بھارت کے حملے "محدود، درست، اور غیر توسیعی” تھے، لیکن پاکستان کی جانب سے 9 مئی کی رات کو حملے کے بعد بھارت نے سخت جوابی کارروائی کی، جس سے پاکستانی فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان نے جنگ بندی کی درخواست کی، جو دونوں ممالک کے عسکری رابطوں کے ذریعے طے ہوئی۔
ٹرمپ کا بدلتا رویہ
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، اس ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ٹرمپ کا بھارت کے تئیں رویہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا۔ انہوں نے عوامی طور پر بھارتی معیشت کو "مردہ” قرار دیا اور بھارت پر "ناپسندیدہ تجارتی رکاوٹوں” کا الزام لگایا۔ اس تناؤ کے نتیجے میں ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جو 17 اگست 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس فیصلے نے بھارت-امریکا تعلقات میں سرد مہری کو مزید واضح کر دیا۔
بھارتی حکام کا خیال ہے کہ یہ ٹیرف ٹرمپ کی ناراضی کا نتیجہ ہیں، جو مودی کے دعوت سے انکار اور ان کے ثالثی کے دعوؤں کی تردید سے پیدا ہوئی۔ دوسری جانب، امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ بھارت ایک اسٹریٹجک شراکت دار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان مکالمہ جاری رہے گا، اگرچہ وہ ہر معاملے پر "100 فیصد اتفاق” نہیں کر سکتے۔
پاک-امریکا تعلقات اور عاصم منیر کا دورہ
اس تناؤ کے پس منظر میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دو ماہ سے کم عرصے میں دوسرا دورہ امریکا بھی توجہ کا مرکز بنا۔ بلومبرگ کے مطابق، عاصم منیر 18 جون 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پہنچے، جہاں انہوں نے دو گھنٹے سے زائد طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکاف بھی موجود تھے۔
عاصم منیر نے ٹرمپ کے "تعمیری اور نتیجہ خیز کردار” کی تعریف کی، جبکہ ٹرمپ نے خطے کی پیچیدہ حرکیات میں عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔ اس ملاقات کے بعد پاک-امریکا اقتصادی تعلقات میں پیش رفت ہوئی، اور دونوں ممالک نے 19 فیصد باہمی ٹیرف کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا۔ یہ معاہدہ پاک-امریکا تعلقات میں ایک نئے آغاز کی علامت ہے، جو بھارت کے لیے سفارتی دباؤ کا باعث بنا۔
مودی کا موقف
مودی نے 20 جون 2025 کو بھوبنیشور، اوڑیشہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے فیصلے کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جی سیون سمٹ کے بعد ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن جانے کے بجائے اوڑیشہ کے مقدس مقام جگنناتھ مندر جانا زیادہ ضروری سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا، "میں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ آپ کی دعوت کا شکریہ، لیکن مجھے مہاپربھو کی سرزمین پر جانا ضروری ہے۔” مودی نے ٹرمپ کو بھارت میں ہونے والے کواڈ سمٹ کے لیے مدعو کیا، جسے ٹرمپ نے قبول کر لیا، اگرچہ انہوں نے اپنی آمد کی تصدیق نہیں کی۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس خبر نے ایکس پر ایک بڑی بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، مودی کا ٹرمپ کی دعوت ٹھکرانا بھارت کی خودمختاری کا ثبوت ہے۔ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے! ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ٹرمپ کا عاصم منیر سے ملنا اور مودی کا انکار پاک-بھارت تعلقات کے تناظر میں ایک بڑا سفارتی موڑ ہے۔” کچھ صارفین نے ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کو سیاسی بدلہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے مودی کے فیصلے کو خطے کی سیاست میں بھارت کی مضبوط پوزیشن کے طور پر دیکھا۔
نریندر مودی کا ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت سے انکار اور اس کے پس منظر میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کا خوف پاک-بھارت تعلقات کی حساسیت اور خطے کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست کو اجاگر کرتا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری کو ترجیح دیتا ہے اور کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مودی کا یہ فیصلہ بھارت کے اس دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک-بھارت امور دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔
تاہم، یہ واقعہ بھارت-امریکا تعلقات کے لیے ایک اہم موڑ بھی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی معیشت پر تنقید اور 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سرد مہری کو واضح کرتا ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی معیشت کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکا بھارت کا سب سے بڑا برآمدی بازار ہے۔ دوسری جانب، پاک-امریکا تعلقات میں حالیہ پیش رفت، خاص طور پر عاصم منیر کے دورے اور نئے تجارتی معاہدے، پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط کر رہے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ٹرمپ سے ملاقات اور پاک-امریکا تعلقات میں بہتری پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے۔ تاہم، اس سے پاک-بھارت تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھ سکتی ہے، کیونکہ بھارت پاکستان کی فوج کو دہشت گردی کی حمایت کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
مستقبل میں، بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہوگی، خاص طور پر امریکا کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے۔ مودی کا اوڑیشہ کو ترجیح دینا ان کی قومی سیاست میں مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے نے بھارت کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کر دیا ہے۔ اگر بھارت اور امریکا اپنے تعلقات کو بہتر نہیں کرتے، تو یہ خطے کی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ کی غیر روایتی سفارتی انداز خطے کے حساس تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ پاک-بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے، اور تیسرے فریق کی مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر بھارت اور پاکستان اپنے اختلافات کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کریں، تو یہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔





















