ٹرمپ کاٹیرف، بھارت نے امریکا سے ہتھیار اور طیارے خریداری کے منصوبے مؤخر کر دیے

بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کنندہ ملک ہے، اور روس اس کا روایتی سپلائر رہا ہے

نئی دہلی/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھارت-امریکا تعلقات کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ اس تناؤ کے نتیجے میں بھارت نے امریکی اسلحے کی خریداری کے اہم منصوبوں کو روک دیا ہے، جن میں اسٹرائیکر جنگی گاڑیاں، جیولن اینٹی ٹینک میزائل، اور بوئنگ پی-8آئی جاسوسی طیاروں کی 3.6 بلین ڈالر کی ڈیل شامل ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا واشنگٹن کا مجوزہ دورہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ نئی دہلی ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید نالاں ہے۔ تاہم، بھارتی وزارت دفاع نے ان رپورٹس کو "غلط اور من گھڑت” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دفاعی خریداری حسب معمول جاری ہے۔

ٹرمپ کے ٹیرف اور بھارت کا ردعمل

6 اگست 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کا اعلان کیا، جس سے بھارت پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا۔ یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی مسلسل خریداری کے جواب میں کیا گیا، جسے ٹرمپ نے روس کی یوکرین پر حملے کی فنڈنگ قرار دیا۔ اس اعلان نے بھارت-امریکا تعلقات کو کئی دہائیوں کی پست سطح پر پہنچا دیا۔ نئی دہلی نے اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یورپی ممالک بھی اپنے مفادات کے تحت روس سے تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس ٹیرف کے جواب میں، بھارت نے امریکی اسلحے کی خریداری کے منصوبوں کو معطل کر دیا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، ان معاہدوں میں جنرل ڈائنامکس کی اسٹرائیکر جنگی گاڑیاں، ریتھیون اور لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ جیولن اینٹی ٹینک میزائل، اور بھارتی بحریہ کے لیے چھ بوئنگ پی-8آئی جاسوسی طیاروں کی خریداری شامل تھی۔ یہ معاہدے، جن کی مالیت 3.6 بلین ڈالر سے زائد تھی، بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے واشنگٹن کے مجوزہ دورے کے دوران طے ہونے والے تھے۔ تاہم، اس دورے کی منسوخی نے ان معاہدوں پر فوری عمل درآمد کو روک دیا ہے۔

بھارتی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ معاہدے مستقبل میں بحال ہو سکتے ہیں، لیکن فی الحال ٹیرف اور دوطرفہ تعلقات کی سمت واضح ہونے تک کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔ ایک اہلکار نے کہا کہ خریداری کو روکنے کے لیے کوئی تحریری ہدایت جاری نہیں کی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ تاہم، فی الحال "کوئی آگے بڑھنے کی رفتار” نہیں ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کا موقف

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد، بھارتی وزارت دفاع نے رائٹرز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط اور من گھڑت ہے۔ وزارت کے ایک ذریعے نے زور دیا کہ دفاعی خریداری کے تمام معاملات حسب ضابطہ جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹرائیکر گاڑیوں، جیولن میزائلوں، اور بوئنگ طیاروں کے معاہدوں پر مذاکرات معمول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں، اور ٹیرف تنازع کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ تاہم، راج ناتھ سنگھ کے دورہ واشنگٹن کی منسوخی کی تصدیق نے اس دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

بھارت-امریکا دفاعی تعلقات

بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ برسوں میں دفاعی تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو بنیادی طور پر چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں مشترکہ حکمت عملی پر مبنی ہے۔ فروری 2025 میں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر ٹرمپ نے اسٹرائیکر گاڑیوں اور جیولن میزائلوں کی خریداری اور مشترکہ پیداوار کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ، بھارتی بحریہ کے لیے 3.6 بلین ڈالر کی بوئنگ پی-8آئی طیاروں کی ڈیل بھی حتمی مراحل میں تھی۔

تاہم، ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے نے ان منصوبوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے ٹیرف تنازع کے جواب میں امریکی اسلحے کی خریداری کے مذاکرات روکے ہیں۔ بھارتی حکام نے واضح کیا کہ وہ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ انہوں نے مئی 2025 میں پاک-بھارت عسکری تصادم کے بعد جنگ بندی میں ثالثی کی تھی۔ اس تنازع نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے فقدان کو اجاگر کیا۔

روس سے تعلقات اور بھارت کا توازن

بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کنندہ ملک ہے، اور روس اس کا روایتی سپلائر رہا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بھارت نے امریکا، فرانس، اور اسرائیل سے اسلحے کی خریداری بڑھائی ہے، کیونکہ روس کی یوکرین جنگ کی وجہ سے اس کی اسلحہ برآمدات کی صلاحیت محدود ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، روس نے حال ہی میں بھارت کو اپنا جدید S-500 سطح سے فضا تک مار کرنے والا میزائل سسٹم پیش کیا، لیکن بھارتی حکام نے اس پیشکش پر دلچسپی نہ دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال نئے روسی اسلحے کی خریداری کی ضرورت نہیں ہے، لیکن بھارت کی فوج اپنے موجودہ روسی ہتھیاروں کے لیے ماسکو کی تکنیکی مدد پر انحصار کرتی رہے گی۔

ٹرمپ کے ٹیرف کا ایک بڑا سبب بھارت کی روس سے تیل کی خریداری ہے۔ بھارت نے مشروط طور پر روس سے تیل کی درآمدات کم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، بشرطیکہ اسے امریکا یا دیگر ذرائع سے یکساں قیمت پر تیل مل سکے۔ رائٹرز کے دو ذرائع کے مطابق، 2022 کے بعد سے روسی تیل پر رعایت کی شرح سب سے کم ہے، جس سے بھارت کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش آسان ہو سکتی ہے۔ تاہم، ایک ذریعے نے کہا کہ ٹرمپ کے دھمکی آمیز رویے اور بھارت میں بڑھتی ہوئی امریکی مخالف جذبات نے مودی کے لیے روس سے مکمل طور پر دوری اختیار کرنا سیاسی طور پر مشکل بنا دیا ہے۔

انٹیلی جنس اور فوجی مشقیں

اگرچہ بڑے دفاعی معاہدوں پر مذاکرات معطل ہیں، بھارت اور امریکا کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ فوجی مشقوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ ایک بھارتی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ چین کے مقابلے میں دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری اب بھی مضبوط ہے۔ یہ تعاون 2025 کے آخر تک طے شدہ ایک نئے 10 سالہ بھارت-امریکا دفاعی فریم ورک معاہدے کی شکل میں مزید گہرا ہونے کی توقع ہے۔

تاہم، ٹرمپ کے غیر متوقع فیصلوں کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، بھارتی حکام محتاط ہیں۔ ایک اہلکار نے کہا کہ جب تک ٹیرف اور دوطرفہ تعلقات کی سمت واضح نہیں ہوتی، بڑے معاہدوں پر پیش رفت ممکن نہیں۔ ٹرمپ نے ماضی میں ٹیرف فیصلوں کو اچانک واپس لیا ہے، جس سے بھارت کو امید ہے کہ یہ تنازع جلد حل ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس خبر نے ایکس پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔ ایک صارف نے لکھا، "ٹرمپ کے ٹیرف نے بھارت-امریکا تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن مودی کا سخت موقف درست ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "بھارت کو اپنی خودمختاری اور ‘میک ان انڈیا’ پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنا چاہیے۔” کچھ صارفین نے ٹرمپ کے فیصلے کو سیاسی دباؤ کی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ دیگر نے بھارت کی جانب سے امریکی اسلحہ معاہدوں کو روکنے کو ایک جرات مندانہ قدم سمجھا۔

بھارت کا امریکی اسلحہ معاہدوں کو روکنا اور راج ناتھ سنگھ کے دورہ واشنگٹن کی منسوخی ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کے فیصلے کے خلاف نئی دہلی کا پہلا واضح ردعمل ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں خودمختاری کے عزم کو ظاہر کرتا ہے، لیکن یہ بھارت-امریکا اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے ایک خطرناک موڑ بھی ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے دفاعی تعلقات کو مضبوط کیا ہے، لیکن ٹرمپ کا یہ فیصلہ اس تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے رپورٹس کو مسترد کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنی پوزیشن کو مضبوط رکھنا چاہتا ہے اور سفارتی سطح پر تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، راج ناتھ سنگھ کے دورے کی منسوخی اور معاہدوں پر مذاکرات کی معطلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت ٹرمپ کے فیصلے سے گہرے طور پر نالاں ہے۔ یہ فیصلہ بھارت کی "میک ان انڈیا” پالیسی کو تقویت دے سکتا ہے، جس کے تحت نئی دہلی مقامی دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دے رہا ہے۔

روس سے تیل اور اسلحے کی خریداری کا معاملہ بھارت کے لیے ایک نازک توازن ہے۔ ایک طرف، بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات اور فوجی سازوسامان کے لیے روس پر انحصار کم کرنا ہوگا، لیکن دوسری طرف، ٹرمپ کے دھمکی آمیز رویے اور بھارت میں بڑھتی ہوئی امریکی مخالف جذبات مودی کے لیے اس تبدیلی کو سیاسی طور پر مشکل بنا رہے ہیں۔ اگر بھارت روس سے تیل کی درآمدات کم کرتا ہے، تو اسے متبادل ذرائع سے مناسب قیمتوں پر تیل کی دستیابی یقینی بنانی ہوگی۔

پاکستان کے تناظر میں، یہ تنازع پاک-امریکا تعلقات میں حالیہ بہتری سے مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات نے بھارت کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ یہ صورتحال پاک-بھارت تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، خاص طور پر مئی 2025 کے عسکری تصادم کے بعد۔

مستقبل میں، بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا۔ اگر ٹرمپ اپنے ٹیرف فیصلے کو واپس لیتے ہیں، تو دفاعی معاہدوں پر مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ تاہم، فی الحال یہ تنازع بھارت-امریکا تعلقات کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ نئی دہلی کو اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ روس کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو بھی سنبھالنا ہوگا۔ اگر بھارت اور امریکا اس تنازع کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں، تو یہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین