اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین کو درپیش مسائل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، جو پروٹیکٹڈ کیٹگری کی موجودہ حد کو 200 یونٹس سے بڑھا کر 300 یونٹس تک کرنے کی تجویز پر غور کرے گی۔ یہ اقدام غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کو اضافی مالی بوجھ سے نجات دلانے کی ایک اہم کوشش ہے، جو 201 یونٹس کے استعمال پر نان پروٹیکٹڈ شرح کی وجہ سے ہر ماہ ہزاروں روپوں کے اضافی بلوں کی ادائیگی پر مجبور ہیں۔
پروٹیکٹڈ صارفین کے مسائل
پاکستان میں بجلی کے پروٹیکٹڈ صارفین، جو عام طور پر کم آمدنی والے گھرانوں پر مشتمل ہوتے ہیں، کو 200 یونٹس تک بجلی کے استعمال پر رعایتی نرخوں کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، موجودہ پالیسی کے تحت اگر کوئی صارف ایک ماہ میں 201 یونٹس استعمال کر لے، تو وہ چھ ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹگری سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، صارفین کو نان پروٹیکٹڈ شرح پر بل ادا کرنا پڑتا ہے، جو ہر ماہ تقریباً 5,000 روپے اضافی خرچ کا باعث بنتا ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں صارفین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی ہے، جب بجلی کا استعمال قدرتی طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اراکین قومی اسمبلی نے اسے صارفین کے ساتھ "ناانصافی” قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری ایکشن کی اپیل کی۔ ان کا موقف تھا کہ صرف ایک یونٹ کے فرق کی وجہ سے چھ ماہ تک اضافی بل کی ادائیگی غریب گھرانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
وزیراعظم نے اس معاملے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جو پروٹیکٹڈ کیٹگری کی حد کو 201 یونٹس سے بڑھا کر 301 یونٹس تک کرنے کی تجویز پر غور کرے گی۔ اس کمیٹی کا مقصد صارفین کے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔
کمیٹی کا دائرہ کار اور تجاویز
ذرائع کے مطابق، یہ اعلیٰ سطحی کمیٹی پروٹیکٹڈ کیٹگری کی موجودہ حد کو 200 یونٹس تک برقرار رکھنے یا اسے 300 یونٹس تک بڑھانے کے اختیارات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کا جامع تجزیہ کرے اور اپنی سفارشات وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کرے۔ ایک اہم تجویز یہ ہے کہ پروٹیکٹڈ کیٹگری کی حد کو 301 یونٹس تک بڑھایا جائے، جس سے لاکھوں صارفین کو اضافی بلوں کے بوجھ سے نجات مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، ایک اور تجویز زیر غور ہے کہ اگر کوئی صارف 201 یونٹس استعمال کرتا ہے، تو نان پروٹیکٹڈ شرح صرف اسی ماہ کے لیے عائد کی جائے، نہ کہ اگلے چھ ماہ تک۔ اس سے صارفین پر مالی دباؤ کم ہوگا اور وہ ایک معمولی اضافے کی وجہ سے طویل مدتی سزا سے بچ سکیں گے۔
وزارت توانائی کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ موجودہ 201 یونٹس کی حد نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور وزارت پاور کے فیصلے کا نتیجہ تھی، جسے "جان بوجھ کر” نافذ کیا گیا۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اس پالیسی پر نظرثانی کی جا رہی ہے تاکہ غریب صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
صارفین کے لیے ریلیف
موجودہ حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کے صارفین کو ریلیف دینے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 200 یونٹس تک بجلی کا استعمال عام طور پر کم آمدنی والے گھرانے ہی کرتے ہیں، جن کے لیے اضافی بل ایک بڑا مالی دھچکا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک صارف جس کا بل 200 یونٹس پر 3,083 روپے آتا ہے، وہ 201 یونٹس استعمال کرنے پر 8,154 روپے ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس فرق کو "صارفین کے ساتھ زیادتی” قرار دیتے ہوئے، اراکین اسمبلی نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی درخواست کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حکومت غریب آدمی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ 200 یونٹس کا معاملہ جلد حل ہو جائے گا، اور پروٹیکٹڈ کیٹگری کی حد بڑھانے سے لاکھوں گھرانوں کو فائدہ ہوگا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس اعلان نے ایکس پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "وزیراعظم شہباز شریف کا یہ فیصلہ غریب صارفین کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ 300 یونٹس تک پروٹیکٹڈ کیٹگری بڑھانا ایک حقیقت پسندانہ اقدام ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "حکومت کو نیپرا کی پالیسیوں پر نظرثانی کر کے صارفین کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔” تاہم، کچھ صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تجویز پر عمل درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے، کیونکہ نیپرا اور وزارت پاور کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا پروٹیکٹڈ صارفین کی حد بڑھانے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک امید افزا پیش رفت ہے۔ موجودہ پالیسی، جس کے تحت 201 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین چھ ماہ تک نان پروٹیکٹڈ شرح پر بل ادا کرنے پر مجبور ہیں، نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ بھی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں، جب بجلی کا استعمال ناگزیر طور پر بڑھ جاتا ہے، ایک یونٹ کا فرق ہزاروں روپوں کے اضافی بل کا باعث بنتا ہے، جو غریب صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
کمیٹی کی تشکیل اور 301 یونٹس تک پروٹیکٹڈ کیٹگری بڑھانے کی تجویز ایک حقیقت پسندانہ اور صارف دوست اقدام ہے۔ یہ تجویز، اگر نافذ ہو جاتی ہے، تو لاکھوں گھرانوں کو مالی دباؤ سے نجات دلائے گی اور بجلی کے بلنگ نظام میں شفافیت اور انصاف کو فروغ دے گی۔ تاہم، اس تجویز کے نفاذ میں کئی چیلنجز ہیں۔ سب سے پہلے، نیپرا اور وزارت پاور کے درمیان پالیسی ہم آہنگی ضروری ہے، کیونکہ ذرائع نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ موجودہ 201 یونٹس کی حد "جان بوجھ کر” عائد کی گئی تھی۔ اس سے حکومتی اداروں کے درمیان اندرونی تناؤ کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔
دوسرا، کمیٹی کی رپورٹ اور اس کی سفارشات پر عمل درآمد میں وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ اسے وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوگی۔ اگر اس عمل میں تاخیر ہوئی، تو صارفین کی مشکلات برقرار رہ سکتی ہیں۔ تیسرا، 301 یونٹس پر نان پروٹیکٹڈ شرح کا اطلاق یا 201 یونٹس کی حد کو صرف اسی ماہ تک محدود کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کے مالی اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوگا۔ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ، جو پہلے ہی 2.6 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے اضافی وسائل کا تقاضا کر سکتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں بجلی کے بلوں میں اضافہ عوامی احتجاج کا ایک بڑا سبب بنتا ہے، یہ فیصلہ سیاسی اور سماجی طور پر اہم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے عوام دوست ایجنڈے کو تقویت دے اور غریب طبقے کے اعتماد کو بحال کرے۔ تاہم، اس فیصلے کے نفاذ میں شفافیت اور تیزی ضروری ہے، کیونکہ عوام پہلے ہی بجلی کے بلوں اور مہنگائی سے تنگ ہیں۔ اگر یہ تجویز موثر طریقے سے نافذ ہو جاتی ہے، تو یہ نہ صرف صارفین کے لیے ریلیف کا باعث بنے گی بلکہ حکومتی اداروں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی کے لیے ایک مثال بھی قائم کرے گی۔





















