بی بی سی نے پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری پرکشش ترین لیگ قرار دے دیا

پی ایس ایل نے کئی اہم میٹرکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا

کراچی: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) نے عالمی کرکٹ کے افق پر ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹس کی ایک تازہ رپورٹ نے پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری سب سے زیادہ تفریح فراہم کرنے والی فرنچائز کرکٹ لیگ قرار دیا ہے، جو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ اعزاز پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، جو اپنی سنسنی خیز میچز، ہائی اسکورنگ مقابلوں، اور عالمی ستاروں کے ساتھ مقامی ٹیلنٹ کے امتزاج کے لیے مشہور ہو چکی ہے۔ 

بی بی سی کی رپورٹ

بی بی سی اسپورٹس نے کرکٹ اینالیٹکس فرم ’’کریک وِز‘‘ کے تعاون سے دنیا بھر کی بڑی ٹی ٹوئنٹی اور شارٹ فارمیٹ فرنچائز لیگوں کا تفصیلی تجزیہ کیا۔ اس جائزے میں پی ایس ایل کے علاوہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)، جنوبی افریقہ کی ایس اے 20، آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل)، کیریبین پریمیئر لیگ (سی پی ایل)، متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل لیگ ٹی 20 (آئی ایل ٹی 20)، اور انگلینڈ کی دی ہنڈرڈ شامل تھیں۔

یہ مطالعہ متعدد کارکردگی اور تفریحی پیمانوں پر مبنی تھا، جن میں فی میچ چوکوں اور چھکوں کی اوسط، بیٹنگ اسٹرائیک ریٹ، میچ کے آخری اوور یا گیند پر فیصلہ ہونے کا تناسب، ہوم ایڈوانٹیج کے اثرات، وکٹوں کے گرنے کے رجحانات، اور پلیئنگ الیون میں شامل کھلاڑیوں کے بین الاقوامی تجربے کی اوسط شامل تھی۔ رپورٹ نے 2021 سے لے کر تازہ ترین سیزنز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا تاکہ ایک منصفانہ اور جامع تصویر پیش کی جا سکے۔

پی ایس ایل کی شاندار کارکردگی

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، پی ایس ایل نے کئی اہم میٹرکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ پی ایس ایل نے فی میچ پہلی اننگز میں اوسطاً 180 رنز بنائے، جو آئی پی ایل کے 179 رنز سے ایک رن زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار پی ایس ایل کے ہائی اسکورنگ میچز اور بیٹسمینوں کی جارحانہ حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، پی ایس ایل کے 27.5 فیصد میچز کا فیصلہ آخری اوور میں ہوا، جو سنسنی خیز مقابلوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تناسب آئی پی ایل کے 28.9 فیصد کے بالکل قریب ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایس ایل کے میچز ناظرین کو اپنی نشستوں کے کناروں پر بٹھاتے ہیں۔ چوکوں اور چھکوں کی اوسط میں بھی پی ایس ایل نے دوسرا مقام حاصل کیا، جہاں اس نے فی میچ اوسطاً 30 چوکے اور 14 چھکے درج کیے، جو آئی پی ایل کے 15 چھکوں کے قریب ہے۔

کھلاڑیوں کے بین الاقوامی تجربے کے لحاظ سے، پی ایس ایل کی پلیئنگ الیون کی اوسط 351 انٹرنیشنل کیپس رہی، جو سروے میں شامل لیگوں میں دوسرا سب سے زیادہ ہے۔ اس زمرے میں آئی ایل ٹی 20 نے 423 کیپس کے ساتھ پہلا مقام حاصل کیا، جو اس کے غیر ملکی کھلاڑیوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے ممکن ہوا۔ تاہم، پی ایس ایل کا یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ لیگ عالمی سطح کے کھلاڑیوں کو راغب کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

 پی ایس ایل کی دوسری پوزیشن

بی بی سی اسپورٹس کے ’’انٹرٹینمنٹ انڈیکس‘‘ میں، جو تمام میٹرکس کی کارکردگی کا مجموعی اسکور تھا، آئی پی ایل نے 5 میں سے 4.53 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ پی ایس ایل 3.90 اسکور کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جو آئی ایل ٹی 20 (2.44)، دی ہنڈرڈ (1.97)، سی پی ایل (1.60)، اور ایس اے 20 (1.23) سے کہیں آگے ہے۔ آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ 1.04 اسکور کے ساتھ آخری پوزیشن پر رہی۔

یہ انڈیکس پی ایس ایل کی مسلسل ہائی اسکورنگ میچز، سنسنی خیز مقابلوں، اور عالمی اور مقامی ٹیلنٹ کے امتزاج کی بدولت اس کی مقبولیت کو اجاگر کرتا ہے۔ رپورٹ نے خاص طور پر پی ایس ایل کے بیٹ اور بال کے درمیان توازن اور اس کی ناظرین کو مسحور کرنے کی صلاحیت کو سراہا۔

پی ایس ایل کا عروج

2016 میں اپنے آغاز سے لے کر اب تک، پی ایس ایل نے کرکٹ کے عالمی کیلنڈر میں ایک نمایاں مقام بنایا ہے۔ چھ شہروں کی نمائندگی کرنے والی ٹیموں کے ساتھ، یہ لیگ نہ صرف تیز رفتار اور جارحانہ کرکٹ کے لیے مشہور ہے بلکہ پاکستانی ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو عالمی اسٹارز کے ساتھ مقابلے کا موقع فراہم کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایس ایل میں دنیا بھر کے معروف کرکٹرز شرکت کرتے ہیں، جو اس کی عالمی اپیل کو بڑھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، اور کراچی کنگز جیسی ٹیموں نے نہ صرف مقامی شائقین کو متوجہ کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک بڑا فین بیس بنایا ہے۔

پی ایس ایل کی کامیابی کا ایک اہم عنصر اس کا شائقین کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ سٹیڈیمز میں پرجوش ہجوم، رنگا رنگ ایونٹس، اور میچز کے دوران تناؤ کے لمحات نے اسے ایک تفریحی پیکیج بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پی ایس ایل کا ڈھانچہ اور تنظیمی معیار دیگر لیگوں کے مقابلے میں نمایاں ہے، جو اسے کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک لازمی تجربہ بناتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

بی بی سی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس پر پاکستانی شائقین کرکٹ نے خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا: “پی ایس ایل کو دنیا کی دوسری بہترین لیگ قرار دیا جانا پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک عظیم لمحہ ہے! یہ ہمارے ٹیلنٹ اور جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: “آئی پی ایل سے صرف ایک قدم پیچھے؟ پی ایس ایل نے ثابت کر دیا کہ ہم عالمی سطح پر بہترین ہیں!”

تاہم، کچھ صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ پی ایس ایل کو اپنی مارکیٹنگ اور عالمی رسائی کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ آئی پی ایل کے مقابلے میں سرفہرست مقام حاصل کر سکے۔

بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ نے پاکستان سپر لیگ کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ کو اجاگر کیا ہے، اور یہ پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک فخریہ لمحہ ہے۔ پی ایس ایل کا دوسرا نمبر حاصل کرنا کوئی معمولی بات نہیں، کیونکہ یہ لیگ صرف 9 سال قبل شروع ہوئی تھی اور اس نے آئی پی ایل جیسی مضبوط مالی اور تنظیمی حمایت رکھنے والی لیگ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پی ایس ایل کی کامیابی کے چند اہم عوامل ہیں۔ سب سے پہلے، اس کا ہائی اسکورنگ میچز اور سنسنی خیز مقابلوں پر توجہ نے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ دوسرا، پاکستانی کھلاڑیوں جیسے کہ بابر اعظم، شاہین آفریدی، اور حارث رؤف کے ساتھ عالمی اسٹارز جیسے کہ کرس گیل اور ای بی ڈی ویلیئرز کے امتزاج نے اسے ایک منفرد پلیٹ فارم بنایا ہے۔ تیسرا، پی ایس ایل کا انتظامی ڈھانچہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشیں اسے ایک کامیاب برانڈ بنانے میں اہم ہیں۔

تاہم، پی ایس ایل کے سامنے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ آئی پی ایل کی عالمی مارکیٹنگ، مالی وسائل، اور میڈیا کوریج اسے ایک بے مثال برتری دیتی ہے۔ پی ایس ایل کو اپنی عالمی رسائی بڑھانے کے لیے مزید سرمایہ کاری، بہتر ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور غیر ملکی شائقین کو راغب کرنے کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، آئی پی ایل کی ڈیجیٹل ریٹنگ 130 ملین ہے، جبکہ پی ایس ایل کی عالمی ناظرین کی تعداد اس کے مقابلے میں کم ہے۔

مزید برآں، پی ایس ایل کو اپنی تنظیمی شفافیت اور کھلاڑیوں کے لیے بہتر معاوضے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ یہ آئی ایل ٹی 20 جیسی لیگوں کے مقابلے میں زیادہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کر سکے۔ بی بی سی کی رپورٹ نے یہ واضح کیا کہ آئی ایل ٹی 20 کی کامیابی کا ایک سبب اس کا غیر ملکی کھلاڑیوں کی زیادہ تعداد ہے۔ اگر پی ایس ایل اس پالیسی کو اپنائے، تو یہ اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، پی ایس ایل نہ صرف ایک کھیل کا ایونٹ ہے بلکہ قومی فخر اور شناخت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ اس نے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کیا بلکہ پاکستان میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر پی ایس ایل اپنی موجودہ رفتار کو برقرار رکھتی ہے اور عالمی مارکیٹنگ پر توجہ دیتی ہے، تو یہ مستقبل قریب میں آئی پی ایل کو چیلنج کر سکتی ہے۔

یہ رپورٹ پاکستانی کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک خوشخبری ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ایس ایل نے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان کے کرکٹ کے روشن مستقبل کی نوید ہے، اور آنے والے سیزنز میں پی ایس ایل سے مزید سنسنی خیز مقابلوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین