زیادہ فرائز کھانے سے کس خطرناک دائمی بیماری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے؟

فرنچ فرائز کی تیاری میں گہرے تیل میں تلنے کا عمل اہم کردار ادا کرتا ہے

ایک نئی بین الاقوامی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ ہفتے میں تین سے چار بار فرنچ فرائز کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے۔ یہ مطالعہ، جو 2 لاکھ 5 ہزار امریکی میڈیکل ملازمین کے طویل مدتی صحت کے ڈیٹا پر مبنی ہے، خوراک کی تیاری کے طریقوں اور دائمی بیماریوں کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابلے، بیک کیے گئے، یا میش کیے گئے آلوؤں کے استعمال سے ذیابیطس کا کوئی اضافی خطرہ سامنے نہیں آیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کھانے کا طریقہ تیاری بیماری کے خطرات پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ 

تحقیق کا پس منظر اور طریقہ کار

بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم، جس میں یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین بھی شامل تھے، نے آلوؤں کی کھپت اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان تعلق کو جانچنے کے لیے ایک جامع مطالعہ کیا۔ اس تحقیق کے لیے امریکی صحت کے شعبے سے وابستہ 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد ملازمین کے صحت سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جو گزشتہ چار دہائیوں کے دوران جمع کیا گیا تھا۔

محققین نے شرکاء کی غذائی عادات کا بار بار جائزہ لیا، جس میں ان کے آلوؤں کے استعمال کی مقدار اور تیاری کے طریقوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔ مطالعے کے دوران، تقریباً 22 ہزار افراد میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص ہوئی، جو اس بیماری کی بڑھتی ہوئی عالمی شرح کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ آلوؤں کی مختلف شکلوں—خاص طور پر فرنچ فرائز—کا استعمال صحت پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

فرنچ فرائز کا خطرناک کردار

برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے نتائج نے واضح کیا کہ ہفتے میں کم از کم تین بار فرنچ فرائز کھانے والوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ابلے، بیک کیے گئے، یا میش کیے گئے آلوؤں کا استعمال اس بیماری کے خطرے سے منسلک نہیں پایا گیا۔

محققین نے بتایا کہ فرنچ فرائز کی تیاری میں گہرے تیل میں تلنے (ڈیپ فرائنگ) کا عمل اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف اضافی ٹرانس فیٹس اور کاربوہائیڈریٹس شامل ہوتے ہیں بلکہ آلوؤں کی غذائیت کو بھی تبدیل کر دیا جاتا ہے، جو میٹابولک نظام پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ ڈیپ فرائنگ کے دوران اکثر آلوؤں کو میدے یا بریڈ کرم میں لپیٹا جاتا ہے، جو اضافی کاربوہائیڈریٹس کا باعث بنتا ہے اور بلڈ شوگر کی سطح کو تیزی سے بڑھاتا ہے۔

مزید یہ کہ، اگر ہفتے میں تین سرونگز فرنچ فرائز کے بجائے مکمل اناج (ہول گرینز) کا استعمال کیا جائے، تو ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ نتیجہ صحت مند غذائی انتخاب کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

ماہرین کا موقف

ذیابیطس یو کے کی تحقیقاتی ترجمان ڈاکٹر فے رائلے نے اس مطالعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آلوؤں اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان تعلق اتنا سادہ نہیں جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس ایک پیچیدہ بیماری ہے، جس پر جینیاتی عوامل، عمر، اور طرز زندگی سمیت کئی عناصر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم، یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ خوراک کی تیاری کا طریقہ اس بیماری کے خطرے کو کم یا بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹر رائلے نے کہا کہ تلی ہوئی یا زیادہ پروسیس شدہ غذاؤں سے پرہیز اور مکمل اناج پر مبنی متوازن غذا کو اپنانا ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلو خود کوئی نقصان دہ غذا نہیں، لیکن اسے ڈیپ فرائی کرنے سے اس کے صحت پر اثرات تبدیل ہو جاتے ہیں۔

آلوؤں کی غذائیت اور تیاری کے طریقوں کا اثر

آلو دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی سبزیوں میں سے ایک ہے، لیکن اسے اکثر غیر صحت بخش سمجھا جاتا ہے۔ اس تحقیق نے اس تاثر کو چیلنج کیا ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ آلوؤں کی غذائیت ان کے پکانے کے طریقے پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر، ابلے یا بیک کیے گئے آلوؤں میں وٹامنز، فائبر، اور دیگر غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ ایران میں 2,000 افراد پر کی گئی ایک اور تحقیق کے مطابق، ابلے ہوئے آلوؤں کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو 53-54 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

اس کے برعکس، فرنچ فرائز کی تیاری میں استعمال ہونے والا تیل اور اضافی کاربوہائیڈریٹس انہیں صحت کے لیے نقصان دہ بناتے ہیں۔ امریکن ڈائیبیٹیز ایسوسی ایشن کے مطابق، ڈیپ فرائنگ کسی بھی غذا کے لیے سب سے غیر صحت بخش طریقہ ہے، کیونکہ اس سے ٹرانس فیٹس بنتے ہیں جو نہ صرف ذیابیطس بلکہ امراض قلب اور فالج کے خطرے کو بھی بڑھاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً ایکس پر لوگوں نے اسے زیر بحث لایا۔ ایک صارف نے لکھا: “فرنچ فرائز میرا پسندیدہ ناشتہ ہے، لیکن اب لگتا ہے صحت کے لیے کچھ سوچنا پڑے گا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا: “یہ تحقیق تو آنکھیں کھول دینے والی ہے۔ ابلے آلو کھانے میں کیا برائی ہے؟ وقت ہے کہ ہم اپنی غذائی عادات بدلیں۔” کچھ صارفین نے اسے فاسٹ فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک وارننگ قرار دیا، جبکہ دیگر نے کہا کہ اعتدال کے ساتھ کھانا ہی بہترین حکمت عملی ہے۔

یہ تحقیق ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں 41 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد اس وقت ٹائپ 2 ذیابیطس کا شکار ہیں، اور اس مرض کی وجہ سے سالانہ 40 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں، یہ تحقیق نہ صرف افراد بلکہ پالیسی سازوں اور فاسٹ فوڈ انڈسٹری کے لیے بھی ایک اہم پیغام ہے۔

فرنچ فرائز کا زیادہ استعمال اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان تعلق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جدید طرز زندگی اور فاسٹ فوڈ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دائمی بیماریوں کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں فاسٹ فوڈ کی ثقافت تیزی سے پھیل رہی ہے، یہ تحقیق عوام کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ وہ اپنی غذائی عادات پر نظرثانی کریں۔

تاہم، یہ تحقیق صرف فرنچ فرائز کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے ایک وسیع تر نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ آلوؤں کی غذائیت ان کے پکانے کے طریقے پر منحصر ہے۔ ابلے یا بیک کیے گئے آلوؤں کا استعمال نہ صرف محفوظ ہے بلکہ صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت مند طرز زندگی کے لیے نہ صرف کھانے کا انتخاب بلکہ اس کی تیاری کا طریقہ بھی اہم ہے۔

اس تحقیق کے نتائج پاکستانی معاشرے کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں، جہاں آلو ایک بنیادی غذا ہے۔ مقامی سطح پر، لوگوں کو چاہیے کہ وہ فاسٹ فوڈ کے بجائے گھریلو پکوانوں کو ترجیح دیں اور تلی ہوئی غذاؤں سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ، فاسٹ فوڈ ریستورانوں کو بھی اپنے مینو میں صحت مند متبادل شامل کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ بیک کیے گئے آلو یا کم تیل میں تیار کردہ ڈشز۔

چیلنج یہ ہے کہ فاسٹ فوڈ کی مقبولیت اور سہولت اسے ترک کرنا مشکل بناتی ہے۔ اس لیے، عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مہمات اور تعلیمی پروگرامز کی ضرورت ہے جو لوگوں کو صحت مند کھانوں کی تیاری کے طریقوں سے آگاہ کریں۔ اگرچہ یہ تحقیق کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے مزید تصدیق کی متقاضی ہے، لیکن اس کے نتائج موجودہ غذائی رجحانات پر نظرثانی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

آخر میں، یہ تحقیق ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے نہ صرف یہ اہم ہے کہ ہم کیا کھاتے ہیں بلکہ اسے کیسے پکاتے ہیں۔ فرنچ فرائز سے مکمل پرہیز مشکل ہو سکتا ہے، لیکن اعتدال اور صحت مند متبادلات کا انتخاب ذیابیطس جیسے دائمی امراض سے بچاؤ کی کلید ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین