افغان طالبان کا نیا اقدام گھریلو بیوٹی پارلرز بھی بند، خواتین کے روزگار پر کاری ضرب

افغان خواتین کی معاشی خودمختاری کو نیا دھچکا، واحد ذریعہ آمدن بھی چھن گیا

کابل اور دیگر شہروں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان حکام نے خواتین کے گھریلو بیوٹی پارلرز بند کرانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ چھوٹے سیلونز زیادہ تر خواتین کے گھروں میں قائم تھے اور پابندی کے بعد کمرشل پارلرز کے بند ہونے کے بعد یہ واحد متبادل ذریعہ آمدن تھے۔ اب تازہ کارروائیوں میں نہ صرف بیوٹی آلات ضبط کیے جا رہے ہیں بلکہ بعض جگہوں پر گھر والوں سے تحریری ضمانت بھی لی جا رہی ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کا کاروبار نہیں کیا جائے گا۔

پالیسی کا تسلسل

یہ اقدام طالبان کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت خواتین کی معاشرتی اور معاشی سرگرمیوں کو مسلسل محدود کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل وہ ملک بھر میں کمرشل بیوٹی پارلرز، لڑکیوں کے تعلیمی ادارے اور مختلف خواتین کے ورک اسپیسز بند کروا چکے ہیں۔ اب گھریلو سطح پر چلنے والے یہ چھوٹے بیوٹی سیلونز بھی نشانے پر آ گئے ہیں۔

معاشی اثرات

مقامی کاروباری حلقوں کے مطابق، کمرشل بیوٹی پارلرز پر پابندی کے نتیجے میں پہلے ہی ہزاروں خواتین بے روزگار ہو چکی ہیں۔ ان میں سے کئی خواتین نے اپنی مہارت کو گھروں میں استعمال کر کے محدود پیمانے پر کاروبار جاری رکھا ہوا تھا، مگر اب ان کا یہ سہارا بھی ختم ہونے کو ہے۔ اس اقدام سے براہِ راست ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے، خصوصاً وہ گھرانے جہاں خواتین کی آمدنی ہی واحد سہارا تھی۔

طالبان کا موقف

طالبان حکام اس فیصلے کو ’اسلامی اقدار اور معاشرتی تحفظ‘ کے تحت درست قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بیوٹی پارلرز میں غیر شرعی مظاہر کی روک تھام ضروری ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی برادری اس اقدام کو خواتین کے بنیادی حقوق اور معاشی آزادی پر حملہ قرار دیتی ہیں۔

خفیہ بیوٹی سروسز کا خطرہ

پابندیوں کے باوجود، افغانستان میں کئی خواتین خفیہ طور پر بیوٹی سروسز فراہم کر رہی تھیں۔ یہ خفیہ سیلونز عموماً دوستوں اور جاننے والوں تک محدود ہوتے ہیں اور سخت احتیاط کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔ اب گھریلو بیوٹی پارلرز پر بھی کریک ڈاؤن کے بعد یہ خفیہ کاروبار مزید خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

پس منظر

طالبان نے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کی تعلیم، ملازمت اور معاشرتی شرکت پر کئی پابندیاں عائد کیں۔ جولائی 2023 میں کمرشل بیوٹی پارلرز پر پابندی نافذ کی گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں خواتین متاثر ہوئیں۔ اس کے بعد خواتین کے پارکس، جم، این جی اوز میں ملازمت اور دیگر سرگرمیوں پر بھی قدغن لگائی گئی۔ اب گھریلو سطح پر چلنے والے بیوٹی سیلونز پر کارروائی اس پالیسی کو مزید سخت کر رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک معاشی معاملہ نہیں بلکہ خواتین کی سماجی خودمختاری اور موجودگی پر گہری ضرب ہے۔ بیوٹی پارلرز، خاص طور پر گھریلو سیلونز، نہ صرف روزگار کا ذریعہ تھے بلکہ خواتین کے لیے ایک محفوظ سماجی ماحول بھی فراہم کرتے تھے جہاں وہ آزادانہ طور پر بات چیت اور ایک دوسرے کی معاونت کر سکتی تھیں۔ اب اس سہولت کے خاتمے سے معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ خواتین کی سماجی تنہائی میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو افغانستان میں خواتین کے لیے کسی بھی قسم کی معاشی یا سماجی شرکت کا امکان مزید کم ہوتا جائے گا، اور یہ معاشرے کی مجموعی ترقی کے لیے ایک منفی اشارہ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین