پلاسٹک مار دے گا

ہر سال 460 ملین ٹن سے زیادہ پلاسٹک تیار ہوا ہے اور یہ مقدار 2060ء تک 1200 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی

پلاسٹک کی اشیاء ہماری ضرورت بھی ہیں اور قاتل بھی ، اس وقت جنیوا میں 5 اگست سے پلاسٹک کی اشیاء کے استعمال اور انہیں تلف کرنے اور اس ضمن میں ایک جامع پالیسی وضع کرنے پر غور و خوض ہورہا ہے۔ یہ غور و خوض 12 اگست 2025ء تک جاری رہے گا۔ اس ڈسکشن میں 100 ملکوں کے نمائندے شامل ہیں ۔ابتدائی معلومات کے مطابق ہر سال 460 ملین ٹن سے زیادہ پلاسٹک تیار ہوتا ہے اور یہ مقدار 2060ء تک 1200 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ تیار ہونے والے پلاسٹک کی مقدار کا محض 10 فیصد بھی ری سائیکل نہیں ہو پاتا باقی ماندہ استعمال شدہ پلاسٹک لینڈ فلز، زیر زمین پناہ گزین ہو جاتا ہے اور پھر کسی نہ کسی طرح آبی گزر گاہوں، دریائوں،ندی، نالوں اور سمندروں کا حصہ بن کر آبی حیات کے لئے زہر قاتل بن جاتاہے۔

پلاسٹک کی مصنوعات 450 سال تک وجود قائم رکھتی ہیں

پلاسٹک کی مصنوعات 450 سال تک اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہیں۔ پلاسٹک انسانی صحت اور دنیا کے ماحول کے لئے ایک ایسا بڑا خطرہ بن چکا ہے جس کے بارے میں انسان ابھی پوری طرح آگاہ نہیں ہے۔ پلاسٹک کے ساتھ انسانی زندگی کا واسطہ رحم مادر میں ہی پڑ جاتا ہے۔ وہ انسانی ہاتھ جو بچے کو رحم مادر سے باہر نکالتا ہے وہ لیٹکس دستانوں میں ملبوس ہوتا ہے یعنی یہ ہاتھ پلاسٹک میں ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں ۔ پلاسٹک کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی سیارے کے گہرے ترین مقام ’’ماریانا ٹرینچ‘‘ سے لیکر ’’مائونٹ ایورسٹ‘‘ کی چوٹی تک ہر جگہ نظر آئے گا۔

پلاسٹک کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریاں

پلاسٹک کی تخلیق فوسل فیول سے ہوتی ہے۔ فوسل فیول کے صنعتی مراکز سعودی عرب، روس، چین اور ایران میں سب سے زیادہ ہیں۔ ان ملکوں کے ساتھ مل کر ہی کوئی جامع پالیسی بنائی جا سکتی ہے۔ پلاسٹک سے بنی ہوئی اشیاء کی بہتات کی وجہ سے سانس کے مسائل، دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص، ہارمونک تبدیلیاں یہاں تک کہ کینسر کا موذی مرض بھی بڑھ رہا ہے اور ان بیماریوں کے علاج پر دنیا بھر میں ہر سال 5.1 ٹریلین ڈالر کی خطیر رقم خرچ ہورہی ہے۔

ایک چشم کشا تحقیق

فرانس کی یونیورسٹی آف تولوز کی نئی تحقیق کے مطابق انسان اپنی روزمرہ کی زندگی کے دوران تقریباً 70,000سے زائد مائیکروپلاسٹک کے ذرات سانس کے ذریعے اپنے جسم کے اندر لے جاتا ہے۔گاڑیوں کے دھویں (فوسل فیول) کے ذریعے پلاسٹک کے ذرات کا ایک بڑا حصہ ہماری سانس کی نالی کے ذریعے ہمارے جسم میں چلا جاتا ہے۔ تحقیق کے دوران اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سانس کی نالی کے ذریعے جسم کا حصہ بننے والے 94 فیصد ذرات 10 مائیکرو میٹر سے بھی چھوٹے تھے یہ ذرات انسانی پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اندرونی ماحول میں رہنے والا ایک عام بالغ انسان بھی یومیہ مائیکرو پلاسٹک ذرات کی ایک بڑی مقدار سانس کے ذریعے اپنے جسم میں جذب کر رہا ہے۔

پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

اگرچہ پاکستان پلاسٹک آلودگی میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے تاہم اس وقت بھی پاکستان پلاسٹک کے ویسٹ کی وجہ سے سیوریج، ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے لاتعداد مسائل سے دوچار ہوتا چلا جارہا ہے۔ پاکستان کو پلاسٹک کے ویسٹ کے حوالے سے ابھی سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنا ہوگی، غالب امید ہے کہ جنیوا کی حالیہ کانفرنس میں ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر رسپانسبلٹی کے قوانین لاگو ہوں گے اور کاروباری طبقات کیلئے ایکو سرٹیفکیشن ناگزیر ہو جائے گی۔ اس وقت پاکستان میں پلاسٹک کے ویسٹیج کے حوالے سے کوئی واضح قوانین نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی ادارہ اس حوالے سے خدمات انجام دیتے ہوئے نظر آتا ہے، حکومتی پاکستان کو چاہیے کہ وہ پلاسٹک بنانے والوں، درآمد کرنے والوں اور ری سائیکلنگ کے حوالے سے قابل بھروسہ ریکارڈ مرتب کرے۔ پاکستان میں پروڈیوس ہونے والے پلاسٹک کا محض 3 فیصد ری سائیکل ہو پاتا ہے جبکہ صلاحیت 18 فیصد ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عالمی چارٹرز کی روشنی میں ابھی سے اس کے لئے قانون بنائے ،ری سائیکلنگ انڈسٹری کو فنکشنل کرے، ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے ،مختلف مراعات دی جائیں۔ اگر حکومت براہ راست پلاسٹک ویسٹ کو جمع کرنا اور پھر اسے ضائع کرنا چاہے تو شاید اس کا پورا بجٹ بھی ناکافی ثابت ہو لہٰذا انسانی صحت اور ماحول کے تحفظ کے تحت ری سائیکلنگ کی صنعت کو پروموٹ کیا جائے اور پلاسٹک کے استعمال کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ متبادل اشیاء زیر استعمال لائی جائیں۔ انسانی صحت اور ماحول کو بہتر بنانے کے لئے بھرپور توجہ اور کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

صفائی نصف ایمان ہے

حضور نبی اکرم ﷺ نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے یعنی نماز، روزہ، حج ، زکوۃ، صدقات و خیرات ، تہجد ،ایثار، جہاد،صلہ رحمی، عفوو درگزر، مواخات، عدل و انصاف ، صبر و استقامت ،اعتدال ، میانہ روی یہ تمام ایمان کا نصف ہیں اور دوسری طرف فقط صفائی نصف ایمان ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے صفائی کی ضرورت و اہمیت اور فضیلت پر بڑی تاکیدیں فرمائی ہیں۔ انسانی جسم سے لیکر گھر کی صفائی تک کا اسلام نے ایک پورا نظام عطاء کیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سونے سے پہلے اپنے بستر کو اچھی طرح جھاڑ لیں ، کھانے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں، اپنے لباس کو صاف ستھرا رکھیں، اپنے گھر کے اندرونی اور بیرونی ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ اب جب ہم ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے تحقیقات دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺنے الوہی علم کے ذریعے انسانیت کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ فرما دیا تھا۔ انسانی صحت اور ماحول کو برباد کرنے والے عناصر ہمارے آس پاس موجود ہیں اور ان سے بچنے کے لئے صفائی اور احتیاط شافی علاج ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین