بغداد:عراق کے مقدس شہر کربلا میں گزشتہ شب ایک واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن سے کلورین گیس کے اخراج نے لاکھوں شیعہ زائرین کی صحت کو شدید متاثر کیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں 600 سے زائد زائرین کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ وزارت صحت عراق نے بتایا کہ کل 621 افراد اس گیس کے اخراج سے متاثر ہوئے، لیکن تمام مریضوں کو ضروری طبی امداد کے بعد صحت یابی کے ساتھ گھروں کو واپس بھیج دیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات
یہ حادثہ کربلا اور نجف کے درمیانی راستے پر واقع ایک واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں پیش آیا، جو اربعین کے موقع پر زیارت کے لیے آنے والے زائرین کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ ہر سال لاکھوں شیعہ زائرین اس راستے سے گزرتے ہوئے حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں، جہاں وہ امام حسینؓ کی شہادت کی چالیسویں یاد مناتے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے تصدیق کی کہ کلورین گیس کا اخراج واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن سے ہوا، جو پانی کی صفائی کے عمل میں استعمال ہوتی ہے۔
کربلا کے گورنر نصیف الخطابی نے اتوار کی صبح اعلان کیا کہ گیس کے اخراج پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے، اور زائرین کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے عراق کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کیا، جو برسوں سے تنازعات اور بدعنوانی کا شکار ہے۔
بنیادی وجوہات
عراقی سیکیورٹی فورسز نے بتایا کہ یہ گیس لیک واٹر ٹریٹمنٹ اسٹیشن کی ناقص دیکھ بھال اور حفاظتی معیارات کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیش آیا۔ عراق کی بنیادی ڈھانچے کی حالت برسوں سے جاری تنازعات، مالی بدعنوانی، اور ناقص انتظامی پالیسیوں کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہے۔ اس سے قبل جولائی 2025 میں مشرقی شہر کوت کے ایک شاپنگ مال میں آگ لگنے سے 60 سے زائد افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے، جو حفاظتی معیارات کی کمی کی ایک اور مثال ہے۔
اربعین اور زائرین کی اہمیت
اربعین دنیا بھر سے لاکھوں شیعہ زائرین کے لیے ایک عظیم الشان مذہبی اجتماع ہے، جو کربلا میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ زائرین نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں، اور یہ راستہ ان کے لیے روحانی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف زائرین کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ اس مقدس اجتماع کے انعقاد پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔
حکومتی ردعمل
عراقی وزارت صحت نے اس واقعے پر فوری عمل کرتے ہوئے تمام متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی۔ کربلا کے اسپتالوں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوری انتظامات کیے گئے، اور تمام مریض چند گھنٹوں کے اندر صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس چلے گئے۔ کربلا کے گورنر نے زائرین کی حفاظت کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔
تجزیہ
یہ واقعہ عراق کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں اور حفاظتی معیارات کی عدم موجودگی کو واضح کرتا ہے۔ کلورین گیس، جو واٹر ٹریٹمنٹ کے عمل میں ایک عام کیمیکل ہے، اگر مناسب طریقے سے کنٹرول نہ کی جائے تو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ عراق میں برسوں سے جاری تنازعات اور بدعنوانی نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور دیگر سہولیات کی دیکھ بھال کے معیارات انتہائی ناقص ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اربعین جیسے بڑے پیمانے پر اجتماعات کے دوران حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔
پس منظر
عراق میں بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی کی جڑیں 2003 کے امریکی حملے اور اس کے بعد کے تنازعات میں پیوست ہیں، جنہوں نے ملک کی معیشت اور سہولیات کو شدید متاثر کیا۔ بدعنوانی اور ناقص گورننس نے اس صورت حال کو مزید خراب کیا ہے، جس کی وجہ سے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، بجلی گھر، اور دیگر اہم تنصیبات کی دیکھ بھال پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ اربعین کے موقع پر زائرین کی بڑی تعداد ملک کے وسائل پر دباؤ ڈالتی ہے، اور اس طرح کے واقعات حفاظتی اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
کربلا میں کلورین گیس کے اخراج کا یہ واقعہ ایک سنگین انتباہ ہے کہ عراق کو اپنے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس اور دیگر تنصیبات کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ، اربعین جیسے بڑے اجتماعات کے دوران ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ زائرین کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔





















