لاہور:پاکستان میں زراعت شماری رپورٹ 2024 نے گدھوں کی آبادی کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں، جن کے مطابق ملک بھر میں گدھوں کی مجموعی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس رپورٹ میں صوبائی سطح پر گدھوں کی تعداد کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب گدھوں کی تعداد کے لحاظ سے تمام صوبوں سے آگے ہے، جب کہ بلوچستان سب سے کم تعداد کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔
صوبائی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق، پنجاب میں گدھوں کی تعداد 24 لاکھ 3 ہزار ہے، جو ملک کے دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔ سندھ 10 لاکھ 81 ہزار گدھوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جب کہ خیبرپختونخوا 7 لاکھ 82 ہزار گدھوں کے ساتھ تیسرے درجے پر ہے۔ بلوچستان میں گدھوں کی تعداد 6 لاکھ 30 ہزار ریکارڈ کی گئی، جو دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گدھوں کی تعداد صرف 4 ہزار ہے۔
پنجاب کی گدھوں کی تعداد دیگر صوبوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ بلوچستان سے 17 لاکھ 73 ہزار، خیبرپختونخوا سے 16 لاکھ 21 ہزار، اور سندھ سے 13 لاکھ 22 ہزار گدھوں کے فرق کے ساتھ سرفہرست ہے۔
معاشی اہمیت
گدھوں کی تعداد میں اضافہ پاکستان کی دیہی معیشت میں ان کی کلیدی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ گدھے چھوٹے پیمانے پر زراعت، سامان کی نقل و حمل، اور دیگر دیہی سرگرمیوں کے لیے ایک سستا اور قابل اعتماد ذریعہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے جدید ذرائع کی کمی کی وجہ سے گدھوں پر انحصار بڑھ رہا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے۔
برآمدی امکانات
رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ دو چینی کمپنیوں نے پاکستان سے گدھوں کا گوشت اور اس کی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔ اگر یہ درخواستیں منظور ہو جاتی ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک نیا برآمدی ذریعہ بن سکتا ہے۔ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے مطابق، ان درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور سخت ضابطوں کے ساتھ اس عمل کو منظم کرنے کی ضرورت ہوگی۔
یہ اعداد و شمار پاکستان کی زرعی معیشت کے ڈھانچے اور دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو اجاگر کرتے ہیں۔ پنجاب، جو زراعت کا مرکز ہے، میں گدھوں کی زیادہ تعداد اس صوبے کی زرعی سرگرمیوں کی کثرت کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب، بلوچستان کی کم تعداد اس کے کم آبادی والے دیہی علاقوں اور مختلف مویشیوں کے استعمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔۔
پس منظر
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی زراعت شماری رپورٹ ہر چند سال بعد جاری کی جاتی ہے، جو مویشیوں، فصلوں، اور زرعی زمینوں کے اعداد و شمار پر روشنی ڈالتی ہے۔ گزشتہ رپورٹس کے مطابق، گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو 2019-20 میں 55 لاکھ، 2020-21 میں 56 لاکھ، 2021-22 میں 57 لاکھ، اور 2022-23 میں 58 لاکھ تھی۔ 2024 کی رپورٹ میں یہ تعداد 59 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو دیہی معیشت میں گدھوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
پاکستان میں گدھوں کی گنتی کے اعداد و شمار زرعی معیشت کی ایک منفرد تصویر پیش کرتے ہیں۔ پنجاب کی برتری اور بلوچستان کی کم تعداد علاقائی معاشی تفاوت کو واضح کرتی ہے۔ گدھوں کے گوشت کی برآمد کا امکان ایک نیا معاشی موقع ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے سخت ضابطہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی ضرورت ہے۔ دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانے سے گدھوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے، جو طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔





















