پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون کے ساتویں اسپیل کی پیش گوئی کرتے ہوئے صوبے کے بڑے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں ممکنہ سیلاب کے خطرے سے متعلق ایک فلڈ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ یہ اسپیل 13 اگست سے شروع ہونے کا امکان ہے، جو دریائے ستلج، راوی، چناب، جہلم اور ان کے ملحقہ واٹر کورسز میں پانی کی سطح میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
ایڈوائزری کی تفصیلات
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے اس اسپیل کے دوران پنجاب کے بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں، صوبائی سطح پر تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ لوکل گورنمنٹ، زراعت، آبپاشی، صحت، جنگلات، لائیو اسٹاک اور ٹرانسپورٹ کے محکموں کو پیشگی تیاریوں کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے۔
حکومتی ہدایات
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کو فوری تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ:
ایمرجنسی کنٹرول رومز میں 24 گھنٹے عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیمیں ہر وقت ہائی الرٹ پر رہیں۔
دریاؤں کے کناروں پر واقع رہائشی علاقوں اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
عوام کو تازہ ترین موسمی حالات سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا جائے۔
عوام کے لیے ہدایات
عرفان علی کاٹھیا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ:
دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں میں نہانے سے مکمل گریز کیا جائے۔
ہنگامی انخلا کی صورت میں انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔
کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کیا جائے۔
یہ ایڈوائزری پنجاب کے لیے ایک اہم انتباہ ہے، کیونکہ مون سون کا موسم پاکستان میں اکثر سیلابی صورت حال کا باعث بنتا ہے۔ پنجاب کے بڑے دریا زرعی زمینوں اور رہائشی علاقوں کے لیے اہم ہیں، لیکن شدید بارشوں کے نتیجے میں یہ خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی پیشگی تیاریاں، جیسے کہ کنٹرول رومز کی دستیابی اور ریسکیو ٹیموں کا الرٹ، نقصانات کو کم کرنے کی ایک کوشش ہیں۔ تاہم، دیہی علاقوں میں انخلا کے عمل کو موثر بنانے کے لیے مقامی وسائل اور رابطہ کاری کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
پس منظر
پاکستان میں مون سون کا موسم جون سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، اور اس دوران شدید بارشوں سے دریاؤں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بالائی علاقوں سے آنے والے بہاؤ پر منحصر ہوتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں، خاص طور پر 2022 کے سیلاب نے پاکستان بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے۔ پی ڈی ایم اے نے حالیہ برسوں میں اپنے انتباہی نظام کو بہتر بنایا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں نے چیلنجز کو بڑھا دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کی فلڈ ایڈوائزری ممکنہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک بروقت اقدام ہے۔ اس کے کامیاب نفاذ کے لیے مقامی سطح پر موثر رابطہ کاری اور وسائل کی دستیابی ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور ہنگامی حالات میں حکومتی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر، طویل مدتی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے بچا جا سکے۔





















